03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
تقسیم وراثت کی تفہیم
91558میراث کے مسائلمیراث کے متفرق مسائل

سوال

محترم مفتیانِ کرام! ہمارے والدِ محترم محمد عارف عظیم خان کا سن 2017ء میں انتقال ہوگیا تھا۔ ان کی وفات کے بعد ان کے ترکہ اور جائیداد کی تقسیم کے متعلق بعض امور میں ہمارے درمیان شرعی اعتبار سے اشکال پیدا ہوگیا ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ ان تمام معاملات کا شرعی حکم قرآن و سنت اور فقہِ حنفی کی روشنی میں واضح ہوجائے ،تاکہ تمام ورثہ اللہ تعالیٰ کے احکام کے مطابق اپنے حقوق ادا کرسکیں اور آئندہ کسی قسم کا نزاع باقی نہ رہے۔ والد صاحب کے انتقال کے وقت درج ذیل جائیدادیں موجود تھیں: 1. ایک گورنمنٹ کوارٹر۔ 2. مکان نمبر7 B۔ 3. مکان نمبر7 D۔ 4. بفر زون میں ایک پراپرٹی۔ 5. تیسر ٹاؤن کے دو پلاٹ۔ اس کے علاوہ گورنمنٹ کوارٹر کے ساتھ اضافی (کیاری) کی کچھ جگہ بھی تھی، جو والد صاحب نے اپنی زندگی میں بنوائی تھی۔ مزید وضاحت: مذکورہ گورنمنٹ کوارٹر اصل میں ہماری پہلی والدہ مرحومہ شمیم عارف صاحبہ  کے نام الاٹ تھا۔ ان کا انتقال سن 2007ء میں ہوگیا تھا، جبکہ ہمارے والدِ محترم محمد عارف عظیم خان کا انتقال سن 2017ء میں ہوا۔ مرحومہ شمیم عارف صاحبہ کے انتقال کے بعد بھی آج تک مذکورہ گورنمنٹ کوارٹر سرکاری ریکارڈ کے مطابق انہی کے نام پر ہے اور ہمارے علم کے مطابق اس کی الاٹمنٹ یا ملکیت کسی دوسرے شخص کے نام منتقل نہیں ہوئی۔ واضح رہے کہ ہمیں یہ معلوم نہیں کہ والد صاحب نے مذکورہ جائیدادوں کے متعلق شرعی ہبہ (قبضہ کے ساتھ ملکیت کی منتقلی) کی تمام شرائط پوری کی تھیں یا نہیں، اسی وجہ سے ہم اس بارے میں شرعی رہنمائی چاہتے ہیں۔ مکان نمبر B7 کے متعلق والد صاحب اپنی پوری زندگی مسلسل یہ فرمایا کرتے تھے: یہ مکان میری بیٹی کا ہے، میں یہ اسی کے لیے بنا رہا ہوں۔ تعمیر کے دوران بھی وہ یہی بات کہتے رہے اور تعمیر مکمل ہونے کے بعد انہوں نے اس مکان کی دیوار پر اپنی بیٹی تبندہ صاحبہ کے نام کی نیم پلیٹ بھی خود لگوائی۔ اسی بنیاد پر تبندہ صاحبہ کا مؤقف ہے کہ یہ مکان والد صاحب نے اپنی زندگی ہی میں ان کے لیے مخصوص کردیا تھا، لہٰذا یہ ان کی ذاتی ملکیت ہے اور ترکہ میں شامل نہیں ہونا چاہیے۔ مزید یہ کہ والد صاحب کے انتقال کے بعد تبندہ صاحبہ نے اپنے ذاتی خرچ سے مکان نمبرB7 میں کچھ مرمت اور ضروری کام کروائے، جس پر ان کی اپنی رقم خرچ ہوئی۔ گزشتہ چند سالوں سے یہ مکان کرایہ  پر دیا ہوا ہے اور اس کا مکمل کرایہ بھی وہ خود وصول کرتی رہی ہیں۔ مکان نمبر D7 کے متعلق اسی طرح والد صاحب اپنی پوری زندگی یہ فرمایا کرتے تھے: یہ مکان میرے سب سے چھوٹے بیٹے شاہ زیب عظیم کا ہے، میں یہ اس کے لیے بنا رہا ہوں۔ والد صاحب کے انتقال کے وقت شاہ زیب عظیم کی عمر تقریباً 16 سال تھی، اس لیے وہ نابالغ تھے،  اس وجہ سے یہ اشکال بھی موجود ہے کہ اگر والد صاحب کی نیت یہی تھی تو کیا شرعاً یہ مکان ان کی ملکیت شمار ہوگا یا والد صاحب کے ترکہ میں شامل ہوگا؟

والد صاحب کے انتقال کے وقت درج ذیل شرعی ورثہ موجود تھے: 1۔اہلیہ حُماء صاحبہ ،2۔ بڑا بیٹا جہانزیب ، 3۔دوسرا بیٹا اورنگزیب، 4۔ایک بیٹی تبندہ ،5۔ سب سے چھوٹا بیٹا شاہ زیب ۔

وضاحت یہ ہے کہ والد صاحب کی پہلی اہلیہ مرحومہ شمیم عارف صاحبہ کا انتقال تقریباً دس سال پہلے، یعنی 2007ء میں ہوچکا تھا۔ پہلی اہلیہ سے اولاد درج ذیل ہے:جہانزیب، اورنگزیب ، تبندہ ، جبکہ دوسری اہلیہ حُماء صاحبہ سے ایک بیٹا شاہ زیب ہے۔ والد صاحب کے انتقال کے وقت بچوں کی عمریں تقریباً درج ذیل تھیں:  جہانزیب: 27 سال، اورنگزیب: 25 سال، تبندہ: 24 سال ، شاہ زیب: 16 سال ۔ انتقال کے بعد ہونے والے معاملات: 1. بڑے بھائی جہانزیب صاحب نے گورنمنٹ کوارٹر کے ساتھ موجود اضافی (کیاری) جگہ کا ایک حصہ فروخت کردیا اور اس سے حاصل ہونے والی پوری رقم اپنے پاس رکھ لی۔                                                                                                                                                     2. دوسرے بھائی اورنگزیب صاحب نے کیاری کی باقی جگہ جو گورنمنٹ کوارٹر سے الگ واقع ہےکرایہ   پر دے رکھی ہے اور اس کا مکمل کرایہ خود وصول کر رہے ہیں۔ 3. تیسر ٹاؤن کے دو پلاٹ تھے،  والد صاحب کے انتقال کے بعد اورنگزیب صاحب نے دونوں پلاٹ فروخت کر دیے اور ان سے حاصل ہونے والی مکمل رقم اپنے پاس رکھ لی۔ ان کا مؤقف یہ ہے کہ والد صاحب اپنی زندگی میں فرمایا کرتے تھے کہ یہ پلاٹ انہی کے ہیں، لہٰذا فروخت کی پوری رقم بھی انہی کی ہے۔

براہِ کرم درج ذیل امور میں شرعی رہنمائی عطا فرمائیں:

 1. اگر والد صاحب اپنی زندگی میں صرف زبانی طور پر یہ کہتے رہے کہ فلاں مکان یا پلاٹ فلاں بیٹے یا بیٹی کا ہے، لیکن شرعی ہبہ کی تمام شرائط خصوصاً قبضہ مکمل نہ ہوئی ہوں، تو کیا ایسی جائیدادیں ان کی وفات کے بعد ترکہ میں شامل ہوں گی یا نہیں؟

 2. مکان نمبر B7 کے متعلق شرعی حکم کیا ہے؟ کیا یہ تبندہ صاحبہ کی ذاتی ملکیت ہے یا تمام ورثہ کے درمیان تقسیم ہونے والا ترکہ؟

 3. اگر مکان نمبر B7 ترکہ قرار پائے تو گزشتہ چند سالوں سے وصول ہونے والا کرایہ اور تبندہ صاحبہ کی جانب سے اپنی ذاتی رقم سے کروائی گئی مرمت کا شرعی حکم کیا ہوگا؟

 4. مکان نمبر D7 کے متعلق شرعی حکم کیا ہے؟ خصوصاً اس صورت میں جبکہ والد صاحب اسے ہمیشہ شاہ زیب صاحب کا بتاتے رہے اور انتقال کے وقت شاہ زیب صاحب کی عمر صرف 16 سال تھی۔

 5. بفر زون والی پراپرٹی میں کن کن ورثہ کا حق بنتا ہے اور ہر ایک کا شرعی حصہ کتنا ہوگا؟

 6. تیسر ٹاؤن کے دونوں فروخت شدہ پلاٹوں کی فروخت سے حاصل ہونے والی رقم میں کیا تمام ورثہ کا بھی شرعی حصہ تھا؟ اگر تھا تو اس رقم کے متعلق اب کیا حکم ہے اور فروخت کرنے والے وارث پر شرعاً کیا ذمہ داری عائد ہوتی ہے؟

 7. گورنمنٹ کوارٹر کے ساتھ موجود کیاری کی فروخت شدہ جگہ کی قیمت میں کیا تمام ورثہ کا حق تھا؟ اگر تھا تو اس کا شرعی حکم کیا ہے؟جو کیاری کی جگہ اس وقت کرایہ  پر دی ہوئی ہے، اس کے کرایہ کا شرعی حق کس کس کو حاصل ہے؟

8. چونکہ گورنمنٹ کوارٹر آج تک مرحومہ شمیم عارف صاحبہ کے نام الاٹ ہے، اس لیے شرعاً اس کی حیثیت کیا ہے؟ کیا یہ مرحومہ شمیم عارف صاحبہ کے ترکہ میں شمار ہوگا یا مرحوم محمد عارف عظیم خان کے ترکہ میں؟

  9. اگر مذکورہ تمام جائیدادیں ترکہ شمار ہوں تو تمام ورثہ کے شرعی حصص کس تناسب سے بنتے ہیں؟

10. اگر تمام یا بعض ورثہ اپنی خوش دلی اور باہمی رضامندی سے شرعی حصص سے ہٹ کر کسی اور طریقے سے جائیداد تقسیم کرنا چاہیں تو اس کی شرعی طور پر جائز صورت کیا ہوگی؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

بالترتیب تمام سوالات کے جوابات اور  مطلوبہ وضاحتیں ذیل میں ملاحظہ ہوں :

1۔یاد رہے کہ شرعی ہبہ کے مکمل ہونے کیلئے قبضہ شرط ہے ، محض زبانی کلامی کسی چیز کو کسی کی طرف منسوب کرنے سے ہبہ کی تکمیل نہیں ہوتی  ،  جب تک کہ اس چیز کو اپنے تمام تر مالکانہ تصرفات کے ساتھ دوسرے شخص کے قبضہ میں نہ دے دیا جائے اور ہبہ کرنے والے شخص کا اس چیز میں کسی بھی قسم کا مالکانہ حق باقی نہ رہے ۔ لہٰذا اگر آپ کے والد صاحب نے محض زبانی طور پر کسی مکان یا پلاٹ کو اپنی اولاد میں سے کسی کی طرف منسوب کیا اور مکمل قبضہ و مالکانہ تصرفات منتقل نہیں کیے تو اس سے ہبہ کی تکمیل نہیں ہوئی ، ایسی تمام جائیدادیں ان کی وفات کے بعد ان ترکہ میں شامل ہوں گی ۔

2- اگر والد صاحب نے اپنی زندگی میں صرف تبندہ صاحبہ کی طرفB7 مکان کی نسبت کی اور ان کے نام کی پلیٹ لگوائی لیکن مکمل قبضہ و مالکانہ تصرفات ان کو منتقل نہیں کیے جیسا کہ ابھی اس مکان میں رہائش یا  پھر اس سے حاصل ہونے والی کرایہ کی آمدنی اور اس کی مکمل دیکھ بھال ان کے پاس ہے ،  اگر ایسا نہیں تھا تو یہ مکان ترکہ میں شمار ہوگا۔ اور اگر مکمل قبضہ دے دیا تھا تمام تر مالکانہ تصرفات کے ساتھ ، جیسا کہ ان کی وفات کے بعد تمام تر مالکانہ اختیارات  تبندہ صاحبہ نے اپنے پاس رکھے ہوئے ہیں اگر والد صاحب کی زندگی میں بھی ایسا ہی تھا ، تو پھر یہ مکان تبندہ صاحبہ کی ملکیت ہوگا اور ترکہ میں شامل نہیں ہوگا۔

3- مکان نمبر B7 ترکہ قرار پانے کی صورت میں چونکہ وہ تمام ورثہ کی مشترکہ ملکیت ہے اس لیے والد صاحب کی وفات کے بعد سے اب تک حاصل ہونے والا کرایہ بھی تمام ورثہ پر تقسیم ہوگا اور اس کے کل آٹھ حصے بنائے جائیں گے ، دو دو حصے تین بیٹوں کو ملیں گے اور ایک حصہ اہلیہ حماء صاحبہ ، ایک حصہ بیٹی تبندہ کو ملے گا ۔ اسی طرح تبندہ صاحبہ کے ذاتی رقم سے کروائی گئی مرمت کے اخراجات بھی تمام ورثہ پر مندرجہ بالا حصوں کے مطابق تقسیم ہوں گے اور مرمت کے کل اخراجات کو آٹھ حصوں میں تقسیم کیا جائے گا جن میں سے سات حصے باقی تمام ورثہ تبندہ صاحبہ کو واپس لوٹائیں گے اپنے اپنے حصوں کی بقدر ۔

4- مکان نمبر D7 بھی بیان کردہ صورت حال کے مطابق اگر والد صاحب محض شاہ زیب کی طرف منسوب کرتے رہے اور مکمل قبضہ و مالکانہ تصرفات نہیں دیے تو ترکہ میں شامل ہوگا اور تمام ورثہ پر تقسیم ہوگا ۔ یاد رہے کہ شریعت نے لڑکے اور لڑکی دونوں میں بلوغت کی زیادہ سے زیادہ عمر 15 سال بتائی ہے اگرچہ ان میں علامات بلوغت ظاہر نہ  بھی ہوں ، تو شاہ زیب صاحب  اپنے والد کی وفات کے وقت 16 سال کی عمر میں بالغ ہی تھے ۔

5-بفرزون والی پراپرٹی میں بھی ذکر کردہ پانچوں ورثہ کا حق ہوگا اور اسے آٹھ حصوں میں تقسیم کیا جائے گا جن میں دو  دو حصے ہر ایک بیٹے کو ملیں گے اور ایک حصہ اہلیہ حماء صاحبہ اور ایک حصہ بیٹی تبندہ صاحبہ کو ملے گا ۔

6- تیسر ٹاؤن کے دو پلاٹ جن سے متعلق جہانزیب صاحب کا یہ دعویٰ ہے کہ والد صاحب اپنی زندگی میں یہ فرمایا کرتے تھے کہ یہ انہی کے ہیں تو اگر والد صاحب نے مکمل قبضہ و مالکانہ تصرفات جہانزیب کو منتقل نہیں کیے تھے تو محض والد صاحب کے نسبت کرنے سے وہ پلاٹ جہانزیب صاحب کے نہیں ہوں گے بلکہ وہ ترکہ میں شمار ہوں گے اور تمام ورثہ کواپنا   شرعی حصہ ان پلاٹوں سے ملے گا ۔ اب جبکہ جہانزیب صاحب نے وہ پلاٹ فروخت کردیے تو ان کی قیمت کو آٹھ حصوں میں تقسیم کیا جائے گا ، جن میں دو حصے جہانزیب صاحب خود لیں گے اور دو دو حصے باقی دو بھائیوں کو ملیں گے اور ایک حصہ مورث کی اہلیہ حماء صاحبہ کو ، جبکہ بقیہ ایک بیٹی تبندہ صاحبہ کو ملے گا ۔ یعنی جہانزیب صاحب کو ان دو پلاٹوں سے حاصل ہونے والی مجموعی قیمت کو آٹھ حصوں میں تقسیم کرنے کے بعد اپنے دو حصے لے کر بقیہ چھ حصے قیمت دیگر ورثہ کو ان کے حصوں کے بقدر لوٹانا ہوگی ۔

7-گورنمنٹ کوارٹر کے ساتھ موجود کیاری (جس کو جہانزیب صاحب نے فروخت کردیا )میں بھی تمام ورثہ کا حق تھا  ، اسی طرح اورنگزیب نے جو کیاری کی جگہ کرایہ پر دے رکھی ہے اس میں بھی تمام ورثہ کا حق ہے لہٰذا کیاری کے فروخت شدہ حصہ کی قیمت اور کرایہ پر دیے جانے والے حصہ کا کرایہ دونوں کو آٹھ حصوں میں تقسیم کرکے مندرجہ بالا تفصیل کے مطابق تمام ورثہ پر تقسیم کیا جائے گا ۔

8- گورنمنٹ کوارٹر اگر تو مرحومہ شمیم عارف صاحبہ کو ان کی کسی ملازمت کی وجہ سے گورنمنٹ نے دیا تھا  ،  تب تو یہ ان کے ترکہ میں شمار ہوگا ، لیکن اگر گورنمنٹ نے یہ کوارٹر مرحوم محمد عارف عظیم خان کو ان کی کسی ملازمت کی وجہ سے دیا تھا محض انہوں نے اس کی الاٹمنٹ مرحومہ شمیم عارف صاحبہ کے نام منتقل کی تھی، اب اگر یہ الاٹمنٹ اس طور پر تھی کہ کوارٹر پر تمام تر مالکانہ تصرفات اور قبضہ بھی ان کو دے دیا تھا تو بھی یہ کوارٹر مرحومہ شمیم عارف صاحبہ کے ترکہ میں شمار ہوگا ،لیکن اگر صرف الاٹمنٹ اور سرکاری ریکارڈ میں انہی کے نام ہے باقی تمام تر مالکانہ تصرفات مرحوم عارف عظیم خان کے پاس تھے تو یہ کوارٹر  مرحوم عارف عظیم خان کے ترکہ میں شمار ہوگا ۔

9: مذکورہ تمام جائیدادیں جب مرحوم عارف عظیم خان صاحب کا ترکہ شمار ہوں گی تو ہر ایک میں آٹھ حصے بنائے جائیں گے جن میں سے دو دو حصے تین بیٹوں کو دیے جائیں گے اور ایک حصہ مورث کی اہلیہ حماء صاحبہ اور بقیہ آخری ایک حصہ بیٹی تبندہ صاحبہ کو ملے گا ۔

لیکن اگر گورنمنٹ کوارٹر مندرجہ بالا تفصیل و وضاحت کے تحت  مرحومہ شمیم عارف صاحبہ کا ترکہ شمار ہو تو اسے 20 حصوں میں تقسیم کیا جائے گا جن میں سے  چھ حصے جہانزیب کو ملیں گے، چھ حصے اورنگزیب کو ملیں گے اور تین حصے تبندہ کو ، یوں کل پندرہ حصے ان تینوں پر تقسیم ہو جائیں گے ۔ بقیہ پانچ حصے مرحوم عارف عظیم خان کا ترکہ شمار ہوگا جو پھر ان تمام ورثہ پر نئے سرے سے تقسیم ہوگا یعنی اس کے آٹھ حصے بنائے جائیں گے جن میں سے دو دو حصے ہر بیٹے کو ملیں گے اور ایک حصہ حماء صاحبہ اور بقیہ ایک تبندہ کو ملے گا ۔یاد رہے کہ اس صورت میں پہلے پندرہ حصوں میں حماء صاحبہ اور شاہزیب شامل نہیں ہوں گے۔

10- چونکہ تمام ورثہ بالغ ہیں اس لیے اگر اپنی خوشی و رضامندی سے شرعی حصص سے ہٹ کر تقسیم کرنا چاہیں تو بھی جائز ہے بشرطیکہ تمام کے تمام اس طریقہ تقسیم پر راضی ہوں ۔ لیکن اگر بعض اس طرح تقسیم کرنا چاہتے ہیں جبکہ دوسرے بعض نہیں تو پہلے ان ورثہ کو شرعی حصص دیے جائیں گے جو شرعی طریقہ سے تقسیم چاہتے ہیں ۔  اس کے بعد وہ ورثہ جو شرعی حصص سے ہٹ کر تقسیم کرنا چاہیں وہ اپنے حصوں میں جیسے چاہیں تقسیم کر لیں ایک دوسرے کی رضامندی کے ساتھ ۔

حوالہ جات

«مختصر القدوري» (ص124):

«‌الهبة: ‌تصح ‌بالإيجاب ‌والقبول وتتم القبض فإذا قبض الموهوب له في المجلس بغير أمر الواهب جاز وإن قبض بعد الافتراق لم تصح إلا أن يأذن له الواهب في القبض»

«شرح مشكلات القدوري» (2/ 55):

«قال: (‌الهبة ‌تصح ‌بالإيجاب، ‌والقبول، والقبض)؛ لأن الهبة تبرع في حال الحياة، فصار كالوصية بعد الموت، والإيجاب، والقبول شرط لتمامها كذلك الهبة، وروي عن أبي بكر الصديق رضي الله عنه لا يتم الصدقة إلا بالقبض الهبة تمليك باختيار»

«الاختيار لتعليل المختار» (5/ 93):

«(وعصبة بغيره وهم أربع من النساء يصرن عصبة بإخوتهن، فالبنات بالابن وبنات الابن بابن الابن) لقوله - تعالى -: {‌يوصيكم ‌الله ‌في ‌أولادكم للذكر مثل حظ الأنثيين}»

«البحر الرائق شرح كنز الدقائق ومنحة الخالق وتكملة الطوري» (8/ 563):

«قال رحمه الله (وللزوجة الربع) أي للزوجة نصف ما للزوج فيكون لها الربع حيث لا ولد ‌ومع ‌الولد ‌أو ‌ولد الابن. وإن سفل الثمن لقوله تعالى {ولهن الربع مما تركتم إن لم يكن لكم ولد فإن كان لكم ولد فلهن الثمن مما تركتم}»

«الجوهرة النيرة على مختصر القدوري» (2/ 311):

«(قوله ‌وإن ‌كان ‌فيها ‌ثمن ‌وما ‌بقي أو ثمن ونصف وما بقي فأصلها من ثمانية) فالأولى كزوجة وابن والثانية كزوجة وبنت.»

«الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهندية» (6/ 470):

«‌وإن ‌لم ‌يكن ‌بينهما ‌موافقة بشيء فالسبيل أن تضرب سهام فريضة الميت الأول في سهام فريضة الميت الثاني فتصح المسألة من المبلغ ،ومعرفة نصيب كل واحد من ورثة الميت الأول أن تضرب نصيبه في فريضة الميت الثاني، ومعرفة نصيب كل واحد من ورثة الميت الثاني أن تضرب نصيبه في نصيب الميت الثاني من تركة الميت الأول فما بلغ فهو نصيبه.

«الدر المختار شرح تنوير الأبصار وجامع البحار» (ص772):

«شرع في مسألة التخارج فقال: (‌ومن ‌صالح ‌من ‌الورثة) والغرماء على شئ معلوم منها (طرح) أي أطرح سهمه من التصحيح وجعل كأنه استوفى نصيبه (ثم قسم الباقي من التصحيح) أو الديون (على سهام من بقي منهم) فتصح منه كزوج وأم وعم فصالح الزوج على ما في ذمته من المهر وخرج من بين الورثة فاطرح سهامه من التصحيح»

«الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهندية» (5/ 61):

«(الفصل الثاني في معرفة حد البلوغ) ‌بلوغ ‌الغلام ‌بالاحتلام ‌أو ‌الإحبال ‌أو ‌الإنزال، ‌والجارية ‌بالاحتلام أو الحيض أو الحبل، كذا في المختار. والسن الذي يحكم ببلوغ الغلام والجارية إذا انتهيا إليه خمس عشرة سنة عند أبي يوسف ومحمد - رحمهما الله تعالى - وهو رواية عن أبي حنيفة - رحمه الله تعالى - وعليه الفتوى، وعند أبي حنيفة - رحمه الله تعالى - ثماني عشرة سنة للغلام وسبع عشرة سنة للجارية، كذا في الكافي.»

عبدالغفاربن غلام اکبر 

دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی

١٤ /صفرالمظفر/١٤٤٨

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

عبدالغفار بن غلام اکبر

مفتیان

محمد حسین خلیل خیل صاحب / سعید احمد حسن صاحب