03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
مرحوم کے ترکے کی شرعی تقسیم کا تفصیلی حکم
90462میراث کے مسائلمیراث کے متفرق مسائل

سوال

کیافرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ

میرے والدِ مرحوم شوکت علی ولد فضل دین کا انتقال مورخہ 21-12-2023ء کو ہوا۔ مرحوم کی کل اولاد میں پانچ (5) بیٹے: نعیم اختر، محمد امین، شاہد پرویز، محمد اعجاز احمد، محمد کاشف؛ اور تین (3) بیٹیاں: مسمات سرفراز بی بی، امتل ضیاء اور ارم ضیاء ہیں۔ہماری والدہ غلام فاطمہ کا انتقال مورخہ 01-01-1993ء کو، میرے والد کی زندگی ہی میں ہو گیا تھا۔ مزید براں، میرے دو بھائیوں کا انتقال بھی والد صاحب کی زندگی میں ہوا:

  1. بھائی نعیم اختر (غیر شادی شدہ): ان کا انتقال مورخہ 10-12-2019ء کو (والد سے قبل) ہوا۔
  2. بھائی محمد امین (شادی شدہ): ان کا انتقال مورخہ 01-04-2023ء کو (والد سے قبل) ہوا۔ انتقال کے وقت ان کے ورثا میں ایک بیوہ مسمات نازیہ یاسمین، چار (4) بیٹے اور دو (2) بیٹیاں حیات ہیں۔

میرے والدِ مرحوم کے ترکے (ملکیت) میں جھڈو شہر، صوبہ سندھ، پاکستان میں ایک عدد دکان کا پلاٹ اور ایک رہائشی مکان موجود ہے، جس میں وہ رہائش پذیر تھے۔

آپ سے شریعتِ مطہرہ کی روشنی میں یہ مسئلہ دریافت کرنا ہے کہ ہمارے والد شوکت علی (مرحوم) ولد فضل دین کے اس ترکے میں سے کس کس کا حصہ بنتا ہے اور کتنا کتنا؟ شریعت کے مطابق حکم واضح کریں،قرآن و و سنت کی روشنی میں تحریر فرمائیں تاکہ کوئی اعتراض نہ کر سکے،اور دینِ حق کا تقاضا پورا ہو، اللہ تعالیٰ راضی ہو اور رسول اللہ ﷺ کی شفاعت نصیب ہو۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

آپ کے فراہم کردہ حقائق کی روشنی میں، مرحوم شوکت علی ولد فضل دین کے ترکے (دکان کا پلاٹ، رہائشی مکان اور بوقتِ وفات چھوڑی گئی دیگر تمام منقولہ و غیر منقولہ جائیداد) کی شرعی تقسیم اس طرح ہوگی کہ سب سے پہلے مرحوم کے کفن دفن کے متوسط اخراجات ترکے سے نکالے جائیں گے، البتہ اگر کسی نے یہ اخراجات اپنی طرف سے بطورِ تبرع ادا کیے ہوں تو پھر ترکے سے ان کی کٹوتی نہیں کی جائے گی۔ اس کے بعد مرحوم کے ذمے واجب الادا قرض ادا کیا جائے گا، پھر اگر مرحوم نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو بقیہ ترکے کے ایک تہائی (1/3) تک اس پر عمل کیا جائے گا۔ اس کے بعد جو ترکہ باقی بچے گا، وہ صرف اُن شرعی ورثا میں تقسیم ہوگا جو مرحوم کی وفات (21-12-2023ء) کے وقت زندہ موجود تھے۔ لہٰذا چونکہ مرحومہ غلام فاطمہ کا انتقال 1993ء میں، بھائی نعیم اختر کا انتقال 2019ء میں، اور بھائی محمد امین کا انتقال اپریل 2023ء میں مرحوم شوکت علی کی زندگی ہی میں ہوچکا تھا، اس لیے یہ حضرات شرعاً وارث نہیں بنیں گے، اور نہ ہی مرحوم محمد امین کی بیوہ نازیہ یاسمین یا ان کی اولاد (پوتے، پوتیاں) کو دادا کے ترکے میں براہِ راست کوئی شرعی حصہ ملے گا، کیونکہ زندہ بیٹوں کی موجودگی میں پوتے محروم ہوجاتے ہیں۔ چنانچہ مرحوم شوکت علی کے حقیقی شرعی ورثا صرف تین زندہ بیٹے: شاہد پرویز، محمد اعجاز احمد، محمد کاشف، اور تین زندہ بیٹیاں: مسمات سرفراز بی بی، امتل ضیاء، اور ارم ضیاء ہیں۔ قرآنِ کریم کے حکم «لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ» کے مطابق کل ترکہ نو (9) مساوی حصوں میں تقسیم ہوگا، جس میں ہر بیٹے کو دو دو حصے یعنی 2/9 (22.22 فیصد) اور ہر بیٹی کو ایک ایک حصہ یعنی 1/9 (11.11 فیصد) ملے گا۔ البتہ اگرچہ مرحوم محمد امین کی بیوہ اور یتیم بچوں کا اس ترکے میں کوئی لازمی شرعی حصہ نہیں بنتا، تاہم صلہ رحمی، اخلاقی ذمہ داری اور قرآنی تعلیمات کے پیشِ نظر تمام ورثا کے لیے باعثِ اجر اور مستحسن ہے کہ وہ اپنی خوش دلی سے اپنے اپنے حصوں میں سے کچھ نہ کچھ مرحوم بھائی کی بیوہ اور یتیم بچوں کو بطورِ ہدیہ، تعاون اور کفالت دے دیں، تاکہ ان کی بہتر پرورش و کفالت ہوسکے اور انہیں دوسروں کے سامنے دستِ سوال دراز کرنے کی ضرورت پیش نہ آئے۔

حوالہ جات

قال في كنز الدقائق :

"يبدأ من تركة الميّت بتجهيزه ثمّ ديونه ثمّ وصيّته ثمّ تقسم بين ورثته،وهم:ذو فرضٍ أي ذو سهمٍ مقدّرٍ..."  (ص:696، المكتبة الشاملة)

قال اللَّه تعالى في القرأن الكريم:

{يُوصِيكُمُ اللَّهُ فِي أَوْلَادِكُمْ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ [النساء: 11]

وقال تعالى:

{ وَإِذَا حَضَرَ الْقِسْمَةَ أُولُو الْقُرْبَى وَالْيَتَامَى وَالْمَسَاكِينُ فَارْزُقُوهُمْ مِنْهُ وَقُولُوا لَهُمْ قَوْلًا مَعْرُوفًا} [النساء: 8]

التفسير المنير للزحيلي (4/ 260)

وإذا حضر القسمة للميراث. أولوا القربى ذوو القرابة غير الوارثين. فارزقوهم منه شيئا قبل القسمة. وقولوا لهم أيها الأولياء للورثة الصغار. قولا معروفا جميلا بأن تعتذروا إليهم أنكم لا تملكونه، وأنه للصغار. وهذا الإعطاء ندب، وعن ابن عباس: واجب.وليخش ليخف على اليتامى، الخشية: الخوف مع تعظيم المخوف حال الأمن.لو تركوا أي قاربوا أن يتركوا. من خلفهم أي بعد موتهم. ذرية ضعافا أولادا صغارا. خافوا عليهم الضياع. فليتقوا الله في أمر اليتامى وليأتوا إليهم ما يحبون أن يفعل بذريتهم من بعدهم.

سیدحکیم شاہ عفی عنہ

دارالافتاء جامعۃ الرشید

2/12/1447ھ
 

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

سید حکیم شاہ

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب