03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
قرض کی ادائیگی میں تاخیر پر اضافی رقم و اخراجات کے مطالبہ کا حکم
90714خرید و فروخت کے احکامقرض اور دین سے متعلق مسائل

سوال

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!گزارش ہے کہ درج ذیل مسئلے کی شرعی حیثیت بیان فرما کر عند اللہ ماجور ہوں:میں ایک کنٹریکٹر ہوں اور میرے کلائنٹ نے گزشتہ دو سال سے میرے کیے گئے کام کے منظور شدہ (Approved) واجبات بغیر کسی جائز وجہ کے روک رکھے ہیں۔ میں جاننا چاہتا ہوں کہ تصفیہ (Settlement) کے وقت کیا میں درج ذیل کلیمز (Claims) کر سکتا ہوں؟ نیز براہ کرم یہ بھی بتائیں کہ اسلامی شریعت کی رو سے یہ کلیمز (Claims) جائز اور حلال ہیں یا نہیں؟

​)Idle Laborغیر فعال مزدوری)، مشینری، عملے کی تنخواہوں، انتظامی اخراجات اور اوور ہیڈز (Overheadsبالواسطہ اخراجات ) کا کلیم۔

​کلائنٹ کی بروقت ادائیگی نہ کرنے کی وجہ سے سرمایہ دستیاب نہ ہونے کے باعث نئے منصوبے حاصل نہ کر سکنے اور کاروباری مواقع ضائع ہونے (Opportunity Loss) کا کلیم۔

​یاد رہے کہ معاہدے پر دستخط کے وقت فریقین کے درمیان یہ باہمی اتفاق بھی ہوا تھا اور کنسٹرکشن فیلڈ میں بھی عموماً ایسا ہی ہوتا ہے کہ اگر کلائنٹ مقررہ وقت پر ادائیگی کرنے میں ناکام رہتا ہے تو وہ کنٹریکٹر کو بطور جرمانہ (Penalty) یا تاخیر کے معاوضے کے کچھ اضافی رقم ادا کرے گا۔اس صورت میں، کیا کنٹریکٹر کے لیے اس جرمانے یا تاخیر کے معاوضے کا مطالبہ کرنا شرعاً جائز (حلال) ہے یا ناجائز (حرام)؟   براہ کرم قرآن وسنت، اور معاصر علماء ومفتیان کرام کی آراء کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں۔ جزاکم اللہ خیرا

تنقیح: سائل سے رابطہ کرنے پر معلوم ہوا کہ اس معاہدے میں مٹیریل اور محنت دونوں ہماری)صانع)  طرف سے تھے ۔ اور کام فائنل ہونے کے بعد تین ہفتوں تک کلائنٹ نے ہمیں پیمنٹ کرنی تھی ۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

یاد رہے کہ کلائنٹ اور آپ کے درمیان جو معاہدہ ہوا تھا وہ" بیع الاستصناع" کہلاتا ہے ۔ اس معاہدے کو پورا کرنے پر کلائنٹ کے ذمہ جو رقم واجب ہوئی وہ قرض ہے ۔ قرض پر اضافی رقم لینا یا معاہدے میں اس کی ادائیگی کی  تاخیر پر اضافی رقم کی شرط لگانا دونوں ناجائز ہیں ۔ قرض کی ادائیگی کوبر وقت یقینی بنانے کیلئے شریعت میں جائز ضمانتی معاہدوں ( رہن ، کفالت ، وعدہ وغیرہ) کو اختیار کرنا چاہیے ۔

لہٰذا سوال میں مذکورہ تمام اخراجات کی مد میں آپ کیلئےتاخیر کی وجہ سے  کلائنٹ سے اضافی رقم لینا جائز نہیں ہے ۔ البتہ کلائنٹ کا  بغیر کسی شرعی عذر کے ادائیگی میں تاخیر کرنا ظلم اور گناہ ہے ۔

 

حوالہ جات

«صحيح البخاري» (2/ 412 بترقيم الشاملة آليا):

2400 - حدَّثنا مُسَدَّدٌ: حدَّثنا عَبْدُ الأَعْلَى، عن مَعْمَرٍ، عن هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ، أَخِي وَهْبِ بْنِ مُنَبِّهٍ:أَنَّهُ سَمِعَ أَبا هُرَيْرَةَ رضي الله عنه يَقُولُ: قالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم: «مَطْلُ الغَنِيِّ ظُلْمٌ».

«حاشية ابن عابدين = رد المحتار - ط الحلبي» (5/ 166):

«قوله كل قرض جر نفعا حرام) أي إذا كان مشروطا كما علم مما نقله عن البحر، وعن الخلاصة وفي الذخيرة وإن لم يكن النفع مشروطا في القرض، فعلى قول الكرخي لا بأس به ويأتي تمامه»

«البحر الرائق شرح كنز الدقائق ومنحة الخالق وتكملة الطوري» (5/ 44):

«والحاصل أن المذهب عدم التعزير بأخذ المال، وأما التعزير بالشتم فلم أره إلا في المجتبى قال وفي شرح أبي اليسر التعزير بالشتم مشروع ولكن بعد أن لا يكون قاذفا اهـ.»

المعايير الشرعييه(معيار رقم ١١ )

لا يجوز زيادة الثمن لتمديد أجل السداد. أما تخفيض الثمن عند تعجيل السداد فيجوز إذا كان غير مشترط في العقد.

عبدالغفاربن غلام اکبر

دارالافتاء جامعۃ الرشیدکراچی

٣١/ذي الحجہ /١٤٤٧ 

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

عبدالغفار بن غلام اکبر

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب