| 90312 | طلاق کے احکام | طلاق کے متفرق مسائل |
سوال
کیافرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ
زید کہتا ہے کہ مجھے ڈیورس کے معنی کا نہیں پتا تھا، میں نے مذاق میں اپنی بیوی کو چڑانے کے لیے تین دفعہ یہ لفظ بول دیا تو اس نے کہا پاگل، اس کا یہ معنی (طلاق) ہے، کیا میری طلاق ہو گئی؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
صورتِ مسئولہ میں اگر واقعی زید کو انگریزی زبان کے اس لفظ کے معنی و مفہوم کا بالکل علم نہیں تھا، اور نہ ہی وہ یہ جانتا تھا کہ یہ لفظ طلاق کے لیے استعمال ہوتا ہے، تو محض اس لفظ کے ادا کرنے سے طلاق واقع نہیں ہوگی۔ البتہ اگر اسے اس لفظ کے معنی معلوم تھے ﴿اور اب انکار کر رہا ہے﴾، یا اجمالی طور پر بھی یہ معلوم تھا کہ یہ لفظ طلاق کے مفہوم میں استعمال ہوتا ہے، تو مذکورہ صورت میں طلاق واقع ہو جائے گی۔ احتیاط کا تقاضا یہی ہے کہ مسلمان ایسے الفاظ، خصوصاً مختلف زبانوں کے طلاق کے کلمات، کو مذاق اور کھیل میں استعمال کرنے سے مکمل اجتناب کریں، کیونکہ فقہاء نے تصریح کی ہے کہ ہزل (مذاق) میں دی گئی طلاق بھی نافذ ہو جاتی ہے۔
حوالہ جات
وفی البزازیة علی الھندیة(4/179)
لقّنہ الطلاق بالعربیة وھولایعلم أو العتاق أو التدبیرأو لقنھا الزوج الإبراء عن المھرونفقة العدة بالعربی وھی لاتعلم قال الفھیة أبو اللیث لایقع دیانة وقال مشائخ اأوجندلایقع أصلاصیانة لأملاک الناس عن الإبطال بالتلبیس.
مجمع الأنهر في شرح ملتقى الأبحر (1/ 386)
فلو لقنه الطلاق بالعربية فطلقها بلا علم به وقع قضاء كما في الظهيرية والمنية.وفي الفتح لو طلق النبطي بالفارسية يقع، ولو تكلم به العربي ولا يدريه لا يقع وفيه نوع مخالفة لما قبلها إلا أن
سیدحکیم شاہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الرشید
21/11/1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سید حکیم شاہ | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


