| 91271 | طلاق کے احکام | وہ اسباب جن کی وجہ سے نکاح فسخ کروانا جائز ہے |
سوال
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! ایک خاوند چھ سال سے ہمبستری پر قدرت کے باوجود بیوی سے ہمبستری اور کسی قسم کا کوئی تعلق قائم نہیں کر رہا کیا ایسی صورت میں عورت عدالت سے طلاق لے سکتی ہے ؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
مذکورہ صورت میں جب بیوی کو ازدواجی آسودگی حاصل نہیں ہورہی تو ا س کے لیے شوہر سے طلاق یا خلع کا مطالبہ درست ہے۔ اسے چاہیے کہ شوہر کو طلاق دینے پر راضی کرے، اگر وہ طلاق کے لیے راضی نہ ہو تو خلع کا مطالبہ کرے۔ اگر شوہرطلاق یا خلع دینے کے لیے تیار نہ ہو، اور نہ ہی حقوقِ زوجیت ادا کرنے پر آمادہ ہو، تو اگرعورت کی پاکدامنی خطرے میں تو ایسی صورت میں وہ عدالت میں فسخ نکاح کا مقدمہ دائر کر سکتی ہے۔
جس کا مجوزہ طریقہ یہ ہے کہ عورت عدالت میں فسخ نکاح کا دعویٰ دائر کرے کہ میرا شوہر حق زوجیت ادا نہیں کرتا اور نہ ہی طلاق یا خلع دیتا ہے۔عدالت معاملے کی تحقیق کے بعد شوہر سے اپنی بیوی کے حقوق ادا کرنے کا مطالبہ کرے،اگر شوہر اس پر راضی نہ ہو تو طلاق یا خلع دینے کا مطالبہ کرے ، اگر شوہر طلاق یا خلع دینے کے لیے بھی راضی نہ ہو تو عدالت شوہر کے اس تعنت(ہٹ دھرمی) کی وجہ سے نکاح فسخ کرسکتی ہے۔فسخ نکاح کے بعد بیوی عدت گزارے، اور اس کے بعد وہ کہیں بھی نکاح کرنے میں آزاد ہوگی۔
حوالہ جات
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (3/ 203)
وبه علم أنه كان على الشارح أن يقول ويسقط حقها بمرة في القضاء أي لأنه لو لم يصبها مرة يؤجله القاضي سنة ثم يفسخ العقد. أما لو أصابها مرة واحدة لم يتعرض له لأنه علم أنه غير عنين وقت العقد، بل يأمره بالزيادة أحيانا لوجوبها عليه إلا لعذر ومرض أو عنة عارضة أو نحو ذلك وسيأتي في باب الظهار أن على القاضي إلزام المظاهر بالتكفير دفعا للضرر عنها بحبس أو ضرب إلى أن يكفر أو يطلق وهذا ربما يؤيد القول المار بأنه تجب الزيادة عليه في الحكم فتأمل (قوله ولا يبلغ مدة الإيلاء) تقدم عن الفتح التعبير بقوله ويجب أن لا يبلغ إلخ. وظاهره أنه منقول، لكن ذكر قبله في مقدار الدور أنه لا ينبغي أن يطلق له مقدار مدة الإيلاء وهو أربعة أشهر، فهذا بحث منه كما سيذكره الشارح فالظاهر أن ما هنا مبني على هذا البحث تأمل، ثم قوله وهو أربعة يفيد أن المراد إيلاء الحرة، ويؤيد ذلك أن عمر - رضي الله تعالى عنه - لما سمع في الليل امرأة تقول: فوالله لولا الله تخشى عواقبه لزحزح من هذا السرير جوانبه فسأل عنها فإذا زوجها في الجهاد، فسأل بنته حفصة: كم تصبر المرأة عن الرجل: فقالت أربعة أشهر، فأمر أمراء الأجناد أن لا يتخلف المتزوج عن أهله أكثر منها، ولو لم يكن في هذه المدة زيادة مضارة بها لما شرع الله تعالى الفراق بالإيلاء فيها.
حیلۂ ناجزہ ( 72 )
.. زوجہ متعنت کو اول تو لازم ہے کہ کسی طرح خاوند سے خلع وغیرہ کرلے لیکن اگر باوجود سعی بلیغ کے کوئی صورت نہ بن سکے تو سخت مجبوری کی حالت میں مذہب مالکیہ پر عمل کرنے کی گنجائش ہے کیونکہ ان کے نزدیک زوجہ متعنت کو تفریق کا حق مل سکتا ہے اور سخت مجبوری کی دو صورتیں ہیں :ایک یہ کہ عورت کے خرچ کا کوئی انتظام نہ ہو سکے یعنی نہ تو کوئی شخص عورت کے خرچ کا بندوبست کرتا ہو اور نہ خود عورت حفظ آبرو کے ساتھ کسب معاش پر قدرت رکھتی ہو۔اور دوسری صورت مجبوری کی یہ ہے کہ اگرچہ بسہولت یا بدقت خرچ کا انتظام ہو سکتا ہے لیکن شوہر سے علیحدہ رہنے میں ابتلاء معصیت کا قوی اندیشہ ہو۔
وفی حاشیۃ: وهذا الحكم عند المالكية لا يختص بخشية الزنا وإفلاس الزوجة؛ لكن لم نأخذ مذهبهم على الإطلاق؛ بل أخذناه حيث وجدت الضرورة المسوغة للخروج عن المذهب.
کفایت المفتی (127/6)
(سوال) ایک لڑکااور ایک لڑکی کا نکاح ہوا دونوں کی عمریںتقریباً چھ سال تھیں...
(جواب۱۲۲)اگر لڑکی بالغہ ہوچکی ہے اور طاقتو ر و توانا ہےاور لڑکا ابھی نابالغ اور کمزور ہے اس کے بالغ ہونے میں بظاہر اتنی دیر ہو کہ لڑکی خواہش نفس کو برداشت نہ کرسکے اوراس کے مبتلائے زنا ہوجانے کا غالب گمان ہو تو ایسی حالت میں مسلم حاکم فسخ نکاح کرسکتا ہے اگر حاکم بعد تحقیقات کے نکاح فسخ کردینا ضروری سمجھے اور فسخ کردے تو عورت دوسرے شخص سے نکاح کرسکے گی.
(سوال)... اب لڑکی ایک سال سے جوان ہے اور لڑکا عبداللہ تخمیناً ۹ سال کی عمر کاہے فریقین کو اندیشہ ہورہا ہے کہ فسادات زمانہ دیکھ کر کہیں لڑکی کسی دیگر شخص کے ساتھ ناجائز تعلق پیدا کرکے نکل نہ جائے ...
(جواب ۱۲۳)اگر لڑکی بالغہ ہوچکی ہے اور اس کا شوہر ابھی نابالغ ہے اور اس کے بلوغ تک انتظارکرنے میں لڑکی کی عصمت خراب ہونے کا خطرہ ہے تو اس صورت میں کسی مسلمان حاکم کی عدالت سے نکاح فسخ کرایا جاسکتا ہے اور بعد حصول فیصلہ فسخ دوسرا نکاح ہوسکے گا ۔
ظہوراحمد
دارالافتا ءجامعۃالرشید کراچی
29 محرم الحرام 1448ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | ظہوراحمد ولد خیرداد خان | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


