| 92794 | سود اور جوے کے مسائل | انشورنس کے احکام |
سوال
کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ میں بینچ مارک بی پی اونامی ادارے میں بطور فل اسٹیک اے آئی انجینئر (Full Stack AI Engineer) ملازم ہوں۔ یہ کمپنی خود انشورنس نہیں بیچتی، بلکہ امریکی ہیلتھ انشورنس (مثلاً 65 سال سے زائد العمر افراد کے لیے میڈیکیئر اور 18 سے 64 سال کے لیے اے سی اے مارکیٹ پلیس) کے لیے گاہکوں (Leads) کو کالز کے ذریعے تلاش اور کوالیفائی کر کے آگے ایک مستقل لائسنس یافتہ ایجنٹ (مستقل کمپنی/فرد) کے سپرد کرتی ہے۔ اگر ایجنٹ سے گاہک کی بات چیت ایک مخصوص وقت (مثلاً 2 سے 3 منٹ) سے تجاوز کر جائے تو کمپنی کو اس کی اجرت ملتی ہے۔ میرا کام کمپنی کے تمام اندرونی شعبہ جات (مثلاً کال ریکارڈ، کوالٹی چیک، ایچ آر، فنانس اور ایڈمن) کے انتظامی و مالیاتی ڈیٹا کو یکجا کرنے کے لیے ایک سی آر ایم (CRM) سافٹ ویئر تیار کرنا ہے، جسے کمپنی خود بھی استعمال کرے گی اور آگے بطورِ سافٹ ویئر (SaaS) دیگر اداروں کو بھی فروخت کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ شرعی نقطہ نظر سے معلوم یہ کرنا ہے کہ خود انشورنس نہ بیچنے بلکہ انشورنس ایجنٹ کے لیے کوالیفائیڈ گاہک فراہم کرنے والی اس کمپنی میں بطورِ سافٹ ویئر ڈویلپر/انجینئر کام کرنا، اس نوعیت کا سافٹ ویئر بنانا اور اس سے حاصل ہونے والی آمدن و ملازمتی اجرت کا شرعاً کیا حکم ہے؟
تنقیح: کمپنی کی آمدن متعدد ذرائع سے حاصل ہوتی ہے، جن میں انشورنس کے لیے کلائنٹس ڈھونڈناسافٹ ویئر کو بطورِ SaaS (ایک ایسا ڈیجیٹل عقدِ اجارہ جس میں صارف کو سافٹ ویئر کی ملکیت دیے بغیر، ایک طے شدہ مدت کے لیے اس کی سہولیات اور منافع سے استفادے کا حق دیا جاتا ہے) نیز سی این جی پمپ اور ویزا ایجنسی کی خدمات شامل ہیں۔ البتہ ان ذرائع میں سے غالب آمدن کے تناسب یا فیصد کا اندازہ سائل کو معلوم نہیں ہے۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
سی آر ایم (CRM - Customer Relationship Management)سافٹ ویئر کی تیاری کمپنی کی حرام سرگرمیوں سے جدا ایک انتظامی خدمت ہے، جس کا مقصد معلومات اور ڈیٹا کو مرتب کرنا ہے۔
لہٰذا آپ کا کام تو درست ہے، تاہم آپ کے لیے تنخواہ لینا اس وقت حلال ہوگا جب کمپنی کا اکثر سرمایہ اور آمدن حلال ہو۔ اور اگر غالب حصہ حرام پر مشتمل ہو تو ایسی کمپنی کے ساتھ کام کرنے سے اجتناب ضروری ہے اور اپنے لیے جلد از جلد متبادل ذریعۂ معاش کی تلاش لازمی ہے۔ اب تک جو تنخواہ وصول کی ہے، اگر وہ کمپنی کی حلال آمدن سے کم ہو تو اسے صدقہ کرنا ضروری نہ ہوگا۔
چونکہ کمپنی کے شعبہ جات کی وجہ سے آمدن میں کسی حد تک شبہ موجود ہے، اس لیے تقویٰ کا تقاضا یہی ہے کہ ایسے کام سے پرہیز کیا جائے۔ تاہم اگر شدید مجبوری ہو تو ناپسندیدگی اور استغفار کے ساتھ کام جاری رکھتے ہوئے کسی پاکیزہ متبادل کی سعی وتلاش لازم ہے۔
حوالہ جات
البحر الرائق(372/8)
(وحمل خمر الذمي بأجر) يعني جاز ذلك وهذا عند الإمام. وقالا : يكره لأنه عليه الصلاة والسلام لعن في الخمر عشرة وعد منها حاملها. وله أن الإجارة على الحمل وهو ليس بمعصية وإنما المعصية بفعل فاعل مختار فصار كمن استأجره لعصره خمر العنب وقطفه والحديث يحمل على الحمل المقرون بقصد المعصية وعلى هذا الخلاف إذا أجر دابة ليحمل عليها الخمر أو نفسه ليرعى له الخنازير فإنه يطيب له الأجرة عنده، وعندهما يكره.
فقہ البیوع: (1023/2)
والحاصل ان الاجارة في الخدمه المباحة انما تصح اذا كانت أجرتها معلومة بانفرادها، ولا تصح فيها إذا لم تكن أجرتها معلومة . فإن كانت كذلك في خدمات الفنادق والمطاعم والبنوك والشركات التأمين صارت أجرة الموظف فيها مركبة من الحلال والحرام فدخلت في صورة الثالثة من القسم الثالث وحل التعامل معه بقدر الحلال. اما اذا لم تعرف أجره الخدمۃ المباحة على حدتها فالإجارة فاسدة ولكن الأجير يستحق اجر المثل في الإجارات الفاسدة كما صرح به ابن قدامة رحمه الله بذلك في اجارات فاسدة أخرى. وعلى هذا فإن ما يقابل أجر المثل لخدمة المباحة في راتبة ينبغي أن يكون حلال فصار راتبه مخلوطا من الحلال والحرام في هذه الصور أيضا فينبغي أن يجوز معه مع التعامل بقدر الحلال.
فيه البيوع (194/1)
وما ليس كذلك لم تقوم المعصيه بعين فعل المعين. وسائر الجزئيات المذكورة من باع العصير والأمرد والجارية المغنية والكبش النطوح والحمامه الطياره واجاره البيت لبيع الخمر أو اتخاذه بيت نار أو كنيسة … كلها داخلة في هذا القسم، أعني ما لم تقم المعصية بعينه، بشرط أن لا ينوي بها معصية، ولا يصرح بها في العقد، ولا يتمحض استعمالها في المعصية كما قلنا. وعلى هذا فخرجت هذه الجزئيات كلها من باب الإعانة على المعصية حقيقه…. لكن هناك معنى آخر يقارب معنى الإعانة وهي التسبب هو أيضا لا يخلو عن حرمة وكراهة إذا كان سببا للمعصية… ويتلخص منه أن الإنسان إذا قصد الإعانة على المعصية باحدى الوجوه الثلاثة المذكورة فإن العقد حرام لا ينعقد والبائع اثم إذا لم يقصد ذلك وكان البيع سببا للمعصية فلا يحرم العقد ولكن إذا كان سببا محركا فالبيع حراما وإن لم يكن محركا وكان سببا قريبا بحيث يستخدم في المعصية في حالته الراهنة ولا يحتاج الى صنعه جديده من الفاعل، كره تحريما، والا فتنزيها.
ظہوراحمدبن خیردادخان
دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی
05/جمادی الاولی/1448ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | ظہوراحمد ولد خیرداد خان | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


