03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
مرحوم والد کی موروثی زمین اور ذاتی تعمیرات کی شرعی تقسیم کا حکم
91844تقسیم جائیداد کے مسائلمتفرّق مسائل

سوال

کیافرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ

 میرے والد مرحوم کا ایک پلاٹ تھا ۱۲۰ گز کا جس پر میں نے دو منزل مکان تعمیر کیا اپنے خرچ پر۔ بعد میں اس میں ایک منزل اپنے چھوٹے بھائی یوسف مرحوم کی بیوہ اور یتیم بچوں کے لیے تعمیر کی اور اس کو ہبہ کر دیا۔ اس کے بعد چوتھی منزل پر میرے سب سے چھوٹے بھائی ایوب جو اُس وقت حیات تھے، اُنھیں آدھا مکان تعمیر کر کے دیا، بعد میں انھوں نے اُسے مکمل کر دیا۔

اب گراؤنڈ فلور پر میں اپنی بیوی اور ایک شادی شدہ بیٹے کے ساتھ رہائش پذیر ہوں۔ پہلی منزل پر میرے ۲ شادی شدہ بیٹے رہتے ہیں۔ دوسری منزل پر میری بیوہ بھابھی اور بچے، اسی طرح تیسری منزل پر بھی چھوٹے بھائی کی بیوہ اور بچے رہائش پذیر ہیں۔

اب میں اس بلڈنگ کو بوقتِ مرگ سب کا حق ادا کرنے کے حوالے سے تقسیم کرنا چاہتا ہوں کہ تقسیم کس طرح ہوگی؟ یاد رہے کہ میرے پاس ۲ منزلیں ہیں جو میں نے خود تعمیر کی تھیں۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

صورتِ مسئولہ میں صرف ١۲۰گز کا پلاٹ ہی ترکہ ہے، کیونکہ یہی آپ کے مرحوم والد کی ملکیت تھا، لہٰذا میراث صرف پلاٹ میں جاری ہوگی، تعمیرات میں نہیں۔ تعمیرات کا حکم یہ ہے کہ جس نے جو تعمیر کی ہے، وہ اسی تعمیر کنندہ کی ملکیت ہوگی۔ لہٰذا پہلی دو منزلیں چونکہ آپ نے اپنی ذاتی رقم سے تعمیر کی ہیں، ان کی تعمیراتی مالیت آپ کی ذاتی ملکیت شمار ہوگی۔ اسی طرح چھوٹے بھائی مرحوم یوسف کے اہلِ خانہ کے لیے آپ نے جو منزل تعمیر کرکے انہیں ہبہ کی تھی، اس تعمیر کے مالک وہی ہوں گے۔ اسی طرح سب سے چھوٹے بھائی ایوب کے لیے جو تعمیرات آپ نے کرکے انہیں دی تھیں اور انہوں نے بعد میں اپنی ذاتی رقم سے ان کی تکمیل کی تھی، ان تعمیرات کے مالک ان کی بیوہ اور بچے ہوں گے، دیگر ورثاء اس میں شریک نہیں ہوں گے۔ اگر آپ اس جائیداد کو فروخت کرکے رقم تقسیم کرنا چاہتے ہیں تو پوری بلڈنگ کی موجودہ قیمت لگوائی جائے، پھر اس میں سے خالی پلاٹ کی قیمت الگ کرکے مرحوم والد کے شرعی ورثاء میں ان کے شرعی حصص کے مطابق تقسیم کی جائے، جبکہ پہلی دو منزلوں کی تعمیر کی قیمت آپ خود لے لیں، مرحوم یوسف کی منزل کی تعمیر کی قیمت ان کی بیوی اور بچوں کو دی جائے، اور بھائی ایوب کی تعمیر کی قیمت ان کی بیوہ اور بچوں کو دی جائے۔

حوالہ جات

تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق وحاشية الشلبي (6/ 229)

والمراد من التركة ما تركه الميت خاليا عن تعلق حق الغير بعينه.

وفی رد المحتار علی الدر المختار، کتاب القسمة:

أَمَّا لَوْ بَنَى لِنَفْسِهِ بِإِذْنِ الشُّرَكَاءِ فِي أَرْضٍ مُشْتَرَكَةٍ فَالْبِنَاءُ لَهُ، وَإِنْ بَنَى لِلْكُلِّ فَهِيَ لِلْكُلِّ."

وفی المجلة العدلية( المادة: 1152)

"كُلُّ مَا لَا يُمْكِنُ قِسْمَتُهُ إلَّا بِضَرَرٍ... يُبَاعُ وَيُقْسَمُ ثَمَنُهُ.

سیدحکیم شاہ عفی عنہ

دارالافتاء جامعۃ الرشید

28/02/1448ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

سید حکیم شاہ

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب