03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
میوچل فنڈز میں سرمایہ کاری کا شرعی حکم
92303سود اور جوے کے مسائلمختلف بینکوں اور جدید مالیاتی اداروں کے سود سے متعلق مسائل کا بیان

سوال

 میں مدرسہ کا طالب علم ہوں۔ میزان بینک کے میوچل فنڈز (Al Meezan Investments) جیسے کہ میزان کیش فنڈ میں کچھ رقم رکھ کر منافع حاصل کرنا چاہتا ہوں۔ شرعی رہنمائی فرمائیں کہ کیا میرے لیے ان فنڈز میں رقم لگانا اور ان کا منافع حاصل کرنا شرعاً حلال و جائز ہے؟ نیز اس طرح کے جدید مالیاتی عقود کے تمام شرعی اصول اور احتیاطیں تفصیلاً عالمانہ اور مفصل جواب میں تحریر فرما دیں۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

المیزان انویسٹمنٹ  (Al Meezan Investments)ادارہ مستند مفتیانِ کرام کے زیر نگرانی کام کرتا ہے،اس لئے اس میں سرمایہ کاری کے ذریعے حاصل ہونے والا نفع جائز و حلال ہے۔

میوچل فنڈز دو طرح کے ہیں۔ ایک کنوینشنل اور دوسرے اسلامک۔ چونکہ کنوینشنل میوچل فنڈز جائز اور ناجائز دونوں طرح کے کاروبا رمیں انویسٹمنٹ کرتے ہیں، لہذا ان میں سرمایہ انویسٹ کرنا جائز نہیں۔ البتہ وہ اسلامک میوچل فنڈز جن کا باقاعدہ شریعہ بورڈ ہے، اور مستند مفتیان کرام کی نگرانی میں کام کرتے ہیں ان میں سرمایہ انویسٹ کرنا جائز ہے۔

سرمایہ کاری کے دیگر جدید مالیاتی عقود چونکہ بہت زیادہ ہیں اور  ہر ایک کے جواز اور عدم جواز کی متعدد صورتیں ہوتی ہیں ،اس لئے  ان سب کےتمام اصول  اور احتیاطوں  کو  ایک ساتھ احاطہ تحریر میں نہیں لایا جاسکتا ۔ نئے پیش آمدہ عمومی و جدید مسائل کا ادارے کی اسی ویب سائٹ Al Mufti Online  پر مطالعہ کیا جاسکتا ہے ، اگر کسی مخصوص مسئلہ پر رہنمائی چاہئے ہوتو وہ بھی مذکورہ ویب سائٹ کے ذ ریعے آن لائن پوچھا جاسکتا ہے ۔

حوالہ جات

﴿أَحَلَّ الله البيع وَحَرَّمَ الربا﴾ )البقرة : 275.

«البناية شرح الهداية» (8/ 260):

«وفي " المبسوط ": الربا فضل خال عن العوض المشروط في البيع. وقال علماؤنا: هو نوع بيع فيه فضل مستحق لأحد المتعاقدين خال عما يقابله من عوض شرط في هذا العقد، وعلى هذا سائر أنواع البيوع الفاسدة من قبيل الربا، وفي جميع المعلوم الربا شرعا عبارة عن عقد فاسد وإن لم يكن زيادة.»

«تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق وحاشية الشلبي» (4/ 131):

«لأن الشروط الفاسدة من باب الربا، وهو يختص بالمعاوضة المالية دون غيرها من المعاوضات والتبرعات؛ لأن الربا هو الفضل الخالي عن العوض وحقيقة الشروط الفاسدة هي زيادة ما لا يقتضيه العقد ولا يلائمه فيكون فيه فضل خال عن العوض،»

عبدالغفار بن غلام اکبر

دارالافتاء جامعتہ الرشید کراچی

16/ربیع الثانی/1448

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

عبدالغفار بن غلام اکبر

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب