03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
شیعہ لڑکی سے نکاح کرنے کا حکم
92223نکاح کا بیانولی اور کفاء ت ) برابری (کا بیان

سوال

میرا نام علی رضا ہے، میں ایک سید زادی سے محبت کرتا ہوں اور وہ سید زادی بھی مجھ سے محبت کرتی ہے۔ وہ شیعہ سید ہیں اور ہم دونوں شادی کرنا چاہتے ہیں، لیکن کچھ علما فرماتے ہیں کہ سیدہ کسی غیر سید سے شادی نہیں کر سکتی۔ میں سنی ہوں اور سید نہیں ہوں، تو میرا یہ سوال ہے کہ کیا ہماری شادی ہو سکتی ہے یا نہیں؟ وہ کہتے ہیں کہ سید زادی کی سنی لڑکے سے شادی حرام ہے، کیا ایسا کچھ ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

نکاح دو افراد کے درمیان محض ایک جنسی تعلق کا نام نہیں بلکہ یہ  دو خاندانوں اور نسل در نسل چلنے والے معاشرتی تعلق کا نام ہے ۔ اس کے دیرپا ہونے کے لیے ضروری ہے کہ آ پس میں نظریاتی اور ذہنی ہم آہنگی ہو۔شریعت نے اسی لیے لڑکے لڑکی کے درمیان مناسبت کے لیے بہت سے احکام بیان کیے ہیں۔ شیعہ عقائد، اہل سنت کےعقائدسے نہ صرف مختلف ہیں۔بلکہ ان سے متضاد اور برعکس ہیں۔ لہذا ایسی جگہ شادی کرنا اپنے آپ کو یا کم ازکم اپنے بچوں کو نظریاتی گمراہی میں ڈالنے کا سبب بنے گا، اور اگر آپ روکنے میں سختی کریں گے تو خاندان نہیں چل سکے گا ،اس لیے ایسا رشتہ کرنا ناجائز اور غیر معقول ہے، اس سے بچنا ضروری ہے ۔

نیز  اکثرشیعہ کے عقائدکفرپر بھی مبنی ہوتےہیں ، جیسے قرآنِ مجید میں تحریف، حضرت علی رضی اللہ عنہ کے معبود ہونے، یا جبرائیلِ امین  علیہ السلام سے وحی پہنچانے میں غلطی کا عقیدہ رکھنا، یا حضرت ابوبکر صدیق و حضرت عمر رضی اللہ عنہما کی صحابیت کا انکار کرنا، یا حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا پر تہمت لگانا وغیرہ۔  ایسی صورت میں تو یہ نکاح منعقد ہی نہیں ہوگا ۔ 

لہٰذا درست بات یہ ہے کہ آپ کا ایسی لڑکی سے نکاح کرنا درست نہیں ہے۔ آپ وقتی جذبات کے بجائے دین کی تعلیم پر عمل کریں، تو ان شاء اللہ دنیا و آخرت میں بہت سی خیر و برکت حاصل کر پائیں گے۔

مزید یہ کہ  اگرصحیح العقیدہ سیدہ عورت کے اولیاء (سرپرست) راضی ہوں تو اس کا نکاح غیرِ سید لڑکے سے ہو سکتا ہے۔اگر راضی نہ ہو تو غیر سید کا نکاح سیدہ لڑکی سے جائز نہیں۔

حوالہ جات

رد المحتار علی الدر المختار(378/7):

ففی حاشية ابن عابدين: نعم لا شك في تكفير من قذف السيدة عائشة - رضي الله تعالى عنها - أو أنكر صحبة الصديق، أو اعتقد الألوهية في علي أو أن جبريل غلط في الوحي، أو نحو ذلك من الكفر الصريح المخالف للقرآن .

رد المحتار علی الدر المختار(135/4):

وبهذا ظهر أن الرافضي إن كان ممن يعتقد الألوهية في علي، أو أن جبريل غلط في الوحي، أو كان ينكر صحبة الصديق، أو يقذف السيدة الصديقة فهو كافر لمخالفته القواطع المعلومة من الدين بالضرورة، بخلاف ما إذا كان يفضل عليا أو يسب الصحابة فإنه مبتدع لا كافر اھ

الفتاوى الهندية (2/ 286) :

الرافضي إذا كان يسب الشيخين ويلعنهما والعياذ بالله، فهو كافر، وإن كان يفضل عليا كرم الله تعالى وجهه على أبي بكر -رضي الله تعالى عنه- لا يكون كافرا إلا أنه مبتدع والمعتزلي مبتدع إلا إذا قال باستحالة الرؤية، فحينئذ هو كافر كذا في الخلاصة. ولو قذف عائشة -رضي الله تعالى عنها- بالزنا كفر بالله، (إلی قوله) من أنكر إمامة أبي بكر الصديق -رضي الله عنه-، فهو كافر، وعلى قول بعضهم هو مبتدع وليس بكافر والصحيح أنه كافر، وكذلك من أنكر خلافة عمر -رضي الله عنه- في أصح الأقوال كذا في الظهيرية. واللہ أعلم بالصواب

مجمع الأنهر في شرح ملتقى الأبحر(489/1):

وتجوز مناكحة المعتزلة لأنا لا نكفر أحداً من أهل القبلة وإن وقع إلزاماً في المباحث…

الهداية (1/ 200):

فصل في الكفاءة : الكفاءة في النكاح معتبرة، قال عليه الصلاة والسلام: ألا لا يزوج النساء إلا الأولياء ولا يزوجن إلا من الأكفاء، ولأن انتظام المصالح بين المتكافئين عادة؛ لأن الشريفة تأبى أن تكون مستفرشة للخسيس، فلا بد من اعتبارها، بخلاف جانبها؛ لأن الزوج مستفرش فلا تغيظه دناءة الفراش. وإذا زوجت المرأة نفسها من غير كفء فللأولياء أن يفرقوا بينهما دفعا لضرر العار عن أنفسهم.

الدر المختار (4/ 210):

( وتعتبر ) الكفاءة للزوم النكاح خلافا لمالك ( نسبا فقريش ) بعضهم ( أكفاء ) بعض ( و ) بقية ( العرب ) بعضهم ( أكفاء ) بعض واستثنى في الملتقى تبعا للهداية بني باهلة لخستهم والحق الإطلاق، قاله المصنف كالبحر والنهر والفتح والشرنبلالية، و يعضده إطلاق المصنفين كالكنز والدرر، وهذا في العرب ( و ) أما في العجم فتعتبر (حرية وإسلاما)..

ظہوراحمدبن خیردادخان

دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی

15/ربیع الآخر/1448ھ 

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

ظہوراحمد ولد خیرداد خان

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب