03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
متعدد طلاقیں دینے کے بعد رجوع کرنے کا شرعی حکم
91463طلاق کے احکامطلاق سے رجو ع کا بیان

سوال

اپنی بیوی سے لڑائی ہوئی اور وہ گھر چھوڑ کر چلی گئی۔اس  کے بعد جب بھی میں بچوں سے ملنے جاتا تھا، تو بچے یہی کہتے تھے کہ مما جانے سے منع کرتی ہیں۔ کبھی بچے میرے ساتھ آ جاتے تھے، لیکن میں انہیں دو تین گھنٹے بعد دوبارہ ان کی والدہ کے پاس چھوڑ دیتا تھا۔ایک دن جب میں بچوں سے ملنے گیا، تو میری بیٹی عائشہ نور نے کہا: بابا! مما آپ کے ساتھ جانے سے منع کرتی ہیں۔بچوں کے یہ الفاظ سن کر مجھے بہت دکھ ہوا۔ اس پر میں نے اپنی بیٹی عائشہ نور سے کہا: کہ مما گئی محمد حسان علی کی وجہ سے تھی، فارغ آپ کی وجہ سے ہوگی۔یہ کہہ کر میں وہاں سے واپس آ گیا۔بعد میں میرا اپنی بیوی سے فون پر رابطہ ہوتا رہا۔ تو میں نے کہا کہ تم نے بچوں کو میرے ساتھ جانے سے کیوں منع کیا؟ تو میری بیوی نے کہا: تم بچوں کا خون پیتے ہو۔ اس پر میں نے کہا: اب کیا کروں؟ تو میری بیوی نے کہا: اب جو بات ہوگی، کورٹ میں ہوگی۔اس بات پر میں نے اپنی بیوی کو چھ بار طلاق کے جملے ادا کیے۔اس بارے میں مفتیان کرام کیا فرماتے ہیں؟ کیا میں اپنی بیوی سے رجوع کر سکتا ہوں یا نہیں؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

جب شوہر نے  اپنی بیوی  کے لئے چھ مرتبہ طلاق کے الفاظ ادا کر چکا ہے، تو اس  کا حکم یہ ہے کہ  بیوی پر  تین طلاقیں  واقع ہو چکی ہیں، جس سے نکاح مکمل طور پر ختم ہو گیا ہے اور اب شوہر کو رجوع کرنے یا باہمی رضامندی سے تجدید نکاح کرکے ساتھ رہنے  کاشرعا  کوئی حق حاصل نہیں ، اور تین سے زائد ادا کیے گئے الفاظ محل باقی نہ رہنے کی وجہ سے شرعاً لغو اور باطل ہیں۔

اکٹھی تین طلاقیں دینا شریعت کی نظر میں بہت بری حرکت ہے، شریعت نے طلاقوں کی تعداد تین اس لیے رکھی ہے کہ پہلی طلاق کے بعد  یا دوسرے کے بعد واپسی کا امکان رہے، جو شخص شریعت کی اس مصلحت کو نظرانداز کرکےاکٹھے  تین طلاقیں  دیتا ہے، وہ ایک قبیح عمل کا  مرتکب بھی  ہوتا ہے، بعد میں پچھتاتا ہے۔ تاہم  تین طلاقیں واقع ہو جاتی ہیں۔

حوالہ جات

الطَّلَاقُ مَرَّتَانِ فَإِمْسَاكَ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحُ بِإِحْسَانٍ۔۔۔۔۔ فَإِن طَلَّقَهَا فَلا تَحِلُّ لَهُ مِن بَعْدُ حَتَّى تَنكِحَ زَوْجًاغَيْرَهُ ".

) البقرة: 230، 229(

إذا قال لها: أنت طالق أربعا، فإنه يقع الثلاث ويلغو الزائد. وله أن الواحدة غير الثلاث لفظا ومعنى،

فقد أتت بغير ما ملكها فكان كلاما مبتدأ فلا يقع، بخلاف الزوج لأنه يملك الثلاث۔۔۔.

(الاختيار لتعليل المختار، 3/ 137)

عن عائشة أن رجلا طلق امرأته ثلاثا ،فتزوجت فطلق فسئل النبي- صلى الله عليه وسلم- أتحل للأول قال: لا حتى يذوق عسيلتها كما ذاق الأول."

(الصحيح البخاري ، 2/300)

عبدالرحیم بن سید جنان

دارالافتاءجامعۃ الرشیدکراچی

   06/صفر المظفر /1448ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

عبد الرحیم بن سید جنان

مفتیان

محمد حسین خلیل خیل صاحب / سعید احمد حسن صاحب