03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
ویلڈنگ کی چنگاری سے لگی آگ کے نقصان کا شرعی حکم
90593حدود و تعزیرات کا بیانتعزیر مالی کے احکام

سوال

زید اور عمر دونوں دکان میں ایک دوسرے کے پڑوسی ہیں۔ زید نے اپنی دکان میں ویلڈنگ کا کام شروع کیا، مزدور سے ویلڈنگ کے دوران چنگاری اٹھی اور عمر کی دکان میں جا گری جس کی بنا پر عمر کی دکان میں آگ لگ گئی۔ آگ زور پکڑتی گئی اور کچھ ہی دیر میں ساری دکان جل کر راکھ ہوگئی۔اب عمر اپنی دکان کا نقصان زید سے مانگ رہا ہے۔ چونکہ آگ زید کے مزدور کی لاپرواہی کے نتیجے میں لگی ہے، اس لیے عمر کہتا ہے کہ یہ میرا سارا نقصان زید پورا کرے گا۔برائے مہربانی شریعت کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

چونکہ زید نے اپنی دکان میں ویلڈنگ کا کام شروع کروایا، جس میں چنگاریاں اڑنا ایک لازمی امر ہے، اور اس کے مزدور نے پڑوسی کی دکان متصل ہونے کے باوجود حفاظتی تدابیر اختیار کرنے میں لاپرواہی برتی، اس لیے یہ نقصان شرعاً "تعدی")زیادتی اور کوتاہی) کے زمرے میں آتا ہے۔ اس بنا پر زید پر عمر کی دکان کے تمام مالی نقصان کا ضمان (تاوان) ادا کرنا لازم ہے؛ کیونکہ فقہ کا قاعدہ ہے کہ اپنی ملکیت میں تصرف اسی وقت جائز ہے جب اس سے دوسرے کا نقصان نہ ہو )التصرف في الملك مقيد بشرط السلامة(۔ چونکہ یہاں لاپرواہی سے دوسرے کا مالی نقصان ہوا ہے، اس لیے زید بطورِ آجر اپنے مزدور کے اس فعل کے نتیجے میں ہونے والے نقصان کی تلافی کرنے کا شرعی طور پر پابند ہے۔

تاہم، اگر ویلڈنگ کی جگہ پڑوسی کی دکان سے مناسب فاصلے پر تھی، جہاں سے چنگاری عام طور پر وہاں نہیں پہنچتی تھی، یا اس نے حفاظتی انتظامات مکمل کیے تھے—جیسے چنگاریوں کو روکنے کے لیے پردہ، شیٹ یا فائر سیفٹی وغیرہ—اور ہوا بھی معمول کے مطابق تھی، تیز نہیں تھی، لیکن پھر اچانک تند و تیز ہوا چلنے سے چنگاری اڑ کر عمر کی دکان میں جا گری، جس سے آگ لگی اور دکان جل گئی، تو ایسی صورت میں چونکہ زید کی طرف سے غلطی اور تعدی ثابت نہیں ہوتی، اس لیے زید اور اس کے مزدور پر ضمان لازم نہیں آئے گا۔

حوالہ جات

البناية شرح الهداية (10/ 354)

الحداد لو أخرج الحديدة من الكورة وذلك في حانوته ووضعه على العلاة وضربه بمطرقة فخرج شررها إلى طريق العامة فأحرق رجلا أو فقأ عينه فديته على عاقلته. ولو أحرق ثوب إنسان فقيمته على الحداد في ماله. ولو لم يضربه بالمطرقة حتى وضعه على العلاة فأخرج الريح شرره فأصاب ما أصاب فهو هدر.

تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق وحاشية الشلبي (5/ 147)

ولو أخرج الحداد الحديد من الكير في دكانه فوضعه على العلاة وضربه بمطرقة وخرج شرار النار إلى طريق العامة وأحرق شيئا ضمن، ولو لم يضربه ولكن أخرج الريح شيئا فأحرق شيئا لم يضمن

البناية شرح الهداية (10/ 354)

 ومن استأجر أرضا أو استعارها فأحرق الحصائد فاحترق شيء في أرض أخرى فلا ضمان عليه؛ لأنه غير متعد في هذا التسبيب، فأشبه حافر البئر في دار نفسه. وقيل: هذا إذا كانت الرياح هادنة ثم تغيرت. أما إذا كانت مضطربة يضمن؛ لأن موقد النار يعلم أنها لا تستقر في أرضه.

درر الحكام شرح غرر الأحكام (2/ 240)

وفي جامع الفصولين رجل أحرق شوكا أو شيئا في أرضه فذهبت الريح بالشرارات إلى أرض جاره وأحرقت زرعه إن كان يبعد من أرض الجار على وجه لا يصل إليه شرر النار في العادة فلا ضمان عليه؛ لأنه حصل بفعل النار وأنه جار ولو كان بقرب من أرضه على وجه يصل شرر النار غالبا، فإنه يضمن؛ لأن له الإيقاد في ملك نفسه لكن بشرط السلامة. اهـ.

الفتاوى الهندية (4/ 472)

رجل أحرق شوكا أو تبنا في أرضه فذهبت الريح بالشرارات إلى أرض جاره فاحترق زرعه إن كانت النار ببعد من أرض الجار على وجه لا يصل إليه شرار النار في العادة فلا ضمان عليه لأن ذلك بفعل النار، وإن كانت بقرب أرضه على وجه يصل شرار النار غالبا فإنه يضمن ذلك لأنه له أن يوقد النار في أرضه ولكن على وجه لا يتعدى ضرره إلى أرض جاره هكذا في غاية البيان.

جامع الفصولين (2/ 67)

جل أحرق شوكاً أو تبناً في أرضه فذهبت الريح بالشرارات إلى أرض جاره وأحرقت زرعه إن كان النار مبعداً من أرض الجار على وجه لا يصل إليه شرار النار في العادة فلا ضمان عليه لأنه حصل بفعل النار وأنه جبار ولو كان بقرب من أرضه على وجه يصل شرر النار غالباً فإنه يضمن لأنه له الإيقاد في ملك نفسه لكن بشرط السلامة.

سیدحکیم شاہ عفی عنہ

دارالافتاء جامعۃ الرشید

09/11/1447ھ
 

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

سید حکیم شاہ

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب