| 91462 | خرید و فروخت کے احکام | شئیرزاور اسٹاک ایکسچینج کے مسائل |
سوال
محترم مفتی صاحب! میں Pakistan Stock Exchange میں سرمایہ کاری کرنا چاہتا ہوں۔ پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں 527 سے زائد کمپنیاں شامل ہیں، جس میں non-Shariah-compliant کمپنیاں بھی ہیں اور Shariah-compliant کمپنیاں بھی۔ پاکستان اسٹاک ایکسچینج کے مطابق درج ذیل چھ شرائط پوری کرنے والی کمپنیوں میں سرمایہ کاری کرنا جائز ہے:
1ـکمپنی کا بنیادی کاروبار حلال ہو۔ اگر کمپنی ضمنی طور پر کسی غیر شرعی معاملے (مثلاً سود پر قرض لینا) میں ملوث ہو تو کمپنی کے سالانہ اجلاس میں اس عمل سے اجتناب کا مطالبہ کیا جائے۔
2-سودی قرضوں کا کل اثاثوں کے ساتھ تناسب33%سے کم ہو۔ (فروری 2026سے قبل یہ حد 37%تھی(
3-غیر شرعی سرمایہ کاری کا کل اثاثوں کے ساتھ تناسب30%سے کم ہو۔ (فروری 2026سے قبل یہ حد 33%تھی(
4-غیر شرعی آمدنی (مثلاً سود پر قرض دینا) کا کل آمدنی کے ساتھ تناسب %5سے کم ہو۔
5-غیر سیال اثاثوں کا مجموعی اثاثوں کے ساتھ تناسب کم از کم25% ہو۔
6- فی شیئر مارکیٹ قیمت، فی شیئر خالص مائع اثاثوں سے زیادہ یا اس کے برابر ہو۔
• Market Price per Share ≥ Net Liquid Assets per Share
اس سلسلے میں میرے چند سوالات ہیں: • کیا کمپنی کی100فیصد آمدنی حلال ہونا ضروری ہے یا ضمنی طور پر غیر شرعی آمدنی حاصل کرنے والی کمپنی میں مذکورہ شرائط کے ساتھ سرمایہ کاری جائز ہے؟
• سودی قرض، غیر شرعی سرمایہ کاری، غیر شرعی آمدنی اور غیر سیال اثاثوں کے بارے میں جو فیصدی حدود بیان کی گئی ہیں ،کیا یہی شرعاً درست اور معتبر حدود ہیں؟ اگر نہیں، تو صحیح حدود کیا ہیں؟
• کیا شیئر کی Market Price شیئر کی Net Liquid Assets کے برابر یا اس سے زیادہ ہونا کافی ہے (جیسا اوپر بیان کیا گیا ہے)، یا زیادہ ہونا ضروری ہے؟
بنوری ٹاؤن اور جامعتہ الرشید مزید دو شرائط ذکر کرتے ہیں:
• بنوری ٹاؤن: کمپنی حاصل شدہ منافع کل کا کل shareholders میں تقسیم کرے اور منافع کا کوئی حصہ (مثلاً ) reserve کے طور پر محفوظ نہ رکھے۔
• جامعتہ الرشید: منافع کی کوئی متعین ماہانہ یا سالانہ رقم طے نہ ہو، بلکہ منافع فیصد کے تناسب سے مقرر ہو۔ یعنی جتنا منافع حاصل ہو، اس میں سے ایک متعین فیصد کمپنی کا ہو اور باقی shareholders میں تقسیم کیا جائے۔ براہِ کرم مذکورہ سوالات کے شرعی جوابات مرحمت فرما دیں۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
سوال میں مذکورہ شرائط میں سے جن کی وضاحت طلب کی گئی ہے اور بعض مزید جو قابلِ ذکر ہیں ان تمام کی وضاحت درج ذیل ہے ۔
1۔ جس کمپنی کے شیئرز خریدنا چاہتے ہیں، اس کا کاروبار حلال ہو، اگر کمپنی کا کاروبا غیر شرعی ہو ،جیسے:مروجہ غیر اسلامی بینک،انشورنس ادارے،شراب بنانے والی کمپنیاں یا ایسے ادارے جن کے کاروبار کی بنیاد سود پر ہو تو ان کے شیئرز کی خریدوفروخت جائز نہیں۔
2۔ اس کمپنی کے کاروبارکا حقیقت میں آغاز ہوچکا ہو اور اس کمپنی کی املاک،مثلا عمارت اور مشینری وغیرہ وجود میں آچکی ہوں،اگر کمپنی صرف منصوبہ بندی اور نقد اثاثوں تک محدود ہو اور حقیقت میں کاروبار کا آغاز نہ ہوا ہو تو شیئرز کو صرف ان کی اصل قیمت ( Face Value) پر خریدنا یا بیچنا جائز ہے، اس سے کم و بیش پر خریدنا اور بیچنا جائز نہیں۔
3۔ نفع و نقصان دونوں میں شرکت ہو، یعنی اگر کمپنی کو نفع ہو تو شیئرز کے خریدار بھی نفع میں شریک ہوں گے اور اگر نقصان ہو تو اپنے سرمائے کے تناسب سے نقصان میں بھی شریک ہوں گے۔
4۔ نفع فیصد ی تناسب کے اعتبار سے طے ہو، یعنی نفع کی ماہانہ یا سالانہ کوئی خاص رقم یقینی طور پر مقرر نہ ہو، بلکہ فیصدی تناسب کے حساب سے نفع مقرر کیا گیا ہو کہ جتنا نفع ہوگا، اس میں سے اتنے فیصد کمپنی کا ہوگا اور اتنے فیصد شیئر ہولڈر میں تقسیم کیاجائے گا۔
5۔ شیئرز کی خریدوفروخت کرتے وقت اس بات کا خیال رکھنا بھی ضروری ہے کہ کمپنی کا اصل کاروبار حلال ہونے کے ساتھ ساتھ وہ ضمنی طور پر بھی کسی ناجائز کام میں ملوث نہ ہو اور اس ضمنی کام سے حاصل ہونے والی آمدنی کا تناسب اس کی مجموعی آمدنی میں معتد بہ مثلا ً: پانچ فیصد نہ ہو ۔
جوکمپنی ضمنی طور پر کسی ناجائز کام میں ملوث ہو اس کے شئیرز کی خرید و فروخت سے احتراز بہتر ہے،تاہم اس کے شئیرز خریدنے کی اس شرط کے ساتھ گنجائش ہے کہ خریدار کمپنی کو ناجائز اور حرام معاملات سے منع کرنے کی ہرممکن کوشش کرے گا، اور خصوصاً کمپنی کے سالانہ اجلاس میں بھی یہ آواز اٹھائے گا کہ کمپنی ناجائز اور حرام معاملہ نہ کرے اور کم از کم ہمارا سرمایہ کسی حرام اور ناجائز کاروبار میں نہ لگائے۔
6۔ اگر ایسی کمپنی کے شئیرز خریدے جائیں جو ضمنی طور پر کسی ناجائز کام میں ملوث ہو تو جب کمپنی سے سالانہ نفع وصول ہو تو شیئرز رکھنے والا اس کمپنی کی بیلنس شیٹ میں دیکھے کہ کمپنی نے اس ناجائز ضمنی معاملہ سے کتنے فیصد سرمایہ ناجائز کاروبار میں لگا کر نفع حاصل کیا ہے، پھر آمدنی کا اتنے فیصد حصہ اپنے حاصل شدہ نفع سے صدقہ کردے۔
7۔ شیئرز ہولڈر اس بات کا بھی لحاظ رکھے کہ جس کمپنی کے شیئرز خریدے، اس کے مجموعی سرمائے کے تناسب میں اس کمپنی کے سودی قرضوں کی مقدار بہت زیادہ ( مثلا تینتیس فیصد 33% یا اس سے زیادہ) نہ ہو۔
8۔ جو شیئرز خریدا جارہا ہو، اس کے پیچھے موجود خالص نقد اثاثوں (Net liquid assets) کی مقدار اس شیئر کی بازاری قیمت (Market value )سے کم ہو۔
9۔اگر شیئرز کو ان کی قیمت اسمیہ سے کم یا زیادہ پر خریدا یا فروخت کیا جارہا ہو تو شیئرز جس کمپنی کے ہوں، اس کے پاس نقد اثاثوں (Current Assets ) کے ساتھ ساتھ ایک معتدبہ مقدار جامد اثاثے (غیرسیال اثاثے) بھی موجود ہوں۔ ( مثلاً: بیس فیصد یا اس سے زائد جامد اثاثے ہوں)۔
10۔ شیئرز کی خریدفروخت کے صحیح ہونے کے لئے ایک شرط یہ بھی ہے کہ شیئرز خریدنے کے بعد شیئر ہولڈرز ان شیئرز پر قبضہ کرے، اس کے بعد ان کو فروخت کرے، شیئرز پر قبضہ کئے بغیر انہیں آگے فروخت کرنا شرعاً درست نہیں، جس کی وضاحت درج ذیل ہے:
اسٹاک ایکسچینج میں ڈے ٹریڈنگ(ایک دن شیئرز خرید کر اسی دن بیچنا) میں حاضر سودے کی جو صورت رائج ہے، وہ یہ ہے کہ حاضر سودے میں سودا ہوتے ہی اس کا اندراج فوراً ہیKAT﴿ Karachi Automated Trading ﴾ میں ہوجاتا ہے، جو اسٹاک ایکسچینج میں ہونے والے سودوں کا کمپیوٹرائز ریکارڈ ہوتا ہے، آج کل ہر سودے کے ایک کاروباری دن کے بعد خریدار کو طے شدہ قیمت ادا کرنی ہوتی ہے اور بیچنے والے کو بیچے ہوئے حصص کی ڈیلیوری دینی ہوتی ہے۔ ( جبکہ پہلے اس میں تین دن ، بعد ازاں دو دن لگتے تھے ) جس کی صورت یہ ہوتی ہے کہ متعلقہ کمپنی کے ریکارڈ میں سی ڈی سی (Central Depository Company) کے ذریعے خریدے گئے شیئرز خریدار کے نام منتقل کیے جاتے ہیں، اسٹاک ایکسچینج کی اصطلاح میں اس کو ڈیلیوری اور قبضہ کہا جاتا ہے۔لہذا جب تک خریدے گئے شیئرز سی ڈی سی کے ذریعہ متعلقہ کمپنی کے ریکارڈ میں خریدار کے نام منتقل نہیں ہوجاتے، انہیں آگے فروخت کرنا شرعاً جائز نہیں، کیونکہ شرعاً کسی بھی چیز کو آگے بیچنے کے لیے اس پر قبضہ شرط ہے۔
11۔اسی طرح ممکنہ خطرات کے باعث کمپنی اگر حاصل شدہ منافع میں سے کچھ فنڈ ریزرو کے طور پہ محفوظ رکھتی ہےتو یہ جائز ہے ۔
حوالہ جات
فقہ البیوع (1/365):
وبجواز بيع الأسهم أفتى كثير من علماء الهند، مثل: الإمام الشيخ أشرف علي التهانوي ۔
ولكن هذا الجواز يخضع لجميع شروط البيع؛ فلو كانت الشركة لم تبدأ نشاطها، وكانت موجوداتها مقتصرة على نقود، فإن أسهم تلك الشركة لا تمثل إلا نقوداً، فلو بيع السهم بنقد في هذه الحالة، فإنه لا يجوز بيعها بأقل أو أكثر من قيمتها الاسمية، لأن التفاضل يؤدي إلى الربا۔
وكذلك إن كانت الشركة تجارتها حراماً، مثل: الشركات التي تتعامل في الخمر أو الخنزير، أو البنوك الربوية، يحرم تداول أسهمها.
أما إذا كانت الشركة نشاطها التجاري حلالاً، ولكنها تودع فائض نقودها في البنوك الربوية، وقد تقترض منها قروضاً ربوية، فاختلفت أنظار الفقهاء المعاصرين في جواز شراء أسهمها؛ فقالت جماعة من العلماء: إنّه لا يجوز شراء أسهمها ؛ لأنّ حامل السهم يشارك في هذه العمليات المحرمة، فكان مثل شراء أسهم الشركات التي نشاطها التجاري حرام. وقال الآخرون: إن إيداع فائض النقود في البنوك الربوية عملية منفصلة عن نشاطها التجاري، فلا يؤثر على أصل النشاط، بشرط أن يكون قليلاً بالنسبة إلى نشاطها الأساسي، وقدره أكثر المجيزين أن يكون مثل هذا الإيداع أقل من ثلاثين في المئة بالنسبة إلى قيمة موجوداتها، والعائد الناتج منها أقل من خمسة في المئة من مجموع إيراداتها، وقالوا: إن حامل السهم يجب عليه أن يرفع صوته في الجمعية العمومية ضد الإقراض أو الاقتراض الربوي، ولكن إذا رفض صوته بالأغلبية، ودخل هذا الكسب المحرم في أرباح الشركة، فإنه يجب عليه أن يتخلص من هذا الكسب المحرم بالتصدق بما يُساوي حصته من الإيراد الذي دخل في الشركة تبعاً من خلال هذا الإيداع.
أما عملية الاقتراض الربوي، فحرام بلا شك، ويأثم بها فاعلها، ولكن المبالغ المقترضة تدخل في ملكه وضمانه، فلا يحرم ما يكسبه بها، وعلى حامل السهم أن لا يأذن لمديري الشركة بهذه التعاملات الربوية برفع صوته في الجمعية العمومية، فإن امتنعوا فهو المقصود، وإن لم يمتنعوا، فلا يُنسب فعلهم إلى حامل السهم، لأن طبيعة الشركة المساهمة مختلفة عن شركة الأشخاص من حيث إن القرارات في الشركة المساهمة تتخذ على أساس الأغلبية، وليس بإجماع الشركاء، كما هو الحال في شركة الأشخاص، فلا تنسب القرارات إلى حامل السهم الذي صرح بإنكاره عليها، وإلى هذا يبدو ميلان شيخ مشايخنا التهانوي ، والله أعلم.
ثم إن كان اقتناء أسهم الشركات جائزاً، انطبق على بيعه وشرائه جميع الشروط الشرعية لجواز البيع وصحته، ولذلك لا يجوز لأحد أن يبيع أسهماً لا يملكها، كما هو معمول به في البورصات، فإن الناس يبيعون أسهماً لا يملكونها، ويُسمونها: (Short Sale) وهو ممنوع في الشريعة قطعاً.
وكذلك يجب أن تكون الأسهم مقبوضةً لدى البائع قبل أن يبيعها إلى آخر، وألا يكون بيعاً مضافاً إلى المستقبل، وألا يستلزم محظوراً آخر، مثل الربا.
المعاييرالشرعيه (معيار رقم ١٢،الشركة)
13-5-1-3. يجوز النص بالاستناد إلى نظام الشركة أو إلى قرار من الشركاء على الاحتفاظ بأرباح الشركة دون توزيع، أو حسم نسبة معينة من الأرباح بشكل دوري تقوية لملاءة الشركة، أو لتكوين احتياطي خاص لمواجهة مخاطر خسارة رأس المال، أو للمحافظة على معدل توزيع الأرباح.
عبدالغفاربن غلام اکبر
دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی
٦ /صفرالمظفر/١٤٤٨
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | عبدالغفار بن غلام اکبر | مفتیان | محمد حسین خلیل خیل صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


