03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
اسٹیٹ بینک میں ملازمت کا حکم
91540اجارہ یعنی کرایہ داری اور ملازمت کے احکام و مسائلکرایہ داری کے متفرق احکام

سوال

سوال پوچھنا چاہتا ہوں کہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان میں نوکری کرنا اسلامی نقطہ نظر سے کیسا ہے؟ یعنی حلال ہے یا حرام؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

 اسٹیٹ بینک آف پاکستان میں ملازمت کے بارے درج ذیل تفصیل  ہے:

۱۔اسٹیٹ بینک کے جن شعبوں میں کلی طور پر سودی لین دین کیا جاتا ہواور ملازمت  کلی طور پراسی سودی معاملات کے  طے کرنے کے لیے ہو تو ایسی ملازمت اور اس کی  اجرت جائز نہیں ، البتہ جو شخص پہلے سے یہ کام کررہا ہو اور اس کے لیے بقدر ضرورت آمدن کے لیے کوئی دوسرا جائز روزگار فی الحال مہیا نہ ہو تو اس کے لیے فی الحال بقدر ضرورت بینک کی تنخواہ استعمال کرنا اس شرط سے جائز ہے کہ وہ اس رقم کا حساب محفوظ رکھے اور اس کو استعمال کرنے کے ساتھ ساتھ استغفار اور دوسرے روزگار کی تلاش بھی جاری رکھے ،دوسرا روزگار ملنے پر سود کی کمائی سے حاصل کردہ رقم کو بھی رفتہ رفتہ صدقہ کرتا رہے۔

۲۔ اگر ملازمت  کامعاہدہ  محض سودی لین دین  طے کرنے کے لیے نہ ہو، بلکہ محض انتظامی امور سے متعلق ہو، البتہ سودی لین دین  طے کرنے کے ساتھ اس کا براہ راست جزوی وضمنی تعلق ہو مثلا  کسی آئی ٹی انجینئر کا سودی قرضوں کا سافٹ ویئر چلانا یا اس کی دیکھ بھال کرنا ،اسی طرح  لون (Loan) ڈیپارٹمنٹ کے کلرک کا قرض کی فائلیں تیار کرنا وغیرہ ۔تو اس کا حکم یہ ہے کہ اصولی طور پر تو یہ بھی جائز نہیں،لیکن بوقت ضرورت و  بقدر ضرورت اس شرط کے ساتھ گنجائش ہوسکتی ہے کہ سودی معاملات طے کرنے کےتناسب سے اجرت  کا حصہ بلا نیت ثواب صدقہ کردیا جائے۔

۳۔جن شعبوں کا سودی لین دین سے کوئی تعلق نہ ہو ،بلکہ محض  جائزانتظامی یاتحقیقی نوعیت سے متعلق ہو ں اور سودی لین دین کے ساتھ ان کابراہ راست جزوی تعلق بھی نہ ہومثلا ڈرائیور، چوکیدار، وغیرہ تو ان کی ملازمت جائز ہے اور ان کی تنخواہ بھی جائز ہے۔

حوالہ جات

 (فقہ البیوع:2/1032)

 فإن کانت الوظیفۃ تتضمن مباشرۃ العملیات الربویۃ ،أو العملیات المحرمۃ الأخری ،فقبول ھذہ الوظیفۃ حرام ،وذلک مثل : التعاقد بالربا أخذا ، أو عطاء ، أو حسم الکمبیالات ،أو کتابۃ ھذہ العقود ....... فإن الإدارۃ مسؤلۃ عن جمیع نشاطات البنک التی غالبھا حرام ، ومن کان مؤظفا فی البنک بھذا الشکل ،فإن راتبہ الذی یأخذ من البنک کلہ من الأکساب المحرمۃ .أما إذا کانت الوظیفۃ لیس لھا علاقۃ مباشرۃ بالعملیات الربویۃ،مثل وظیفۃ الحارث ،أو سائق السیارۃ .....أو تحویلھا من بلد إلی بلد ،فلا یحرم قبولھا إن لم یکن بنیۃ الإعانۃ علی العملیات المحرمۃ ، وإن کان الاجتناب عنھا أولی ، ولا یحکم فی راتبہ بالحرمۃ .

 ( تکملۃ فتح الملھم : 1/575)

وقال فی تکملۃ فتح الملھم : روی الإمام المسلم رحمہ اللہ  عن عبد اللہ ،قال : لعن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آکل الربا ، ومؤکلہ ،قال : قلت: وکاتبہ وشاھدیہ؟ قال : إنما نحدث بما سمعنا .قولہ : (وکاتبہ) : لأن کتابۃ الربا إعانۃ علیہ ،ومن ھنا ظھر أن التوظف فی البنوک الربویۃ لا یجوز ، فإن کان عمل الموظف فی البنک ما یعین علی الربا ،کالکتابۃ أو الحساب ،فذلک حرام لوجھین :الأول:إعانۃ علی المعصیۃ ،والثانی : أخذ الأجرۃ من المال الحرام  .ثم قال : فإذا وجد بنک معظم دخلہ حلال ،جاز فیہ التوظف للنوع الثانی من الأعمال ، واللہ أعلم .

قال العلامۃ نظام الدین رحمہ اللہ : لا یجوز ھدیۃ أمراء الجور ؛لأن الغالب فی مالھم الحرمۃ إلا إذا علم أن أکثر مالہ حلال ،بأن کان صاحب تجارۃ ، أو زرع فلا بأس بہ ؛لأن أموال الناس لا تخلو عن قلیل حرام فالمعتبر الغالب .(4/167)

عبدالغفاربن غلام اکبر 

دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی

١٥ /صفرالمظفر/١٤٤٨

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

عبدالغفار بن غلام اکبر

مفتیان

محمد حسین خلیل خیل صاحب / سعید احمد حسن صاحب