03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
عشر میں تملیک کا بیان
91903زکوة کابیانعشر اور خراج کے احکام

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین کہ ایک شخص کمانے والا اکیلا ہے اور اس کی اولاد دینی مدارس میں مصروف تعلیم ہے ۔وہ ٹھیکے پر فصل  کاشت کرتا  ہے۔ اس  صورت ِحال میں درج ذیل سوالات کے جوابات درکار ہیں ۔

1 ۔کیا ایسا شخص فصل کی آمدنی سے عشر  کی تملیک  کر کے اپنی اولاد کو دے سکتا ہے ؟2۔یا تملیک  کیے بغیر بھی دے سکتا ہے ،کیونکہ اس کی اولاد  دینی تعلیم میں مصروف ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

1۔ صورت مسئولہ  میں بغیر مجبوری اور ضرورت کے حیلہ تملیک کرنا جائز نہیں ۔تاہم اگرشدید ضرورت ہواور مالی وسعت نہ ہو ،تو عشر کی رقم    ایسے شخص کو دی جائے  جو صاحب نصاب نہ ہو  اور اسے رقم کا مکمل      مالک بنادیا جائے ۔ اس سے  عشر ادا ہوجائے گا ۔بعد میں    اگر وہ    شخص اپنی مرضی  سے  یا کسی کی ترغیب سے یہ رقم   عشر ادا کرنے والے کی   اولاد  کو دے دے،  تو   ان کے لیے اس کے   استعمال  کی گنجائش ہوگی  ۔اگر نہ دے تو  اس پر جبر نہیں کیا جا سکتا ۔

2۔تملیک کروائے  بغیر اولاد  کو  عشر کی رقم نہیں دی جاسکتی ۔ اگر  اولاد کو دے دی ،تو عشر ادا نہیں ہوگا  ۔ بلکہ بدستور ذمہ میں باقی  رہے گا ۔

حوالہ جات

مجمع الأنهر في شرح ملتقى الأبحر (1/ 222):

 (ولا تدفع) الزكاة (لبناء مسجد) ؛ لأن التمليك شرط فيها ولم يوجد وكذا بناء القناطير وإصلاح الطرقات وكري الأنهار والحج والجهاد وكل ما لا يتملك فيه، وإن أريد الصرف إلى هذه الوجوه صرف إلى فقير ثم يأمر بالصرف إليها فيثاب المزكي والفقير ۔ ۔۔۔ الخ

مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح  (4/ 1303):

قال الطيبي: إذا تصدق على المحتاج بشيء ملكه فله أن يهدي به إلى غيره اهـ وهو معنى قول ابن الملك: فيحل التصدق على من حرم عليه بطريق الهدية وهذه هي المسألة الثالثة (متفق عليه) قال ميرك: هذا لفظ مسلم ورواه البخاري مقطعا.

درر الحكام شرح غرر الأحكام» (1/ 189):

 (لا إلى بناء مسجد) أي لا يجوز أن يبني بالزكاة مسجدا؛ لأن التمليك شرط فيها ولم يوجد وكذا بناء القناطير وإصلاح الطرقات وكري الأنهار والحج والجهاد وكل ما لا تمليك فيه.

حنبل اکرم

دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی

   25  /ربیع الاول    /1448ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

حنبل اکرم بن محمد اکرم

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب