03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
بستی (بانڈہ ) میں نماز جمعہ کی ادائیگی کا شرعی حکم
92113نماز کا بیانجمعہ و عیدین کے مسائل

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام و علمائے عظام اس مسئلے کے بارے میں کہ: ہمارا ایک گاؤں ہے جو عرفِ عام میں "بانڈہ" کہلاتا ہے۔ اس بستی کے معروضات اور شرعی حالات درج ذیل ہیں:

آبادی کی تفصیل: بستی میں تقریباً ۴۰ گھر ہیں اور کل آبادی (مرد، خواتین اور بچے ملا کر) ۲۵۲ افراد پر مشتمل ہے۔

بالغ مردوں کی تعداد: بستی میں بالغ مردوں کی کل تعداد ۴۰ ہے، لیکن ان میں سے کچھ افراد روزگار و دیگر وجوہات کی بنا پر بیرونِ ملک یا بیرونِ شہر مقیم ہیں۔ بالعموم بستی میں حاضر و موجود بالغ مردوں کی تعداد ۳۰ سے ۳۱   ہوتی ہے۔

جمعہ کا سابقہ معمول: اس بستی میں گزشتہ ۱۳ تا ۱۴ سال سے باقاعدگی کے ساتھ باجماعت نمازِ جمعہ ادا کی جا رہی ہے اور اب تک یہی معمول چلا آ رہا ہے۔

مسجد اور پنجگانہ نمازیں: بستی میں پورے گاؤں کے لیے ایک ہی مسجد ہے۔ ظہر، عصر، مغرب اور عشاء میں عموماً ۱۰ سے ۱۵ یا اس سے زائد افراد کی جماعت ہوتی ہے۔ البتہ فجر میں کبھی کبھار ایسی صورت پیش آتی ہے کہ امام کے علاوہ کوئی مقتدی موجود نہیں ہوتا۔

سہولیات اور بازار: گاؤں میں ایک پرائمری اسکول اور ایک عمومی دکان موجود ہے، لیکن روزمرہ کی تمام اشیائے ضرورت وہاں دستیاب نہیں ہیں۔ مستقل بازار موجود نہیں ہے اور سامان کی خرید و فروخت کے لیے ۳ سے ۴ کلومیٹر دور مرکزی بازار جانا پڑتا ہے۔

موجودہ نزاع اور صورتِ حال: گزشتہ جمعہ کو اسی شرعی جواز (شرائطِ وجوب و ادا) کے معاملے پر اہلِ بستی میں اختلاف ہوا، جس کی وجہ سے جمعہ ادا نہیں کیا گیا۔ اس صورتِ حال سے بستی میں شدید انتشار اور باہمی رنجش کا اندیشہ پیدا ہو چکا ہے۔

سوالات و امورِ استفسار: لہٰذا فقہِ حنفی اور معتبر فتاویٰ کی روشنی میں درج ذیل امور کی وضاحت فرمائیں:

۱۔ کیا مذکورہ بستی (۴۰ گھر، ۲۵۲ افراد، ایک اسکول اور ایک دکان) فقہِ حنفی کے مطابق شرعاً "مصر" یا "قریۂ کبیرہ" (بڑا گاؤں) کے حکم میں داخل ہے، جبکہ بنیادی بازار ۳ سے ۴ کلومیٹر دور ہے؟ اور کیا یہاں نمازِ جمعہ قائم کرنا درست ہے؟

۲۔ بیرونِ ملک یا بستی سے باہر مقیم بالغ افراد کو جمعہ کے لیے مطلوبہ تعداد میں شمار کیا جائے گا یا نہیں؟ نیز موجودہ ۳۰-۳۱ حاضر بالغ افراد کی تعداد جمعہ کے قیام کے لیے کافی ہے؟

۳۔  فجر کی جماعت میں کبھی کبھار افراد کم ہونے یا نہ ہونے کا جمعہ کے جواز پر کوئی شرعی اثر پڑتا ہے؟

۴۔ اگر بالفرض اس بستی میں مصر یا قریۂ کبیرہ کی شرط کے حوالے سے تردد یا اختلاف ہو، تو کیا جمعہ کے بعد "الاحتیاط للظہر" (احتیاطی ظہر) ادا کی جا سکتی ہے؟ نیز کتبِ فقہ و فتاویٰ کی روشنی میں یہ وضاحت فرمائیں کہ احتیاطی ظہر پڑھنے کا حکم عام عوام کے لیے ہے یا صرف خواص (علماء/اہلِ علم) کے لیے؟ اور اس کی نیت و طریقہ کیا ہوگا؟

۵۔ اگر اس بستی میں جمعہ کے انعقاد میں شکوک و شبہات ہوں، تو گزشتہ ۱۳-۱۴ سال کے پڑھے گئے جمعوں کا کیا حکم ہے؟ اور آئندہ کے لیے بستی والوں کو کیا طریقہ اختیار کرنا چاہیے؟

۶۔ بستی کو انتشار اور فساد سے بچانے کے لیے آئندہ کے لیے کیا حکمتِ عملی اختیار کی جائے، تاکہ شرعی حکم پر عمل بھی ہو اور مسلمانوں کے درمیان یکجہتی بھی قائم رہے؟  بینوا توجروا (دلائل و جزئیات کے ساتھ رہنمائی فرما کر ماجور ہوں)۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

بستی کے مندرجہ بالا   احوال کے جائزے  کے روشنی میں تمام سوالات کے جوابات بالترتیب ملاحظہ ہوں :

(1)- فقہاء کے نزدیک کسی جگہ کو شرعاً "قریۂ کبیرہ" یا قصبہ قرار دینے کے لیے درج ذیل علامات کا پایا جانا ضروری ہے:

  • وہاں کی آبادی اتنی زیادہ ہو کہ اگر تمام مکلفین بستی کی سب سے بڑی مسجد میں جمع ہو جائیں تو وہ مسجد ان کے لیے ناکافی ہو جائے"
  •   وہاں باقاعدہ گلی کوچے، محلے اور ایک مستقل بازار موجود ہو جہاں روزمرہ کی بنیادی ضروریاتِ زندگی (غلہ، کپڑا، گوشت، ادویات وغیرہ) ہمیشہ دستیاب ہوں اور لوگوں کو ان کے لیے دوسری بستیوں کا رخ نہ کرنا پڑے۔
  •    وہاں باہمی تنازعات کے تصفیے کے لیے کوئی انتظامی یا پنچایتی نظام موجود ہو۔

آپ کی بستی "بانڈہ" کے جو کوائف بیان کیے گئے ہیں (۴۰ گھر، ۲۵۲ افراد پر مشتمل کل آبادی، محض ایک پرائمری اسکول، ایک ہی دکان اور مستقل بازار کا ۳ سے ۴ کلومیٹر دور ہونا) اس کے مطابق یہ بستی شرعاً "قریۂ صغیرہ" (چھوٹا گاؤں) کے حکم میں داخل ہے ۔ یہاں قریۂ کبیرہ کی شرائط مفقود ہیں. لہذا، فقہِ حنفی کے مطابق اس بستی میں نمازِ جمعہ کا قائم کرنا شرعاً درست نہیں ہے   ۔ یہاں کے لوگوں پر جمعہ کے روز ظہر کی نماز باجماعت ادا کرنا لازم ہے۔

(2)-جمعہ کے وجوب اور آبادی کا جائزہ لیتے وقت صرف بستی میں مقیم و حاضر باشندوں کو ہی شمار کیا جائے گا۔ بیرونِ ملک یا بیرونِ شہر مقیم افراد چونکہ بستی میں حاضر و موجود نہیں ہیں، اس لیے ان کو حاضری کی تعداد میں شمار نہیں کیا جائے گا۔

 اسی طرح    بستی میں حاضر ۳۰ سے ۳۱ بالغ مردوں کی تعداد اگرچہ جماعتِ جمعہ کے قیام کے لیے (امام کے علاوہ ۳ بالغ مردوں کی شرط کے لحاظ سے) کافی ہے، لیکن محض افراد کی موجودگی بستی کو "قریۂ کبیرہ" یا "مصر" نہیں بناتی۔ جب تک بستی بذاتِ خود قریۂ کبیرہ کی حد تک نہ پہنچے، محض مقتدیوں کے ہونے سے جمعہ جائز نہیں ہوتا۔

(3) فجر کی جماعت میں مقتدیوں کے کم ہونے یا کبھی کبھار صرف امام کے ہونے کا جمعہ کے جواز یا عدمِ جواز پر کوئی شرعی اثر نہیں پڑتا۔ نمازِ جمعہ کی صحت کی شرائط (مثلاً مصر یا قریہ کبیرہ ہونا، وقت، خطبہ، جماعت، اور اذنِ عام) بالکل مستقل ہیں۔

(4)     مذکورہ بستی میں شرائط جمعہ کا  موجود نہ ہونا واضح ہے ، تردد کی کوئی وجہ نہیں۔بالفرض اگر کہیں صحتِ جمعہ کی شرائط میں تردد یا   شبہ ہوتو احتیاطی ظہرادا کی جا سکتی ہے۔اس کا طریقہ یہ ہے کہ جمعہ کے بعد بغیر اذان و اقامت کے تنہا چار رکعات اس نیت سے پڑھی جائیں":میں نیت کرتا ہوں اس آخری فرض ظہر کی جس کا وقت مجھے ملا اور میں نے  ابھی تک اسے ادا نہیں کیا"۔

فقہاء  نے صراحت فرمائی ہے کہ احتیاطی ظہر کا حکم صرف خواص (علماء و اہلِ علم) کے لیے ہے کہ وہ اسے تنہائی میں مخفی طور پر پڑھیں۔ عوام الناس میں اس کی ترغیب دینا، اعلان کرنا یا رواج قائم کرنا سخت منع   ہے۔اس سے "مفسدۂ عظیمہ"  پیدا ہوتا ہے۔ عوام یہ سمجھنے لگتے ہیں کہ یا تو جمعہ کا فریضہ مشکوک ہے یا پھر ایک ہی وقت میں دو فرض نمازیں (جمعہ اور ظہر) واجب ہیں۔

(5) گزشتہ ۱۳ -۱۴  سالوں میں جو نمازِ جمعہ باقاعدگی سے ادا کی جاتی  رہی  اس کا  حکم یہ ہے  کہ   حنفیہ کے ضابطے "تصحيح  ما وقع بناءً  على قول مجتهد آخر" (واقع ہو جانے والے عمل کو کسی دوسرے مجتہد کے قول پر محمول کر کے صحیح قرار دینا) اور "دفع حرج و مشقت" کی رو سے وہ تمام جمعے شرعاً صحیح و معتبر شمار ہوں گے۔ بستی والوں پر گزشتہ سالوں کے جمعوں کی جگہ ظہر کی کوئی قضا واجب نہیں ہوگی  (کیو نکہ ائمۂ مجتہدین میں سے امام شافعیؒ، امام مالکؒ اور امام احمد بن حنبلؒ کے نزدیک دیہاتوں اور تمام مستقلاً آباد بستیوں میں جمعہ کا انعقاد  جائز اور صحیح ہے)۔

آئندہ کا طریقہ: آئندہ کے لیے اہلِ بستی کو چاہیے کہ وہ جمعہ کی نماز کے بجائے مسجد میں باقاعدہ اذان و اقامت کے ساتھ ظہر کی نماز باجماعت ادا کرنے کا معمول بنائیں اور جو تین چار کلو میٹر دور  بازار جاکر جمعہ پڑھ سکتے ہوں وہ  وہاں جاکر جمعہ پڑھیں تو زیادہ اجر ملے گا ۔

(6) جو لوگ ناواقفیت کی بناء پر جمعہ قائم رکھنے پر بضد ہیں، انہیں انتہائی نرمی، شفقت اور مصلحت کے ساتھ شرعی مسئلہ سمجھایا جائے۔ انہیں بتایا جائے کہ معمولی نزاع کی وجہ سے اپنی نمازوں کو غارت کرنا اور ایک ایسے عمل پر اصرار کرنا جو شرعاً درست نہ ہو، آخرت کے وبال کا باعث بن سکتا ہے۔  

حوالہ جات

«حاشية ابن عابدين = رد المحتار - ط الحلبي» (2/ 138):

«(قوله وفي القهستاني إلخ) تأييد للمتن، وعبارة القهستاني تقع فرضا في القصبات والقرى الكبيرة التي فيها أسواق قال أبو القاسم: هذا بلا خلاف إذا أذن الوالي أو القاضي ببناء المسجد الجامع وأداء الجمعة لأن هذا مجتهد فيه فإذا اتصل به الحكم صار مجمعا عليه، وفيما ذكرنا إشارة إلى أنه لا تجوز في الصغيرة التي ليس فيها قاض ومنبر وخطيب كما في المضمرات والظاهر أنه أريد به الكراهة لكراهة النفل بالجماعة؛ ألا ترى أن في الجواهر لو صلوا في القرى لزمهم أداء الظهر»

«الهداية في شرح بداية المبتدي» (1/ 82):

«" والمصر الجامع كل موضع له أمير وقاض ينفذ الأحكام ويقيم الحدود وهذا عند أبي يوسف رحمه الله وعنه أنهم إذا اجتمعوا في أكبر مساجدهم لم يسعهم والأول اختيار الكرخي وهو الظاهر والثاني اختيار الثلجي والحكم غير مقصور على المصلي بل تجوز في جميع أفنية المصر لأنها بمنزلته في حوائج أهله "»

«البناية شرح الهداية» (3/ 68):

«وفي " التجنيس ": خطب وفرغ منها فذهب القوم كلهم وجاء آخرون وصلى بهم أجزأه، لأنه خطب والقوم حضور، وصلى والقوم حضور فتحقق شرط جواز الخطبة.»

«بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع» (1/ 268):

«وأما صفة القوم الذين تنعقد بهم الجمعة فعندنا أن كل من يصلح إماما للرجال في الصلوات المكتوبات تنعقد بهم الجمعة فيشترط صفة الذكورة والعقل والبلوغ لا غير»

«حاشية ابن عابدين = رد المحتار - ط الحلبي» (2/ 151):

«قوله ولو غير الثلاثة الذين حضروا الخطبة) أي على رواية اشتراط حضور ثلاثة في الخطبة أما على رواية عدم الاشتراط أصلا أو أنه يكفي حضور واحد فأظهر (قوله سوى الإمام) هذا عند أبي حنيفة ورجح الشارحون دليله واختاره المحبوبي والنسفي كذا في تصحيح الشيخ قاسم (قوله بنص {فاسعوا} [الجمعة: 9] لأن طلب الحضور إلى الذكر متعلقا بلفظ الجمع وهو الواو يستلزم ذاكرا فلزم أن يكون مع الإمام جمع وتمامه في شرح المنية»

«الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهندية» (1/ 145):

«ثم في كل موضع وقع الشك في جواز الجمعة لوقوع الشك في المصر أو غيره وأقام أهله الجمعة ينبغي أن يصلوا بعد الجمعة أربع ركعات وينووا بها الظهر حتى لو لم تقع الجمعة موقعها يخرج عن عهدة فرض الوقت بيقين، كذا في الكافي، وهكذا في المحيط ثم اختلفوا في نيتها قيل: ينوي آخر ظهر عليه وهو الأحسن والأحوط أن يقول: نويت آخر ظهر أدركت وقته ولم أصله بعد، كذا في القنية.»

«حاشية ابن عابدين = رد المحتار - ط الحلبي» (2/ 146):

«نعم إن أدى إلى مفسدة لا تفعل جهارا والكلام عند عدمها ولذا قال المقدسي نحن لا نأمر بذلك أمثال هذه العوام بل ندل عليه الخواص ولو بالنسبة إليهم اهـ والله تعالى أعلم»

«البناية شرح الهداية» (2/ 502):

«وقال أبو بكر الرازي: يجوز اقتداء الحنفي بمن يسلم على الركعتين في الوتر ويصلي معه بقية الوتر؛ لأن إمامه لا يجزئه سلامه عنده لأنه مجتهد فيه، كما لو اقتدى بإمام قد رعف وهو يعتقد أن طهارته باقية؛ لأنه مجتهد فيه فطهارته باقية في حقه.»

«الفتاوى التاتارخانية»(2/253)۔۔

"كما حكي أن أبا يوسف اغتسل يوم الجمعة وصلى ببغداد، فوجدوا في تلك البئر فارة ميتة، فأخبر بذلك فقال : نأخذ بقول اخواننا من أهل المدينة تمسكا بالحديث المروي عن النبي عليه السلام أنه قال: إذا بلغ الماء قلتين لا يحتمل خبثا".

عبدالغفار بن غلام اکبر

دارالافتاء جامعتہ الرشید کراچی

٤ /ربیع الثانی/١٤٤٨

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

عبدالغفار بن غلام اکبر

مفتیان

محمد حسین خلیل خیل صاحب / سعید احمد حسن صاحب