03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
وقف میں کااستبدال
90668وقف کے مسائلمدارس کے احکام

سوال

کیافرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ

اگر آج سے تقریباً گیارہ یا بارہ سال پہلے ہم نے ضلع گھوٹکی میں ایک نئے تبلیغی مرکز کے لیے ایک زمین خریدی تھی، جس کو اسی وقت 'تبلیغی مرکز' کا نام دے دیا گیا تھا۔ پھر اس میں کچھ کام کروائے گئے جو درج ذیل ہیں:

  1. زمین کو مرکز کے لیے مختص کر کے اسے مرکز کا نام دیا گیا۔
  2. مرکز کی مسجد کے ستونوں کے لیے گڑھے کھودے گئے۔
  3. ایک طرف کی دیوار چندے کی رقم سے تقریباً بارہ پندرہ لاکھ روپے کی لاگت سے تعمیر کی گئی۔
  4. اس زمین میں ایک بڑا چھپر اور اس کے ساتھ واش روم اور وضو خانہ بنایا گیا ہے، جہاں ایک چوکیدار اور خدمت گزار احباب رہتے ہیں۔
  5. یہاں اذان، اقامت اور باجماعت نماز بھی اکثر ہوتی ہے، مزید یہ کہ ایک سال باقاعدہ رمضان المبارک میں تراویح بھی ہو چکی ہے۔
  6. آج سے تقریباً تین چار ماہ قبل رائیونڈ کے بزرگ تشریف لائے اور انہوں نے دعائے خیر بھی کروائی۔

اتنا سب کچھ ہو جانے کے بعد، اب کچھ مسائل کو بنیاد بنا کر مرکز کی اس زمین کو بیچنے اور دوسری جگہ زمین خرید کر وہاں نیا مرکز بنانے کی باتیں کی جا رہی ہیں۔ ان ساتھیوں کا موقف ہے کہ چونکہ ابھی مرکز مکمل طور پر تعمیر نہیں ہوا، لہٰذا اس جگہ کو بیچ کر دوسری جگہ زمین خریدیں اور وہاں مرکز بنائیں۔ جبکہ دوسرے ساتھیوں کا موقف ہے کہ یہ 'وقفِ تام' ہو چکا ہے، اس لیے اب اس زمین کو بیچا نہیں جا سکتا۔

اب سوال یہ ہے کہ

 ان سب باتوں کی روشنی میں، کیا اس زمین کو بیچا جا سکتا ہے یا نہیں؟ کیا یہاں 'وقفِ تام' ہو چکا ہے یا بیچنے کی کوئی گنجائش ہے؟ براہِ کرم شریعت کی رو سے جواب عنایت فرمائیں۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

مسئولہ زمین وقفِ تام اور مسجدِ شرعی بن چکی ہے، بالخصوص جبکہ وہاں اذان، جماعت اور رمضان المبارک میں مکمل تراویح بھی ادا کی جا چکی ہے، اور اس کی چار دیواری اور دیگر تعمیرات میں عوامی چندے کی رقم بھی استعمال ہوئی ہے۔ لہٰذا اسے فروخت کرنا، تبادلہ کرنا یا کسی دوسرے مصرف میں لانا شرعاً جائز نہیں ہے۔

لہٰذا کسی بھی فرد یا کمیٹی کو اسے منسوخ کرنے یا فروخت کرنے کا اختیار نہیں۔ تعمیرات کا نامکمل ہونا بھی اس کے وقف ہونے میں مانع نہیں، کیونکہ مسجد کے لیے عالیشان عمارت شرط نہیں، بلکہ زمین کا مسجد کے لیے مختص ہونا اور وہاں نماز کا قائم ہو جانا ہی کافی ہے۔ لہٰذا شرعی تقاضا یہ ہے کہ اس جگہ کو مسجد اور مرکز کے طور پر برقرار رکھا جائے، اسے آباد کرنے اور تعمیرات مکمل کرنے کی کوشش کی جائے، اور کسی صورت اسے فروخت یا منتقل نہ کیا جائے۔

حوالہ جات

فتح القدير - (ج 14 / ص 63)

قال أبو يوسف ( يزول بمجرد القول ) الذي قدمنا صحة الوقف به.

الجوهرة النيرة شرح مختصر القدوري - (ج 3 / ص 439)

( وقال أبو يوسف يزول بمجرد القول ) ؛ لأنه بمنزلة الإعتاق عنده وعليه الفتوى .

تكملة حاشية رد المحتار - (ج 1 / ص 334)

قلت: المفتى به أن الملك يزول بمجرد قوله: وقفت.

الفتاوى الهندية - (ج 19 / ص 217)

ولو كان مسجد في محلة ضاق على أهله ولا يسعهم أن يزيدوا فيه فسألهم بعض الجيران أن يجعلوا ذلك المسجد له ليدخله في داره ويعطيهم مكانه عوضا ما هو خير له فيسع فيه أهل المحلة قال محمد - رحمه الله تعالى - : لا يسعهم ذلك ، كذا في الذخيرة .

وفی الھدایة مع الفتح- (ج 6 / ص 205)

واذا صح الوقف لم یجز بیعہ ولاتملیکہ.

فتح القدير - (ج 14 / ص 123)

والحاصل أن الاستبدال إما عن شرطه الاستبدال وهو مسألة الكتاب أو لا عن شرط ، فإن كان لخروج الوقف عن انتفاع الموقوف عليهم به فينبغي أن لا يختلف فيه كالصورتين المذكورتين لقاضي خان ، وإن كان لا لذلك بل اتفق أنه أمكن أن يؤخذ بثمن الوقف ما هو خير منه مع كونه منتفعا به فينبغي أن لا يجوز ؛ لأن الواجب إبقاء الوقف على ما كان عليه دون زيادة أخرى ، ولأنه لا موجب لتجويزه لأن الموجب في الأول الشرط وفي الثاني الضرورة ، ولا ضرورة في هذا إذ لا تجب الزيادة فيه بل تبقيته كما كان.

وفی اعلاء السنن- (ج 13 / ص 214)

والفرق بینھاوبین المساجدان المساجد لاتبطل بخرابھا او خراب ماحولہاواستغناء عنھا الجھة التی عینت

لہ لانھا لم تجعل مساجد لاھل المحلة والقریة بل للعامة ولایشترط للمسجدیة البناء بل العرصة وحدھا مسجد کمالایخفی بخلاف سائر الاوقاف التی سلبت ثمرتھاالخ.

سیدحکیم شاہ عفی عنہ

دارالافتاء جامعۃ الرشید

29/12/1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

سید حکیم شاہ

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب