03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
والد کے ترکہ کی تقسیم اور کاروبار کے متعلق شرعی رہنمائی
91669میراث کے مسائلمیراث کے متفرق مسائل

سوال

کیافرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ

میرے والد کا انتقال جولائی 2026 کے اوائل میں فرانس میں 77 سال کی عمر میں ہوا۔ ہم 48 اور 47 سال کی دو بہنیں اور 46 اور 45 سال کے دو بھائی ہیں۔ ہماری والدہ کی عمر بھی 77 سال ہے اور وہ زندہ ہیں۔ پورا خاندان فرانسیسی شہریت رکھتا ہے اور فرانس میں رہتا ہے۔ فرانس اور پاکستان میں میرے والد کے اثاثوں کی تفصیلات درج ذیل ہیں جو انہوں نے اپنی موت کے وقت چھوڑے تھے:

  • اثاثہ 1: فرانس میں ایک کاروبار ، 100% میرے والد کی ملکیت ہے۔ میرے والد 27 سال سے ایک دکان پر کاروبار کر رہے تھے۔ دکان لیز پر ہے اور وہ ہر ماہ کرایہ ادا کرتے ہیں۔ تاہم، وہ کاروبار کے 100% حصص کے مالک ہیں۔ وہ پچھلے تین سال سے شدید بیمار تھے اور مصنوعی سانس لینے والی مشینوں پر انحصار کرنے لگے تھے۔ ایک ملازم دکان کی روزمرہ کی سرگرمیوں کی دیکھ بھال کرتا تھا اور میرے والد گھر سے تمام کاموں بشمول مالیاتی سرگرمیوں کی نگرانی کر رہے تھے۔ اپنی موت سے تین ماہ قبل، انہوں نے نگرانی اپنے چھوٹے بیٹے کے حوالے کر دی تھی کیونکہ میرے والد کی صحت کی حالت اور بھی نازک تھی۔ چھوٹے بیٹے کو کاروباری سرگرمیاں جاری رکھنا تھیں اور اس کے بدلے میں وہ اپنے لیے معاوضہ لے سکتا تھا لیکن رقم کا واضح طور پر تعین نہیں کیا گیا تھا۔ تاہم، ترجیح میں، اسے اپنے والد اور والدہ کی تمام مالی ضروریات کو کاروباری آمدنی سے پورا کرنا تھا جیسے گھر کا کرایہ، گروسری یوٹیلیٹی بل اور دیگر اخراجات۔ میرے والد نے کاروبار کی ملکیت (حصص) اپنے چھوٹے بیٹے کو منتقل نہیں کی۔ بڑا بیٹا کاروبار میں کام نہیں کر رہا اور نہ ہی اس کی آمدنی سے کچھ حاصل کر رہا ہے۔ آج فروخت ہونے پر کاروبار کی قیمت تقریباً 100000 یورو ہے۔
  • اثاثہ 2: فرانس میں بینک اکاؤنٹ، 100% میرے والد کے نام۔ بینک بیلنس: 18000 یورو
  • اثاثہ 3: پاکستان میں فلیٹ، 100% میرے والد کی ملکیت ہے۔ آج فلیٹ کی قیمت تقریباً 130000 یورو ہے۔
  • اثاثہ 4: پاکستان میں فلیٹ، 100% میرے والد کی ملکیت ہے۔ آج فلیٹ کی قیمت تقریباً 20000 یورو ہے۔
  • اثاثہ 5: پاکستان میں بینک اکاؤنٹس، 100% میرے والد کے نام۔ بینک بیلنس روپے اکاؤنٹ: 57000 یورو (18000000 روپے) بینک بیلنس یورو اکاؤنٹ: 4000 یورو
  • اثاثہ 6: قرض دیا گیا 10100 یورو (3200000 روپے)

مطلوبہ سوالات (جوابات کی ترتیب کے مطابق):

(1) واضح رہے کہ فرانسیسی قانون کے مطابق باپ کی موت کے بعد اس کی بیوہ کو 25% اور بقیہ 75% وراثت کے طور پر بچوں میں مساوی طور پر تقسیم کیا جاتا ہے۔ تاہم، ہم اسلامی قوانین اور شریعت کے مطابق اپنے والد کی میراث جلد از جلد ورثاء میں تقسیم کرنا چاہتے ہیں۔ اس لیے ہمیں آپ کے مشورے اور فتوے کی ضرورت ہے۔

(2) اگر کاروبار فروخت نہ کیا جائے تو کاروبار سے حاصل ہونے والی آمدنی پر بہنوں اور دوسرے بھائی کا وراثت میں کیا حق ہو گا؟ برائے مہربانی دونوں صورتوں میں میرے والد کی دولت کی موروثی تقسیم میں ہماری رہنمائی کریں اگر:

  • کاروبار بیچا جاتا ہے۔
  • کاروبار اپنی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔

(3) اگر تمام ورثاء وراثت کو مساوی طور پر تقسیم کرنے پر راضی ہوں یا شریعت کی طرف سے بیان کردہ طریقہ کے علاوہ، تو کیا فیصلہ ہو گا؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

(1) مرحوم کی وفات کے بعد ان کی تمام منقولہ و غیر منقولہ جائیداد، نقد رقوم، بینک اکاؤنٹس، کاروبار، قابل وصول قرض اور دیگر تمام مالی حقوق ترکہ شمار ہوں گے۔ اس میں سے سب سے پہلے مرحوم کے تجہیز و تکفین کے اخراجات، ان کے ذمہ واجب الادا قرض اور اگر کوئی شرعی وصیت ہو تو ایک تہائی مال کی حد تک کا نفاذ کیا جائے گا، اس کے بعد باقی ماندہ ترکہ ورثاء میں تقسیم ہوگا۔ آپ کے بیان کے مطابق مرحوم نے ایک بیوہ، دو بیٹے اور دو بیٹیاں چھوڑی ہیں، اگر یہی ہوں اور ان کے علاوہ اور کوئی نہ ہو تو مذکورہ بالا تینوں حقوق کی ادائیگی کے بعد بچ جانے والے ترکہ میں سے مرحوم کی بیوہ کو %12.5، ہر بیٹے کو %29.17، اور ہر بیٹی کو %14.58 دیا جائے گا۔

(2) اگر تمام ورثاء کی رضامندی سے کاروبار فروخت کر دیا جائے تو فروخت سے حاصل ہونے والی رقم، فرانس اور پاکستان کے تمام بینک اکاؤنٹس کی رقوم، دونوں فلیٹس کی موجودہ قیمت، قابل وصول قرض اور دیگر تمام اثاثوں کو ملا کر کل ترکہ شمار کیا جائے گا اور اس کی تقسیم مذکورہ شرعی حصص کے مطابق ہوگی۔ البتہ اگر کاروبار فروخت نہ کیا جائے اور اسے جاری رکھا جائے تو والد کی وفات کے ساتھ ہی کاروبار تمام ورثاء کی مشترکہ ملکیت بن چکا ہے، اس لیے ہر وارث اپنے شرعی حصے کے مطابق اس میں شریک ہوگا۔ اگر چھوٹا بھائی کاروبار کی نگرانی اور انتظام انجام دیتا ہے تو وہ اپنی خدمات کے بدلے عرف کے مطابق اجرتِ مثل لینے کا مستحق ہوگا، لیکن کاروبار کے اخراجات اور اس کی تنخواہ نکالنے کے بعد جو خالص منافع بچے گا وہ تمام ورثاء میں ان کے شرعی حصوں کے مطابق تقسیم کیا جائے گا، اور کسی ایک وارث کو دوسرے ورثاء کی رضامندی کے بغیر مشترکہ کاروبار کے منافع پر انفرادی حق حاصل نہیں ہوگا۔

(3) شریعتِ مطہرہ کا تقاضا یہ ہے کہ سب سے پہلے ہر وارث کو اس کا مقررہ شرعی حصہ معلوم ہو جائے، اس کے بعد اگر تمام ورثاء عاقل، بالغ اور مکمل رضامندی کے ساتھ اپنے حصوں میں کمی بیشی یا برابر تقسیم پر متفق ہو جائیں تو ایسا کرنا شرعاً جائز ہے، کیونکہ یہ تخارج اور صلح کے حکم میں داخل ہے۔ تاہم اس کی شرط یہ ہے کہ کسی وارث، خصوصاً والدہ یا بہنوں پر کسی قسم کا دباؤ، شرم، خاندانی روایت یا جذباتی مجبوری نہ ہو، بلکہ وہ مکمل خوش دلی سے اپنے حق میں تصرف کریں۔ لہٰذا اگر تمام ورثاء اپنے شرعی حصوں کو جاننے کے بعد آزادانہ رضامندی سے برابر یا کسی دوسرے تناسب پر تقسیم کر لیں تو یہ شرعاً درست اور جائز ہوگا۔

حوالہ جات

قال في كنز الدقائق :

يبدأ من تركة الميّت بتجهيزه ثمّ ديونه ثمّ وصيّته ثمّ تقسم بين ورثته،وهم:ذو فرضٍ أي ذو سهمٍ مقدّرٍ...

(ص:696, المكتبة الشاملة)

قال اللَّه تعالى في القرأن الكريم:

{يُوصِيكُمُ اللَّهُ فِي أَوْلَادِكُمْ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ......... وَلَهُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْتُمْ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَكُمْ وَلَدٌ فَإِنْ كَانَ

لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ مِمَّا تَرَكْتُمْ مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ تُوصُونَ بِهَا أَوْ دَيْنٍ...... }             [النساء: 12, 11]

فتح القدير للكمال ابن الهمام (6/ 153)

فلا يجوز لأحدهما أن يتصرف في نصيب الآخر إلا بإذنه، وكل منهما في نصيب صاحبه كالأجنبي)

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (5/ 696)

الأصل فيه أن المعروف عرفا كالمشروط شرطا اهـ.

رد المحتار، كتاب الفرائض، باب التخارج، 10/601)

التخارج بين الورثة جائز؛ لأنه صلح عن مال، وهو جائز» (

الفتاوى الهندية، 6/447)

إذا اصطلح الورثة بعد معرفة نصيب كل واحد منهم فهو جائز» (

سیدحکیم شاہ عفی عنہ

دارالافتاء جامعۃ الرشید

22/02/1448ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

سید حکیم شاہ

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب