| 92084 | جائز و ناجائزامور کا بیان | خواب اور کشف کا بیان |
سوال
آج سے تقریباً بیس دن پہلے مجھے ایک انتہائی بابرکت خواب آیا۔خواب میں، میں کسی کے سامنے کھڑا ہوں اور مجھے بلا شک و شبہ سو فیصد یقین ہے اور میں بغیر کسی کے بتائے خود جانتا ہوں کہ وہ ہستی حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ اچانک وہاں ایک شخص ظاہر ہوتا ہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس کا ہاتھ چومتے ہیں۔ اس منظر کو دیکھ کر محبت اور عقیدت کی شدت سے میرے دل میں خیال آیا کہ میں بھی اسی شخص کا ہاتھ چوم لوں (حالانکہ اس وقت میرے ذہن میں یہ خیال نہیں آیا کہ میں خود حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ہاتھ چوموں)۔ چنانچہ میں محبت و عقیدت میں اسی شخص کا ہاتھ چومتا ہوں، اسے اپنے سینے سے لگاتا ہوں اور اپنے کپڑوں سے لگاتا ہوں۔ اس دوران مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شکلِ مبارک، چہرہ، چہرے کے نقوش، تاثرات، اور جسمانی حالت (قد، جسامت اور داڑھی مبارک) بالکل واضح نظر آ رہی ہوتی ہے۔ اسی خواب کے دوسرے حصے میں، میں کسی ایسی جگہ کھڑا ہوں جہاں مجھے نہ تو وقت کا کوئی اندازہ ہے (کہ دن ہے، شام ہے یا دوپہر ہے) اور نہ ہی یہ معلوم ہے کہ کون سا دور چل رہا ہے (حضور کا دور ہے، اب کا دور ہے یا کوئی اور دور)۔ اس حصے میں نہ تو میں ایک لفظ بولتا ہوں اور نہ ہی وہاں موجود کوئی دوسرا شخص کچھ کہتا ہے۔ اتنے میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لاتے ہیں، جن کا حلیہ مجھے ویسے ہی واضح نظر آ رہا ہوتا ہے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم آ کر میرا ہاتھ چومتے ہیں۔ اس وقت بھی میرے ذہن میں یہ خیال نہیں آتا کہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہاتھ چوموں۔ اس کے بعد وہی پہلا شخص اچانک دوبارہ ظاہر ہوتا ہے اور اپنا ہاتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے آگے کرتا ہے کہ حضور اس کا ہاتھ چومیں، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ہتھیلی سیدھی کر کے ہاتھ کے اشارے سے اسے منع فرما دیتے ہیں کہ "رک جاؤ"، اور وہ شخص وہاں سے چلا جاتا ہے اور نظر نہیں آتا۔ اس کے بعد مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ میں کسی پریشانی یا کسی جان لیوا مرض میں مبتلا ہوں۔ تب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم میری طرف تشریف لاتے ہیں اور مجھے اس شدت اور محبت سے گلے لگاتے ہیں کہ اس سے میرا دل ٹھنڈا ہو جاتا ہے، میرا سینہ بھر جاتا ہے، اور مجھے شدید سکون مل جاتا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے ماتھے اور رخساروں کو آٹھ سے دس بار پیار سے چوما، اور اس دوران ہم نے ایک دوسرے کو گلے لگایا ہوا تھا (سینے سے سینہ ملا ہوا تھا) اور جواب میں میں نے بھی محبت و عقیدت کا اظہار کرتے ہوئے چار سے پانچ بار آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے پر بوسہ دیا، جس کے بعد خواب ختم ہو گیا۔ جب میں صبح بیدار ہوا اور مجھے یہ مبارک خواب یاد رہا، تو میں نے شکرانے کے طور پر فوراً دو نفل ادا کیے، اپنی استطاعت کے مطابق صدقہ دیا، اور معمول کے درود شریف کی مقدار میں بھی اضافہ کر دیا۔ جب میں نے بیدار ہو کر اس پورے معاملے پر غور کیا تو میں نے سوچا کہ میں نے تو کبھی اس کی تمنا یا خواہش بھی نہیں کی تھی، کیونکہ میں اپنے گناہوں سے اتنا آلودہ ہوں کہ کبھی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ خاتم النبیین اور رحمۃ للعالمین صلی اللہ علیہ وسلم (جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا رَحْمَةً لِلْعَالَمِينَ) مجھ جیسے گناہ گار کے خواب میں تشریف لائیں گے۔ اس خواب کے حوالے سے شریعت اور علماء کی روشنی میں اس کی کیا تعبیر اور حیثیت ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
صحیحین کی روایات میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد متعدد اور مختلف الفاظ میں مروی ہے۔ اس کا مفہوم یہ ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’جس نے مجھے خواب میں دیکھا، اس نے مجھے ہی دیکھا؛ کیونکہ شیطان میری صورت میں نہیں آ سکتا۔‘‘لہٰذا اگر آپ کو واقعہ پوری طرح یاد ہو اور دل میں اس پر اطمینان و یقین بھی ہو کہ آپ نے آپ ﷺ کو دیکھا ہے، تو ایسی زیارت برحق اور سچی ہوتی ہے، خواہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت اس مبارک حلیے میں ہو جو احادیث میں منقول ہے، یا کسی اور صورت میں؛ دونوں صورتوں میں یہ درحقیقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی کی زیارت شمار کی جائے گی، کیونکہ شیطان آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی صورت اختیار نہیں کر سکتا۔لہٰذا اگر واقعہ حقیقت پر مبنی ہے تو یہ آپ کے لیے سعادت مندی اور نیک بختی کی علامت ہے۔ تاہم ایسے خوابوں کی وجہ سے خود فریبی کا شکار ہو کر عمل سے غافل ہونا، یا جگہ جگہ اسے بیان کرکے ستائش کا طلب گار ہونا درست نہیں ہوگا۔ ہاں اس کے شکرانے کے طور پر آپ کو مزید آپ ﷺ کی سنتوں کی کامل اتباع کی پابندی کرنی چاہیے۔
حوالہ جات
«صحيح البخاري» (9/ 33):
عن أبي سعيد الخدري : سمع النبي صلى الله عليه وسلم يقول: من رآني فقد رأى الحق، فإن الشيطان لا يتكونني.
«صحيح مسلم» (7/ 54):
عن جابر أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: « من رآني في النوم فقد رآني، إنه لا ينبغي للشيطان أن يتمثل في صورتي. وقال: إذا حلم أحدكم فلا يخبر أحدا بتلعب الشيطان به في المنام .
حنبل اکرم
دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی
08/ربیع الثانی /1448ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | حنبل اکرم بن محمد اکرم | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


