| 92372 | طلاق کے احکام | طلاق کو کسی شرط پر معلق کرنے کا بیان |
سوال
ایک مرتبہ میری اور میری بیوی کے درمیان ناراضی اور غصے کی صورتِ حال تھی۔ میری بیوی نے مجھ سے کہا کہ میں کاغذ پر یہ الفاظ لکھ دوں:"میں اپنی سابقہ گرل فرینڈ سے بات کروں گا تو تمہیں طلاق ہو جائے گی۔"میں نے یہ الفاظ اپنی بیوی کے کہنے پر صرف اس کا غصہ ختم کرنے اور گھر کا ماحول بہتر کرنے کے لیے کاغذ پر لکھے تھے۔ میری نیت اپنی بیوی کو طلاق دینے کی بالکل نہیں تھی اور نہ ہی میں اپنی بیوی کو طلاق دینا چاہتا تھا۔یہ کاغذ اس وقت میری بیوی کے پاس ہے۔اس تحریر کے بعد سے میں نے اپنی سابقہ گرل فرینڈ سے کبھی کوئی بات نہیں کی، نہ فون پر، نہ واٹس ایپ پر اور نہ ہی کسی اور ذریعےسے۔براہِ کرم درج ذیل سوالات کے جوابات عطا فرمائیں:
1: کیا مذکورہ الفاظ کاغذ پر لکھنے سے میری بیوی کو طلاق واقع ہوئی ہے؟
2: چونکہ میں نے اپنی سابقہ گرل فرینڈ سے بعد میں کبھی بات نہیں کی، کیا ہمارا نکاح بدستور قائم ہے؟
3: اگر یہ طلاقِ معلق (Conditional Talaq) شمار ہوتی ہے اور ابھی شرط پوری نہیں ہوئی، تو کیا مستقبل میں سابقہ گرل فرینڈ سے بات کرنے کی صورت میں طلاق واقع ہو جائے گی؟
4: میری نیت طلاق دینے کی نہیں تھی، بلکہ صرف اپنی بیوی کو یقین دلانا اور اس کا غصہ ختم کرنا تھا۔ کیا میری یہ نیت اس مسئلے میں مؤثر ہے؟
5: کیا اب اس لکھی ہوئی شرط کو کسی طریقے سے ختم یا واپس لیا جا سکتا ہے تاکہ مستقبل میں اس شرط کی وجہ سے طلاق کا خطرہ نہ رہے؟
6: اگر آپ کے نزدیک اس تحریر کی وجہ سے ایک طلاقِ بائن واقع ہو چکی ہو، تو کیا ہمیں دوبارہ نیا نکاح کرنا ہوگا؟ اور عدت کتنی ہوگی؟
7: اگر ایک طلاقِ بائن واقع ہونے کے بعد اسی بیوی سے دوبارہ نیا نکاح کر لیا جائے، تو کیا پہلے لکھی ہوئی یہ شرط:"میں اپنی سابقہ گرل فرینڈ سے بات کروں گا تو تمہیں طلاق ہو جائے گی"نئے نکاح کے بعد بھی برقرار رہے گی یا نئے نکاح سے یہ شرط ختم ہو جائے گی؟
8: اگر نیا نکاح ضروری ہو تو نئے نکاح میں مہر دوبارہ مقرر کرنا ہوگا؟ اگر ہاں تو اس کے بارے میں شرعی حکم کیا ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
:2-1 آپ نے طلاق کو ایک شرط (اس نامحرم لڑکی سے بات کرنے) پر معلق کیا ہے۔چونکہ ابھی تک وہ شرط نہیں پائی گئی، اس لیے ابھی تک طلاق واقع نہیں ہوئی۔آپ دونوں کا نکاح بدستور قائم ہے اور میاں بیوی کی حیثیت سے یکجا رہ سکتے ہیں۔
3:جب تک وہ خاتون آپ کے عقدِ نکاح میں ہے، آپ نے جب کبھی بھی اس نامحرم لڑکی سے بات کی (چاہے فون پر ہو، واٹس ایپ پر یا کسی بھی ذریعہ سے)تو اسی وقت آپ کی بیوی پر ایک طلاقِ رجعی واقع ہو جائے گی۔
4: طلاق کے صریح الفاظ ہوش و حواس میں لکھنے یا بولنے کی صورت میں نیت کا اعتبار نہیں ہوتا۔ لہٰذا محض بیوی کو یقین دلانے یا اس کا غصہ ختم کرنے کی نیت کوئی معتبر شرعی عذر نہیں ہے اور نہ ہی اس کا وقوعِ طلاق پر کوئی اثر پڑتا ہے۔ چونکہ تعلیقِ طلاق (شرط لگانے) کا بنیادی مقصد ہی خود کو کسی کام سے روکنا ہوتا ہے، اس لیے مذکورہ صورت میں طلاق کی نیت نہ ہونے کے باوجود شرط پائے جانے پر طلاق واقع ہو جائے گی۔
5: مذکورہ صورت میں وہ لڑکی آپ کے لیے نامحرم ہے، اس لیے شرعاً ویسے بھی اس سے کسی قسم کی بات چیت کرنا جائز نہیں۔ لہٰذا اس سے مکمل طور پر دور رہنے اور رابطہ نہ رکھنے میں ہی آپ کی دین و دنیا کی بھلائی، خیر و برکت اور نکاح کی حفاظت ہے۔ اس لیے اس طرح کے حیلوں میں پڑنے کی بجائے گناہوں سے سچی توبہ اور پرہیز کی طرف توجہ دینے کی ضرورت ہے۔
6: چونکہ فی الحال شرط نہ پائے جانے کی وجہ سے کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی۔ اگر آئندہ کبھی شرط پائی گئی تو اس سے طلاقِ رجعی واقع ہوگی، طلاقِ بائن نہیں۔طلاقِ رجعی کا حکم یہ ہے کہ شوہر عدت (تین ماہواریاں) کے اندر بغیر نئے نکاح کے رجوع کر سکتا ہے۔ اگر عدت کے اندر رجوع نہ کیا گیا اور عدت گزر گئی تو وہ طلاقِ رجعی بائن بن جائے گی، جس کے بعد اگر باہم دوبارہ ساتھ رہنا چاہیں تو دو شرعی گواہوں کی موجودگی اور نئے مہر کے ساتھ باہمی رضامندی سے نیا نکاح کرنا پڑے گا۔
7: اگر ایک بار شرط (بات چیت) پائی گئی تو طلاق واقع ہونے کے ساتھ ہی وہ شرط ختم ہو جائے گی اور رجوع یا نئے نکاح کے بعد دوبارہ بات کرنے سے دوسری طلاق واقع نہیں ہوگی۔ لیکن اگر شرط پائے بغیر کسی اور وجہ سےنکاح ٹوٹ گیا اور پھر دوبارہ نیا نکاح ہوا، تو وہ پرانی شرط نئے نکاح میں بھی بدستور قائم رہے گی اور آئندہ اس نامحرم لڑکی سے بات کرنے سے طلاق واقع ہو جائے گی۔
8:اگر طلاق کے بعد عدت کے اندر ہی رجوع کر لیا جائے تو اس میں نیا مہر واجب نہیں ہوتا، بلکہ پہلا نکاح ہی برقرار رہتا ہے (اور اگر پہلے نکاح کا مہر ادا نہیں ہوا تھا تو وہ شوہر کے ذمے بدستور قرض رہے گا)۔ البتہ اگر عدت گزرنے کے بعد نیا نکاح کیا جائے، تو اس نئے نکاح کے لیے الگ سے نیا مہر مقرر کرنا لازمی ہوگا۔ اگر نکاح کے وقت مہر مقرر نہ کیا گیا تو عورت مہرِ مثل کی حقدار ہوگی۔
حوالہ جات
الفتاوی الهندیه :(378/1)
وإن علق طلاقها بمجيء الكتاب بأن كتب إذا جاءك كتابي هذا فأنت طالق فما لم يجئ إليها الكتاب لا يقع كذا في فتاوى قاضي خان.
العناية بشرح النقاية(120/2)
صحة شرط التعليق الملك... والمعلق بالشرط لا ينزل قبل وجود الشرط.
الاختيار لتعليل المختار(140/3)
وألفاظ الشرط: إن وإذا وإذا ما ومتى ومتى ما وكل وكلما ، فإذا علق الطلاق بشرط وقع عقيبه وانحلت اليمين وانتهت إلا في كلما ، ولا يصح التعليق إلا أن يكون الحالف مالكا كقوله لامرأته: إن دخلت الدار فأنت طالق"، أو يقول لعبده: إن كلمت زيدا فأنت حر ، أو يضيفه إلى ملک كقوله لأجنبية: إن تزوجتك فأنت طالق ، أو كل امرأة أتزوجها فهي طالق أو كل عبد أشتريه فهو حر . وزوال الملك لا يبطل اليمين ، فإن وجد الشرط في ملك انحلت ووقع الطلاق، وإن وجد في غير ملك انحلت ولم يقع شيء، وإذا اختلفا في وجود الشرط فالقول للزوج والبينة للمرأة۔
بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع(266/4)
إذا قال لها : أنت طالق إن دخل فلان الدار، أنه يقع الطلاق إذا وجد الشرط في أي وقت وجد ولا يتقيد بالمجلس؛ لأن ذلك تعليق الطلاق بالشرط، والتعليق لا يتقيد بالمجلس؛ لأن معناه إيقاع الطلاق في زمان ما بعد الشرط، فيقف الوقوع على وقت وجود الشرط، ففي أي وقت وجد يقع، والله-عز وجل-أعلم .
البحر الرائق شرح كنز الدقائق وبهامشه منحة الخالق(278/3)
(قوله والحاصل أن قولهم الصريح لا يحتاج الى نية انما هو فى القضاء) هذا خاص بالمخطئ أما الهازل فلا يحتاج اليها مطلقا وما ذكره المؤلف هنا تبع فيه ما حققه في فتح القدير وهو ما حققه أيضا في التحرير فقال ثم من ثبوت حكم الصريح بلا نية جريانه على لسانه غلطا في نحو سبحان الله واسقنى أما قصد الصريح مع صرفه بالنية الى محتمله فله ذلك ديانة كقصد الطلاق من وثاق فهي زوجته ديانة ومقتضى النظر ثبوت حكمه بلا نية في الكل أي الغلط وما قصد صرفه بالنية الى محتمله قضاء فقط۔۔۔
رد المحتار على الدر المختار (609/4)
(وتنحل)اليمين(بعد)وجود(الشرط مطلقاً) لكن إن وجد في الملك طلقت وعتق، وإلا لا؛ فحيلة من علق الثلاث بدخول الدار أن يطلقها واحدة ثم بعد العدة تدخلها فتنحل اليمين فينكحها.
ظہوراحمدبن خیردادخان
دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی
21 /ربیع الآخر/1448ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | ظہوراحمد ولد خیرداد خان | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


