03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
خاتون کی تجارت کا حکم
92435خرید و فروخت کے احکامخرید و فروخت کے جدید اور متفرق مسائل

سوال

میری والدہ صاحبہ کپڑوں کی تجارت کرتی ہیں ۔اس کی نوعیت کچھ یوں ہے کہ وہ بازار خود جاتی ہیں  او ربازار سے کپڑے خرید کر انہیں آگے فروخت کر دیتی ہیں ۔اب اس میں غیر محرم سے ہم کلامی اور بازار میں چلنا پھرنا وغیرہ  شامل ہے۔ میں نے والدہ صاحبہ سے گزارش کی کہ آپ اس کاروبار کو چھوڑ دیں ،مگر انہوں نے انکار کیا اور فرمانے لگی کہ میں اس کاروبار سے بہت سارے صدقات وغیرہ بھی کر دیتی ہوں ،غریبوں کی مدد بھی کرتی ہوں اور اپنے ہاتھوں سے بہت سارے دیگر نیک اعمال کر رہی ہوں ، تومیں اس کو کیوں چھوڑدوں ۔

.1 اب مجھے یہ رہنمائی فرما دیں کہ عورت کی تجارت کا شریعت میں کیا حکم ہے اور اس  کی تجارت کن اصولوں کے تحت ہونی چاہیے ؟

.2 کیا میری والدہ صاحبہ کی اسی طرح کی تجارت درست ہے یا نہیں؟  اگر درست نہیں ہے تو پھر اس کو کس طرح شریعت کے مطابق کیا جائے اور میں اپنی والدہ کو کیسے سمجھاؤں، کیا طریقہ کار اپناؤ ں ؟ ان سارے سوالات کے تفصیلی جواب درکار ہیں۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

اگر آپ کی والدہ مکمل شرعی پردہ کے اہتمام کے ساتھ بازار جاتی ہیں ، وہاں غیر محرم مردوں کے ساتھ بے جا اختلاط سے پرہیز کرتی ہیں اور خرید و فرخت کے وقت دکانداروں سے بقدر ضرورت گفتگو کرتی ہیں ، تو اس صورت میں ان کی یہ تجارت درست اور جائز ہے ۔ اگر مذکورہ بالا شرعی امور کا اہتمام کیے بغیر وہ بازار جاتی ہیں تو یہ خلاف شرع ہے ۔

اگر آپ(بیٹا) یا گھر میں موجود دیگر کوئی ان کا محرم ، جو انہیں گھر پہ ہی کپڑے لا کردے سکتا ہو اور لادے ،اور وہ گھر پہ ہی خواتین سے (یا محرم کے واسطے مردوں سے بھی) تجارت کریں تو یہ اور زیادہ بہتر ہوگا ۔

حوالہ جات

«صحيح مسلم» (7/ 144):

101 - (2452) حدثنا محمود بن غيلان أبو أحمد ، حدثنا الفضل بن موسى السيناني ، أخبرنا طلحة بن يحيى بن طلحة ، عن عائشة بنت طلحة ، عن عائشة أم المؤمنين قالت: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: « أسرعكن لحاقا بي أطولكن يدا. قالت: فكن يتطاولن أيتهن أطول يدا. قالت: فكانت أطولنا يدا زينب؛ لأنها كانت تعمل بيدها وتصدق ».

«البحر الرائق شرح كنز الدقائق ومنحة الخالق وتكملة الطوري» (5/ 282):

قال الشمني - رحمه الله تعالى -، وقد صح عند أصحاب السير أن «النبي صلى الله عليه وسلم اتجر لخديجة - رضي الله تعالى عنها -» لكن قبل البعثة بخمسة عشر سنة، فإنه بعث على رأس الأربعين وخرج تاجرا إلى الشام لخديجة - رضي الله تعالى عنها - لما بلغ خمسا وعشرين سنة قبل أن يتزوجها بشهرين وخمسة»۔

«الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهندية» (5/ 350):

«الصبر على الفقر أفضل من الشكر على الغنى، الامتناع من الكسب أولى من الاشتغال به على قصد الإنفاق على وجوه الخير كذا في السراجية.»

عبدالغفار بن غلام اکبر

دارالافتاء جامعتہ الرشید کراچی

23/ربیع الثانی/1448

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

عبدالغفار بن غلام اکبر

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب