03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
مختلف ایپس پر محض کلک کرنے پر ملنے والے منافع اور اجرت کا حکم
90747اجارہ یعنی کرایہ داری اور ملازمت کے احکام و مسائلکرایہ داری کے فاسد معاملات کا بیان

سوال

مفتی صاحب! Mintly نامی ایک ایپ ہے جو بزنس واٹس ایپ (Business WhatsApp) کے ساتھ منسلک ہو کر چلتی ہے، جس میں مخصوص ٹاسک (Tasks) پورے کرنے پر نفع دیا جاتا ہے۔

اس کا طریقہ کار یہ ہے کہ جیسے ہی کوئی صارف اس ایپ کو انسٹال کرتا ہے، تو وہ واٹس ایپ نمبر مانگتی ہے۔ جب واٹس ایپ نمبر درج کیا جائے تو وہاں ایک کوڈ (OTP) موصول ہوتا ہے۔اس کوڈ کو ایپ میں درج کرنے کے بعد، بغیر کسی انویسٹمنٹ (سرمایہ کاری) کے دو قسم کے ٹاسک دیے جاتے ہیں۔ ایک 2900 کا ٹاسک ہوتا ہے اور دوسرا 5000 کا۔ ان دونوں میں سے جس ٹاسک پر بھی کلک کریں، تو دو تین گھنٹے کے اندر اندر اکاؤنٹ میں دو تین سو روپے منتقل کر دیے جاتے ہیں۔

واضح رہے کہ 2900 یا 5000 کا صرف نام کا ٹاسک ہوتا ہے، ہم سے رقم یا انویسٹمنٹ کا کوئی مطالبہ نہیں کیا جاتا۔ کیا اس طریقے سے ٹاسک پورے کر کے پیسے کمانا شرعاً جائز ہے یا نہیں، جبکہ میری طرف سے کوئی سرمایہ کاری نہیں ہوتی اور وہ صرف ٹاسک مکمل کرنے کے پیسے دیتے ہیں؟ جواب دے کر ممنون فرمائیں۔

تنقیح: سائل سے معلوم ہوا کہ ٹاسک بس صرف کلک کرنا ہوتا ہے۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

مذکورہ ایپ (Mintly) پر بغیر کسی سرمایہ کاری (Investment) یا مقصودی عمل کے محض اشتہارات یا ٹاسک پر کلک کر کے پیسے کمانا شرعاً جائز نہیں ہے؛ کیونکہ یہ پیڈ ٹو کلک (PTC) کی ایک صورت ہے جس میں محض کلک کرنا ہوتا ہے، جو کوئی ایسی شرعی منفعت یا حقیقی کام نہیں ہے جس پر اجرت (تنخواہ) طے کی جا سکے۔ لہذا یہ اجارۂ فاسدہ ہے جو کہ ایک ناجائز معاہدہ ہے، اس لیے اس عمل کے ذریعے حاصل ہونے والی کمائی حرام ہے، جس کا بلا نیتِ ثواب صدقہ کرنا واجب ہے۔

چنانچہ سائل کے لیے اس کام کو فوری طور پر چھوڑنا لازم ہے، اور اب تک اس سے جو آمدنی حاصل ہو چکی ہے، وہ بلا نیتِ ثواب صدقہ کرنا لازم ہے۔ اگر ایک ساتھ صدقہ کرنے کی گنجائش نہ ہو، تو اپنی سہولت کے مطابق اقساط میں صدقہ کریں۔

حوالہ جات

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع(16/7)

ومنها أن تكون المنفعة مقصودة يعتاد استيفاؤها بعقد الإجارة، ويجري بها التعامل بين الناس؛ لأنه عقد شرع، بخلاف القياس لحاجة الناس ولا حاجة فيما لا تعامل فيه للناس، فلا يجوز استئجار الأشجار لتجفيف الثياب عليها أو الاستظلال بها؛ لأن هذه منفعة غير مقصودة من الشجر. ولو اشترى ثمرة شجرة ثم استأجر الشجرة لتبقية ذلك فيه لم يجز؛ لأنه لا يقصد من الشجر هذا النوع من المنفعة، وهو تبقية الثمر عليها، فلم تكن المنفعة مقصودة عادة؛ وكذا لو استأجر الأرض التي فيها ذلك الشجر يصير مستأجراً باستئجار الأرض، ولا يجوز استئجار الشجر. وقال أبو يوسف : إذا استأجر ثياباً ليبسطها ببيت ليزين بها ولا يجلس عليها، فالإجارة فاسدة؛ لأن بسط الثياب من غير استعمال ليس منفعة مقصودة عادة، وقال عمرو عن محمد في رجل استأجر دابة ليجنبها يتزين بها فلا أجر عليه ؛ لأن قود الدابة للتزين ليس بمنفعة مقصودة . ولا يجوز استئجار الدراهم والدنانير ليزين الحانوت ولا استئجار المسك والعود وغيرهما من المشمومات للشم؛ لأنه ليس بمنفعة مقصودة ؛ ألا ترى أنه لا يعتاد استيفاؤها بعقد الإجارة، والله - عَزَّ وَجَلٌ - الموفق.

البحر الرائق شرح كنز الدقائق(522/6)

قوله : ( والدابة للركوب والحمل والثوب للبس) أي صح الدابة والثوب لأن المنفعة مقصودة معهودة معلومة . قيد بالركوب والحمل لأنه لو استأجر دابة ليجنبها ولا يركبها أو ليربطها على باب داره ليرى الناس أن له فرساً فالإجارة فاسدة ولا أجر له. وقيد باللبس في الثوب لأنه لو استأجر ثوباً ليزين بيته به أو حانوته فالإجارة فاسدة، ومن هذا النوع ما إذا استأجر آنية يصفها في بيته يتحمل بها ولا يستعملها أو داراً لا يسكنها لكن ليظن الناس أن له داراً أو عبداً على أن لا يستخدمه أو دراهم يضعها؛ كذا في الخلاصة. ووجهه أن هذه المنفعة ليست مقصودة من العين كما قدمناه أول الكتاب، وخرج أيضاً ما إذا استأجر فحلا لينزيه على أنثى فإنه لا يجوز.

فقہ البیوع(1032/2)

ولا يؤمر بالرد الى البنك لأن البنك عاقد معه إجارة فاسدة واستخدمه بحبس وقته فلا يمكن أن يجتمع عنده العوض والمعوض، وإنما جاءت الحرمه في الأجرة لكونها مقابل عمل محظور شرعا، ولم يكن بطريق الظلم على الدافع فليس فيها حق العبد وإنما تمحض حقا لله سبحانه وتعالى فوجب التصدق به۔ فيه كلام نفيس لابن القيم رحمه الله تعالى في ذات المعاد فصل في تحريم مهر البغي.

ظہوراحمد بن خیردادخان

دارالافتا ءجامعۃالرشید کراچی

05 محرم الحرام 1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

ظہوراحمد ولد خیرداد خان

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب