| 92581 | طلاق کے احکام | مدہوشی اور جبر کی حالت میں طلاق دینے کا حکم |
سوال
ہماری بھتیجی کے شوہر ان پر اور اپنے بچوں (بیٹیوں اور بیٹوں) پر شدید مار پیٹ کرتے ہیں، اور یہ سلسلہ تقریباً چار پانچ ماہ سے جاری تھا۔ کچھ دن پہلے انہوں نے بیوی اور بچوں کو مارنے کی نیت سے چھریاں بھی تیز کروا کے رکھی تھیں اور ہتھوڑی بھی رکھی ہوئی تھی، اور وہ کہتے تھے کہ "میں تم سب کو مار دوں گا"۔ وہ کافی عرصے سے شدید ذہنی تناؤ (ڈپریشن) میں مبتلا اور بے روزگار بھی تھے، جس کی وجہ سے مالی حالات خرابی کا شکار تھے اور وہ بہت پریشان رہتے تھے۔
تین دن پہلے گھر میں بیوی بچوں کے ساتھ بہت سخت لڑائی ہوئی، جس پر بچے اور بیوی نیچے اپنے سسر کے پاس آ گئے۔ بھتیجی نے اپنے شوہر کے چچا اور اپنے بھائیوں کو بھی بلا لیا تاکہ وہ انہیں اس مار پیٹ سے بچائیں۔ بھتیجی کے شوہر نے جب اپنی بیوی کے بھائیوں اور اپنے چچا وغیرہ کو دیکھا تو شدید غصے میں آ گئے اور سیڑھیوں پر کھڑے ہو کر پہلے اپنی بیوی کو لعنت دی اور اسی وقت اپنی بیوی کے لیے تین دفعہ طلاق کا لفظ استعمال کیا۔
بقول ہماری بھتیجی کے، ان کے شوہر کچھ دنوں سے شدید ذہنی تناؤ (ڈپریشن) میں تھے۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا اس حالت میں طلاق واقع ہو جاتی ہے؟ کیونکہ وہ نہ کسی ڈاکٹر کے پاس جاتے تھے، نہ ڈاکٹر نے کوئی ادویات تجویز کی تھیں، اور نہ ہی آس پاس یا خاندان میں یہ مشہور تھا کہ وہ کوئی نفسیاتی مریض ہیں۔ بلکہ طلاق دیتے وقت انہیں زیادہ غصہ اس بات کا تھا کہ بیوی اور بچوں نے ان کے چچا اور اپنے بھائیوں کو کیوں بلایا ہے۔برائے مہربانی اس کا شرعی حکم جلد از جلد بیان فرما دیں۔ جزاکم اللہ۔
تنقیح: سائل سے رابطہ کی گئی لیکن وضاحت نہ مل سکی۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
صورتِ مسئولہ میں شوہر کے احوال سے واضح ہے کہ اگرچہ وہ ذہنی دباو کا شکار تھا، لیکن اسے اتنا ہوش ہے کہ وہ طلاق سمجھ کر دے رہا ہے۔ لہٰذا شوہر کا اپنی بیوی کے لیے تین مرتبہ طلاق کا لفظ استعمال کرنے سے تینوں طلاقیں واقع ہو چکی ہیں، جس سے دونوں کے درمیان حرمتِ مغلظہ ثابت ہو گئی ہے۔ اب دونوں پر لازم ہےکہ وہ علیحدگی اختیار کریں۔ نیز باہم رجوع یا دوبارہ نکاح کی کوئی گنجائش بھی نہیں رہی۔ خاتون اپنی عدت (تین ماہواریاں) پوری کرنے کے بعد اپنی رضامندی سے کسی بھی دوسری جگہ نکاح کرنے میں شرعاً آزاد ہے۔
حوالہ جات
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (4/ 453):
مطلب في طلاق المدهوش وقال في الخيرية: غلط من فسره هنا بالتحير، إذ لا يلزم من التحير وهو التردد في الأمر ذهاب العقل. وسئل نظما فيمن طلق زوجته ثلاثا في مجلس القاضي وهو مغتاظ مدهوش، أجاب نظما أيضا بأن الدهش من أقسام الجنون فلا يقع، وإذا كان يعتاده بأن عرف منه الدهش مرة يصدق بلا برهان. اهـ. قلت: وللحافظ ابن القيم الحنبلي رسالة في طلاق الغضبان قال فيها: إنه على ثلاثة أقسام: أحدها أن يحصل له مبادئ الغضب بحيث لا يتغير عقله ويعلم ما يقول ويقصده، وهذا لا إشكال فيه. والثاني أن يبلغ النهاية فلا يعلم ما يقول ولا يريده، فهذا لا ريب أنه لا ينفذ شيء من أقواله.
الثالث من توسط بين المرتبتين بحيث لم يصر كالمجنون فهذا محل النظر، والأدلة على عدم نفوذ أقواله. اهـ... فالذي ينبغي التعويل عليه في المدهوش ونحوه إناطة الحكم بغلبة الخلل في أقواله وأفعاله الخارجة عن عادته، وكذا يقال فيمن اختل عقله لكبر أو لمرض أو لمصيبة فاجأته: فما دام في حال غلبة الخلل في الأقوال والأفعال لا تعتبر أقواله وإن كان يعلمها ويريدها لأن هذه المعرفة والإرادة غير معتبرة لعدم حصولها عن الإدراك صحيح كما لا تعتبر من الصبي العاقل، نعم يشكل عليه ما سيأتي في التعليق عن البحر. وصرح به في الفتح والخانية وغيرهما، وهو: لو طلق فشهد عنده اثنان أنك استثنيت وهو غير ذاكر، وإن كان بحيث إذا غضب لا يدري ما يقول وسعه الأخذ بشهادتهما وإلا لا اهـ مقتضاه أنه إذا كان لا يدري ما يقول يقع طلاقه وإلا فلا حاجة إلى الأخذ بقولهما إنك استثنيت، وهذا مشكل جدا، وإلا أن يجاب بأن المراد بكونه لا يدري ما يقول أنه لقوة غضبه قد ينسى ما يقول ولا يتذكره بعد، وليس المراد أنه صار يجري على لسانه ما لا يفهمه أو لا يقصده إذ لا شك أنه حينئذ يكون في أعلى مراتب الجنون، ويؤيده هذا الحمل أنه في هذا الفرع عالم بأنه طلق وهو قاصد له، لكنه لم يتذكر الاستثناء لشدة غضبه، هذا ما ظهر لي في تحرير هذا المقام، والله أعلم بحقيقة المرام ثم رأيت ما يؤيد ذلك الجواب، وهو أنه قال في الولوالجية: إن كان بحال لو غضب يجري على لسانه ما لا يحفظه بعده جاز له الاعتماد على قول الشاهدين، فقوله لا يحفظه بعده صريح فيما قلنا والله أعلم
مختصر القدوری(600)
وطلاق البدعة أن يطلقها ثلاثا بكلمة واحدة أو ثلاثا في طهر واحد فإذا فعل ذلك وقع الطلاق وبانت امراه منه وكان عاصيا.
بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (211/4 ):
وروينا عن عمر رضي الله عنه: أنه كان لا يؤتى برجل قد طلق امرأته ثلاثا إلاأوجعه ضربا، وِأ جاز ذلك عليه وكانت قضاياه بمحضر من الصحابة رضي الله تعالى عنهم أجمعين فيكون إ جماعا منهم على ذلك.
رد المحتار (1 / 303):
كل الطلاق واقع إلا طلاق المعتوه والمغلوب على عقله فافهم
ظہوراحمدبن خیردادخان
دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی
26 /ربیع الآخر/1448ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | ظہوراحمد ولد خیرداد خان | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


