| 92893 | ایمان وعقائد | کفریہ کلمات اور کفریہ کاموں کابیان |
سوال
حال ہی میں بنگلہ دیش میں ایک واقعہ پیش آیا کہ ایک شخص کو اس الزام پر قتل کردیا گیا کہ اس نے اسلام یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کی ہے، حالانکہ اس الزام کے واضح ثبوت موجود نہیں تھے۔ قاتل انتظامیہ کے سامنے فخر سے کہہ رہا ہے کہ اگرچہ میں ملکی قانون کی نظر میں مجرم ہوں، لیکن اللہ تعالیٰ کی نظر میں مجرم نہیں ہوں۔ اس پر لوگوں کی دو آراء ہیں: بعض کہتے ہیں کہ اسے اس عمل پر جنت ملے گی، اور بعض کہتے ہیں کہ اس طرح قتل کرنا اور اس پر فخر کرنا درست نہیں۔
سوال یہ ہے کہ اس بارے میں شریعت کا نقطۂ نظر کیا ہے اور ہمیں کیا موقف اختیار کرنا چاہیے؟ نیز اگر واضح ثبوت بھی مل جائیں کہ اس شخص نے واقعی گستاخی کی تھی، تب بھی بنگلہ دیش جیسے ملک میں اسے قانون کے حوالے کرنے کے بجائے خود قتل کردینا شرعاً کس حد تک درست ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ گرامی مسلمانوں کے لیے اپنی جان، مال اور اولاد سے بھی زیادہ محبوب ہے، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شانِ اقدس میں گستاخی بلاشبہ ایک بدترین اور شنیع ترین جرم ہے جو پوری امتِ مسلمہ کے دلوں کو چھلنی کر دیتا ہے۔ اس عظیم ترین ہستی کی ناموس کا تحفظ ملک کے ہر شہری اور بالخصوص ہر مسلمان کی بنیادی ذمہ داری ہے۔حدود نافذ کرنے اور سزا دینے کا اختیار صرف اور صرف ریاست کے مجاز اداروں اور عدالت کو حاصل ہے۔ جرم ثابت ہونے سے پہلے نہ تو ریاست کو سزا دینے کا اختیار ہے اور نہ ہی عوام کو۔ نیز جب تک جرم یقینی ثابت نہ ہو کسی سے مجرموں جیسے برتاو بھی انصاف کے تقاضے کے خلاف ہے۔
فقہائے کرام نے صراحت کی ہے کہ اگر کسی پر شرعی ثبوت کے ذریعے موت کی سزا لازم ہو جائے اور کوئی شخص عدالتی فیصلے سے پہلے اسے خود قتل کر دے تو اس پر قصاص لازم ہے۔ اور اگر فیصلے کے بعد مگر حکومتی عمل درآمد سے پہلے قتل کرے تو وہ حاکم کے اختیار میں مداخلت کی وجہ سے تعزیر کا مستحق ہے۔ لہٰذا جرم ثابت ہونے سے پہلے محض الزام کی بنیاد پر کسی کو مار دینا بطریقِ اولیٰ ناحق قتل اور سنگین گناہ ہے۔کسی اہل ذمہ کو قتل کرنے والے کے بارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایسا مسلمان جنت کی خوشبو بھی نہیں پائےگا۔
ہر ملک میں مذہبی جذبات مجروح کرنے کے خلاف قوانین موجود ہوتے ہیں، لہٰذا الزام کی صورت میں معاملہ فوراً پولیس اور عدالت کے سپرد کرنا لازم ہے۔ اگر قوانین ناکافی ہوں یا حکومت سنجیدہ نہ ہو، تب بھی قانون ہاتھ میں لینے کے بجائے ایک منظم، پرامن اور آئینی جدوجہد کا راستہ اپنانا چاہیے۔ مسلمانوں، بالخصوص علماء اور دینی قیادت کی ذمہ داری ہے کہ وہ ماہرینِ قانون، میڈیا اور سول سوسائٹی کے تمام طبقات کو ساتھ ملا کر مؤثر قانون سازی کے لیے پرامن جدوجہد کریں۔ مساجد کے منبر، سیمینارز اور میڈیا کے ذریعے مدلل انداز میں رائے عامہ ہموار کی جائے۔ نیز، اراکینِ پارلیمنٹ کی لابنگ، عدالتوں میں آئینی درخواستوں، دستخطی مہم، پرامن احتجاج اور باصلاحیت افراد کو فیصلہ ساز اداروں تک پہنچا کر حکومت پر ایسا قانونی دباؤ بڑھایا جائے جس سے مقننہ کے اندر سے ایک مضبوط آواز ابھرے اور اس جرم کا مستقل سدباب ہو سکے۔
اس کے علاوہ جہالت اور تعصب کا سب سے بہترین اور پائیدار علاج یہی ہے کہ تعلیمی اداروں، مساجد، میڈیا اور انفرادی سطح پر سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پیغام کو عام کیا جائے تاکہ کسی کو لاعلمی یا عناد کی بنیاد پر انگلی اٹھانے کی جسارت ہی نہ ہو۔
حوالہ جات
صحيح البخاري - 3166
حدثنا قيس بن حفص ، حدثنا عبد الواحد ، حدثنا الحسن بن عمرو ، حدثنا مجاهد ، عن عبد الله بن عمرو رضي الله عنه ، عن النبي صلى الله عليه وسلم ، قال : " من قتل معاهدا لم يرح رائحة الجنة ، وإن ريحها توجد من مسيرة أربعين عاما ".
الدر المختار مع رد المحتار (4/ 233):
وقال في الشفاء في موضع آخر: قال أبو حنيفة وأصحابه: من برئ من محمد صلى الله عليه وسلم أو كذب به فهو مرتد حلال الدم إلا أن يرجع ... فهذا صريح كلام القاضي عياض في الشفاء والسبكي وابن تيمية وأئمة مذهبه على أن مذهب الحنفية قبول التوبة بلا حكاية قول آخر عنهم، وإنما حكوا الخلاف في بقية المذاهب ... وقد استوفيت الكلام على ذلك في كتاب سميته [تنبيه الولاة والحكام على أحكام شاتم خير الأنام].
البحر الرائق شرح كنز الدقائق (5/ 8):
وأشار بسؤال الإمام إلى أنه لا يعتبر إقراره عند غير الحاكم؛ لأنه لا ولاية له في إقامة الحدود.
النهر الفائق شرح كنز الدقائق (3/ 130):
ولو قتله إنسان أو فقأ عينه فلا شيء عليه ولو قبل القضاء وجب القصاص في العمد والدية في الخطأ، كذا في (المحيط). ومعنى لا شيء عليه أي: لا يقتص منه وإلا فينبغي أن يعزر لافتئاته أي: تجاوزه على الإمام.
الدر المختار شرح تنوير الأبصار وجامع البحار(ص307):
(فلو قتله شخص أو فقأ عينه بعد القضاء به فهدر) وينبغي أن يعذر لافتياته على الامام.
نهر (و) لو (قبله) أي قبل القضاء به (يجب القصاص في العمد والدية في الخطأ) لان الشهادةقبل الحكم بها لا حكم لها.
ظہوراحمدبن خیردادخان
دارالافتاءجامعۃالرشید کراچی
14/جمادی الاولی/1448ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | ظہوراحمد ولد خیرداد خان | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


