03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
بٹگرام کے عرف میں "کفارات” کی نذر (منت) کا شرعی حکم
89995قسم منت اور نذر کے احکاممتفرّق مسائل

سوال

 کیافرماتے ہیں علماء کرام درج ذیل مسئلہ کے بارےمیں کہ

ہمارے علاقے (ضلع بٹگرام) کے عرف میں ایک رواج ہے۔ وہ یہ کہ اگر کوئی عورت بیمار ہو جائے یا اولاد کی نعمت سے محروم ہو، تو وہ اس طرح کی نذر (منت) مانتی ہے: "اگر اللہ تعالیٰ نے مجھے اس مرض سے شفا دی یا اولاد کی نعمت سے نوازا، تو میں کفارات کے روزے رکھوں گی۔"

ہمارے ہاں عرفِ عام میں "کفارات" کے روزوں سے مراد یہ لی جاتی ہے کہ وہ رجب اور شعبان کے دو مہینے اور پھر اس کے ساتھ رمضان المبارک کا مہینہ ملا کر روزے رکھے۔ مقامی زبان کی اصطلاح میں اسے "کفارات" ہی کہا جاتا ہے۔ اس صورتِ حال میں درج ذیل دو امور میں شرعی رہنمائی مطلوب ہے:

۱. عرف کا تقاضا تو یہ ہے کہ وہ صرف رجب اور شعبان کے روزے رکھے اور ساتھ رمضان کے روزے ملائے، تو کیا محض یہ دو ماہ (رجب و شعبان) کے روزے رکھ لینا نذر کی ادائیگی کے لیے کافی ہوگا؟

۲. چونکہ وہ عورت لفظ "کفارہ" استعمال کرتی ہے اور شرعی کفارے میں روزوں کا تسلسل (پہ در پہ ہونا) شرط ہے، تو اس صورت میں اگر درمیان میں ایامِ حیض (ماہواری) آ جائیں تو شرعی حکم کیا ہوگا؟ نیز اگر وہ رجب اور شعبان میں روزے رکھے اور پھر رمضان کا مہینہ اور عید الفطر کا دن آ جائے (جس کی وجہ سے ظاہری طور پر تسلسل برقرار نہیں رہتا)، تو کیا اسے عید کے بعد دوبارہ نئے سرے سے تسلسل کے ساتھ دو ماہ کے روزے رکھنا ہوں گے؟ یا رجب و شعبان کے درمیان چھوٹ جانے والے ایام کی بعد میں قضا کر لینے سے نذر پوری ہو جائے گی؟بینواتوجروا۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

(١،۲)صورتِ مسئولہ میں عورتوں کا "کفارات"کے روزوں کی نذر ماننا درحقیقت نذر ہے نہ کہ شرعی اصطلاح والا کفارہ، کیونکہ یہاں لفظ کا اطلاق مقامی عرف کے مطابق مخصوص مہینوں (رجب، شعبان اور رمضان) کے روزوں پر ہوتا ہے، لہٰذا اس میں کفارۂ شرعی (جس میں دو ماہ مسلسل بلا فصل روزے شرط ہوتے ہیں) کے احکام لازم نہیں ہوں گے، بلکہ نذر میں عرف اور نیت کا اعتبار کیا جائے گا؛ چنانچہ اگر عورت رجب اور شعبان کے روزے رکھ لیتی ہے اور رمضان کے روزے بھی ادا کر لیتی ہے تو اس کی نذر ادا ہو جائے گی، اور محض “کفارہ” کا لفظ بولنے کی وجہ سے اس پر حقیقی کفارہ لازم نہیں آئے گا؛ نیز ایامِ حیض کے دوران روزے چھوڑنا شرعاً لازم ہے اور اس سے تسلسل متاثر نہیں ہوتا، بلکہ پاک ہونے کے بعد روزے جاری رکھے گی، اور جو روزے حیض کی وجہ سے رہ جائیں ان کی قضا بعد میں کر لے گی، اسی طرح رمضان اور عید الفطر کے آنے سے بھی نئے سرے سے دو ماہ مسلسل روزے رکھنا لازم نہیں ہوگا، بلکہ بعد میں فوت شدہ ایام کی قضا کر لینے سے نذر پوری ہو جائے گی۔

حوالہ جات

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (3/ 744)

قاعدة بناء الأيمان على العرف معناه أن المعتبر هو المعنى المقصود في العرف من اللفظ المسمى، وإن كان في اللغة أو في الشرع أعم من المعنى المتعارف.

البحر الرائق شرح كنز الدقائق ومنحة الخالق وتكملة الطوري (2/ 320)

ولو نذر صوم شهرين متتابعين من يوم قدوم فلان فقدم في شعبان بنى بعد رمضان كما في الحيض.

البحر الرائق شرح كنز الدقائق ومنحة الخالق وتكملة الطوري (2/ 320)

لا يعد رمضان قاطعا للتتابع كما أن الحيض لا يقطع التتابع فتتابع بعده فيلتحق بما قبله

الفتاوى الهندية (1/ 210)

ولو قال لله علي أن أصوم شهرا متتابعا لزمه التتابع، وإن أطلق يخير، وإن عين الشهر فأفطر يوما قضاه، ولا يستقبل، وإن أفطر كله يخير في القضاء بين التفرق والتتابع كذا في الزاهدي.

الفتاوى الهندية (1/ 210)

وإذا أوجبت المرأة على نفسها صوم سنة بعينها قضت أيام حيضها؛ لأن تلك السنة قد تخلو عن أيام الحيض فصح الإيجاب كذا في فتاوى قاضي خان.

المحيط البرهاني في الفقه النعماني (2/ 401)

 إذا قال: لله عليّ أن أصوم شهر، ونوى شهراً بعينه نحو إن نوى رجباً أو شعبان أو ما أشبهه، فأفطر يوماً منه لزمه قضاؤه، وليس عليه الاستقبال.

المحيط البرهاني في الفقه النعماني (2/ 402)

 إذا نذر بصوم شهر بعينه، وأفطر يوماً منه لزمه قضاؤه، ولا يلزمه الاستقبال.

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (5/ 94)

ثم في النذر المضاف إلى وقت مبهم إذا عين شهرا للصوم فهو بالخيار: إن شاء تابع، وإن شاء فرق.

سیدحکیم شاہ عفی عنہ

دارالافتاء جامعۃ الرشید

17/11/1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

سید حکیم شاہ

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب