| 90176 | میراث کے مسائل | میراث کے متفرق مسائل |
سوال
کیافرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ
میرے دادا ملک مہر میاں کی دو شادیاں تھیں۔ پہلی بیوی سے تین بیٹے اور ایک بیٹی ہے، جبکہ دوسری بیوی سے (میری حقیقی دادی سے) دو بیٹیاں(پھوپھیاں) اور ایک بیٹا ہے (میرے والد)۔ میرے والد نادر بخش صاحب نے اپنی ذاتی کمائی سے مختلف جائیدادیں خریدیں:
- لیہ (ہاؤسنگ کالونی) میں تقریباً 15 مرلے کا ایک گھر۔
- ننھیال میں تقریباً 10 مرلے زمین۔
- ددیال میں تقریباً 10 کنال کا ایک پلاٹ۔
یہ تمام جائیدادیں میرے والد کی ذاتی ملکیت ہیں کیونکہ یہ انہوں نے اپنی محنت اور کمائی سے حاصل کی ہیں۔ اس کے علاوہ ایک جائیداد ایسی بھی ہے جو میرے دادا کی وراثت میں آئی، جس کا رقبہ تقریباً 1 سے 2 کنال ہے (جو میرے دادا کے زیرِ استعمال رہی اور زمین میرے دادا کے ہی نام ہے، اور میرے والدکابھی انتقال ہوچکاہے)۔
اب مسئلہ یہ ہے کہ جو پھوپھی زندہ ہیں وہ لیہ والے گھر (15 مرلے) میں حصے کا مطالبہ کر رہی ہیں اور کہتی ہیں کہ اسے بیچ کر یا تقسیم کر کے انہیں حصہ دیا جائے، جبکہ یہ گھر میرے والد نے اپنی ذاتی کمائی سے خریدا ہے۔
مزید یہ کہ میرے والد قادر بخش صاحب نے ایک بچہ گود لیا تھا، لیکن اسے باضابطہ طور پر وراثت میں شامل نہیں کیا ۔ اس وقت زیادہ تر جائیداد میرے والد قادر بخش صاحب کے نام پر ہے اور انہوں نےننھیال والی زمین میں سے آدھا حصہ میری والدہ کے نام کر رکھا تھا۔
اب صورتحال یہ ہے کہ میری والدہ کابھی انتقال ہو چکا ہے اور میرے والد کی ایک بہن بھی فوت ہو چکی ہیں۔ اس لیے درج ذیل سوالات کے جواب درکار ہیں:
- کیا میرے والد کی ذاتی کمائی سے خریدی گئی جائیداد میں دیگر بہن بھائیوں کا کوئی حق بنتا ہے؟
- دادا کی وراثتی جائیداد (تقریباً 1 سے 2 کنال) کس طرح تمام ورثاء میں تقسیم ہوگی؟
- گود لیے گئے بچے کا شرعی طور پر وراثت میں کیا حق بنتا ہے؟
- قادر بخش صاحب کی زوجہ (میری والدہ) کے نام کردہ جائیداد (ننھیال والی زمین میں آدھا حصہ) ان کی وفات کے بعد کن لوگوں میں اور کس طرح تقسیم ہوگی؟ میں اپنے والد کی ایک ہی بیٹی ہوں، اکلوتی اولاد ہوں۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
1۔ والد کی ذاتی کمائی سے خریدی گئی جائیداد میں بہن بھائیوں کا حق:
شرعی قاعدہ یہ ہے کہ جب کسی شخص کا انتقال ہو جائے اور اس کا کوئی بیٹا نہ ہو بلکہ صرف ایک بیٹی ہو، تو وہ بیٹی کل ترکے کے آدھے حصے (1/2) کی حقدار ہوتی ہے۔ بقیہ آدھا حصہ میت کے عصبہ (Residuary) میں تقسیم ہوتا ہے۔ چونکہ یہاں آپ کی حقیقی پھوپھی، میت کی بہن ہونے کی حیثیت سے بیٹی (یعنی آپ) کی موجودگی میں عصبہ بن رہی ہیں، اس لیے بقیہ آدھی میراث انہیں ملے گی۔
2۔ دادا کی وراثتی جائیداد کی تقسیم:
دادا (ملک مہر میاں) کے نام پر جو زمین (1 سے 2 کنال) ہے، وہ ان کے تمام شرعی ورثاء میں تقسیم ہوگی۔ چونکہ دادا کی دو بیویاں تھیں، اس لیے ان کا ترکہ ان کی دونوں بیویوں کی تمام اولاد میں تقسیم ہوگا۔ اس میں پہلی بیوی کے تین بیٹے اور ایک بیٹی، اور دوسری بیوی کے دو بیٹیاں اور ایک بیٹا (آپ کے والد) سب شامل ہوں گے۔ تقسیم کا اصول یہ ہوگا کہ ہر بیٹے کو دو بیٹیوں کے برابر حصہ ملے گا (للذکر مثل حظ الانثیین کے تحت)۔ آپ کے والد کا جو حصہ اس وراثتی زمین میں بنے گا، وہ ان کی وفات کے بعد ان کے اپنے ورثاء (یعنی آپ اور آپ کی حقیقی پھوپھی) میں تقسیم ہوگا۔
3۔ گود لیے گئے بچے کا شرعی مقام:
اسلام میں کسی بچے کو گود لینے سے وہ حقیقی اولاد نہیں بن جاتا اور نہ ہی اسے وراثت میں خود بخود کوئی حصہ ملتا ہے۔ لہٰذا، آپ کے والد نے جس بچے کو گود لیا تھا، اس کا آپ کے والد، والدہ یا دادا کی وراثت میں کوئی شرعی حق نہیں ہے۔ اگر آپ کے والد نے اپنی زندگی میں اس کے نام کوئی جائیداد "ہبہ" (گفٹ)کرکے قبضہ نہیں کی تھی یا اس کے حق میں (ایک تہائی مال تک کی) وصیت نہیں کی تھی، تو اب اسے وراثت سے کچھ نہیں ملے گا۔
4۔ والدہ کے نام کردہ جائیداد کی تقسیم:
آپ کی والدہ کے نام جو زمین (ننھیال والی زمین کا آدھا حصہ) تھی اگروہ اس کی ملکیت تھی یعنی والد نےان کے نام کرکے قبضہ بھی دیدیاتھا، وہ ان کی وفات کے بعد ان کا ذاتی ترکہ بن گئی ہے۔ چونکہ آپ ان کی اکلوتی بیٹی ہیں، اس لیے شرعی طور پر اس جائیداد کا آدھا حصہ (1/2) بطورِ فرض آپ کو ملے گا۔ اگر آپ کی والدہ کے والدین (نانا نانی) اور ان کے بہن بھائی (ماموں خالہ) موجود نہیں ہیں، تو بقیہ آدھا حصہ بھی "رد" کے قاعدے کے تحت آپ ہی کو مل جائے گا۔ یعنی وہ پوری زمین آپ ہی کی ملکیت ہو جائے گی۔ اگر والدہ کے بہن بھائی زندہ ہیں، تو آدھا حصہ آپ کو ملے گا اور بقیہ ان میں تقسیم ہوگا۔
خلاصہ ہے کہ لیہ والا گھر اور والد کی دیگر ذاتی جائیدادیں آپ اور آپ کی حقیقی پھوپھی کے درمیان آدھی آدھی تقسیم ہوں گی۔ سوتیلی پھوپھی اورچچا کا اس میں کوئی حق نہیں۔ دادا والی زمین میں سب کا حصہ ہے، اور والدہ کی زمین پر صرف آپ کا حق ہے،تاہم اگر والدہ کے بہن بھائی زندہ ہیں توپھر آپ کا حق صرف اس کے آدھے میں ہوگا۔
حوالہ جات
الاختيار لتعليل المختار (5/ 94)
(وعصبة مع غيره وهم الأخوات لأبوين أو لأب يصرن عصبة مع البنات وبنات الابن) لما تقدم من حديث ابن مسعود، ولقوله - عليه الصلاة والسلام -: «اجعلوا الأخوات مع البنات عصبة» . مثاله: بنت وأخت لأبوين وأخ أو إخوة لأب فالنصف للبنت والنصف للأخت ولا شيء للإخوة ; لأنها لما صارت عصبة صارت كالأخ من الأبوين.
قال اللہ تعالی :
يُوصِيكُمُ اللَّهُ فِي أَوْلَادِكُمْ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ... [النساء/11]
التفسير المظهري (7/ 284):
"لا يثبت بالتبني شىء من احكام البنوة من الإرث وحرمة النكاح وغير ذلك".
البحرالرائق7/ 284، ط:دار الكتاب الإسلامي) :
وفي الموهوب أن يكون مقبوضا غير مشاع متميزا غير مشغول على ما سيأتي تفصيله وركنها هو الإيجاب والقبول وحكمها ثبوت الملك للموهوب له غير لازم حتى يصح الرجوع والفسخ (
سیدحکیم شاہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الرشید
09/11/1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سید حکیم شاہ | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


