03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
مسجد کی قالین پر صلیب ہونے کاشبہ
90004جائز و ناجائزامور کا بیانجائز و ناجائز کے متفرق مسائل

سوال

کیافرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ

منسلک تصویر ایک مسجد کی قالین کی ہے جس پر سجدے کی جگہ پر موجود نشان کے بارے میں مجھے پرندوں والے صلیب کا شبہ ہے، کیا واقعی اس میں مشابہت پائی جاتی ہے؟ اور کیا اس پر نماز پڑھنا مکروہ ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

منسلکہ تصویر میں قالین پر موجود نشانات ہماری نظر میں صلیب کی واضح علامت نہیں ہیں، بلکہ یہ محض سائل کا وہم اور ذہنی اختراع ہے، کیونکہ یہ انسان کی نفسیات ہے کہ جب وہ ذہن میں ایک خاص سوچ پیدا کرکے کسی چیز کو دیکھتا ہے ،تو سامنے کے منظر سے اس کے ذہن پر وہی یا اس سے ملتی جلتی تصویرنقش ہوجاتی ہے ۔یہی وجہ ہے کہ لوگ خلاء میں ،فرش پر اور مختلف اشیاء پر اپنے شعور پرثبت خیال کا عکس سمجھ لیتے ہیں ،نہ اس پر کسی طور تصویر کا اطلاق ہوسکتا ہے اور نہ اس پر تصویر کے احکام لاگو کیے جاسکتے ہیں ۔لہٰذا اس قالین پر سجدہ کرنے میں شرعاً کوئی کراہت نہیں؛ یہی وجہ ہے کہ اس مسجد میں دیگر نمازیوں کو اس قسم کا کوئی اشکال پیش نہیں آتا اور نہ ہی پہلی نظر میں اس طرح کا شبہ ہمیں پیدا ہوا، لہٰذا سائل کے اس شبہ کا اعتبار نہیں ، کیونکہ اگر محض تخیلات کی بنیاد پر اس طرح کی مشابہتیں نکالی جائیں تو عام اشیاء بھی محلِّ اشکال بن جائیں گی جس سے شریعت پر عمل دشوار ہو جائے گا، حالانکہ شرعی اصول "الأصل في الأشياء الإباحة" کے مطابق اصل اباحت ہے اور بلا دلیل کسی چیز کو مکروہ قرار نہیں دیا جا سکتا؛ البتہ اگر سائل کو پھر بھی اطمینان نہ ہو تو وہ اپنے طور پر احتیاط کر سکتا ہے، لیکن دوسروں پر اس بنیاد پر کوئی حکم نہیں لگا سکتا۔

حوالہ جات

مجمع الأنهر في شرح ملتقى الأبحر (2/ 568)

 واعلم أن الأصل في الأشياء كلها سوى الفروج الإباحة قال الله تعالى {هو الذي خلق لكم ما في الأرض جميعا} [البقرة: 29] وقال {كلوا مما في الأرض حلالا طيبا} [البقرة: 168] وإنما تثبت الحرمة بعارض نص مطلق أو خبر مروي فما لم يوجد شيء من الدلائل المحرمة فهي على الإباحة.

فتح القدير للكمال ابن الهمام (1/ 415)

 ولو كانت الصورة صغيرة بحيث لا تبدو للناظر لا يكره لأن الصغار جدا لا تعبد.

فتح القدير للكمال ابن الهمام (1/ 415)

(قوله بحيث لا تبدو للناظر) أي على بعد ما، والكبيرة ما تبدو على البعد (قوله لأنها لا تعبد) فليس لها حكم الوثن فلا يكره في البيت.

فتح القدير للكمال ابن الهمام (4/ 35)

 الشك لا يوجب شيئا.

المبسوط للسرخسي (10/ 185)

الشك أن يستوي طرف العلم بالشيء والجهل به والظن أن يترجح أحدهما بغير دليل والتحري أن يترجح أحدهما بغالب الرأي وهو دليل يتوصل به إلى طرف العلم.

سیدحکیم شاہ عفی عنہ

دارالافتاء جامعۃ الرشید

17/10/1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

سید حکیم شاہ

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب