03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
مستحق طلبہ پر صدقۂ فطر کی رقم عید کے بعد خرچ کرنے کا شرعی حکم
90491زکوة کابیانصدقہ فطر کے احکام

سوال

مدارس کے مستحق طلبہ پر صدقۂ فطر کی رقم کو عید کے بعد خرچ کرنے کی موجودہ صورت شرعاً کس درجے میں ہے؟ جبکہ دینے والوں کی نیت عموماً یہ ہوتی ہے کہ یہ رقم عید کے دن خرچ ہو، تو کیا اس نیت اور عرف کا لحاظ کرنا لازم یا اولیٰ ہے؟براہِ کرم دلائلِ شرعیہ اور کتبِ معتبرہ کی روشنی میں مفصل اور مدلل جواب عنایت فرمائیں۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

صدقۂ فطر، زکوٰۃ وغیرہ کی رقم مدارس، مستحق طلبہ کی طرف سے بطورِ وکیل قبضہ کرتے ہیں، بشرطیکہ مدارس نے تملیکِ شرعی کا درست طریقۂ کار اختیار کیا ہو۔ لہٰذا مدرسے کے فنڈ میں رقم جانے سے گویا مستحق طلبہ ہی نے قبضہ کر لیا۔ اس طرح مدرسے کے قبضے میں آنے سے دینے والوں کا صدقۂ فطر ادا ہو جاتا ہے۔

تملیک کے بعد مدارس کی انتظامیہ کو یہ اختیار حاصل ہو جاتا ہے کہ وہ جب چاہیں اور جیسے چاہیں، یہ رقم خرچ کریں، اور یہ شرعاً جائز ہے۔

البتہ اگر کوئی دینے والا صراحتاً یہ شرط عائد کرے کہ یہ رقم عید ہی کے دن خرچ کی جائے، اور مدارس بھی اسے اسی شرط کے ساتھ قبول کریں، تو شرعاً اس شرط کی پابندی لازم ہوگی۔

حوالہ جات

تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق وحاشية الشلبي (1/ 311)

(وصح لو قدم أو أخر) أي جاز أداء صدقة الفطر إذا قدمه على وقت الوجوب وهو يوم الفطر أو أخره عنه.

أما جواز التقديم فلأن سبب الوجوب قد وجد وهو رأس يمونه ويلي عليه ... وأما جواز الأداء بعد يوم الفطر فلأنها قربة مالية معقولة المعنى فلا تسقط بعد الوجوب إلا بالأداء ...

رد المحتار:(204/3)P

’’قولہ: (بشرط أن یعقل القبض) قید في الدفع والکسوۃ کلیھا. وفسرہ في الفتح وغیرہ بالذي لا یرمی بہ ولا یخدع عنہ، فإن لم یکن عاقلاً فقبض عنہ أبوہ أو وصیہ أو من یعولہ قریباً أو أجنبیاً أو ملتقطہ صح.... وعبر بالقبض؛ لأن التملیک في التبرعات لایحصل إلا بہ فھو جزء من مفھومہ‘‘.

الدر المختار شرح تنوير الأبصار وجامع البحار (ص: -140139)

وكان عليه الصلاة والسلام يخطب قبل الفطر بيومين يأمر بإخراجها.ذكره الشمنيويستحب إخراجها قبل الخروج إلى المصلى بعد طلوع فجر الفطر) عملا بأمره وفعله عليه الصلاة والسلام وصح أداؤها إذا قدمه على يوم الفطر أو أخره اعتبارا بالزكاة...

قلت: والامر في حديث اغنوهم للندب فيفيد الاولوية، ولذاقال في الظهيرية: لا يكره التأخير: أي تحريما (كما جاز دفع صدقة جماعة إلى مسكين واحد بلا خلاف)

محمد شاہ جلال

دار الإفتاء، جامعۃ الرشید، کراچی

03/ذی الحجہ/1447ھ   

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد شاہ جلال بن خلیل حولدار

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب