| 90326 | میراث کے مسائل | میراث کے متفرق مسائل |
سوال
ایک آدمی فوت ہوا اور اس کے پاس 16کنال زمین تھی ورثاء میں چار بیٹے اور چھ بیٹیاں ایک بیوی سے اور دوسری فوت شدہ بیوی سے ایک بیٹی ہے تو اس کی وراثت کیسے تقسیم ہوگی؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
مرحوم کے حقوقِ متعلقہ بالترکہ، یعنی تجہیز و تکفین کے اخراجات، ذمہ میں موجود قرض کی ادائیگی، اور اگر کوئی جائز وصیت کی ہو تو ایک تہائی (3/1) مال کی حد تک اس کے نفاذ کے بعد، باقی ماندہ ترکہ شرعی اصولوں کے مطابق تقسیم کیا جائے گا۔ اگر مرحوم کے انتقال کے وقت صرف وہی ورثاء حیات ہوں جن کا سوال میں ذکر کیا گیا ہے، توزندہ بیوی کو اولاد کی موجودگی کی وجہ سے کل ترکہ کا آٹھواں (12.5 فیصد) حصہ ملے گا، جو 16 کنال زمین میں سے 2 کنال بنتا ہے، جبکہ باقی ماندہ 87.5 فیصد ترکہ تمام 4 بیٹوں اور 7 بیٹیوں (بشمول دوسری بیوی سے پیدا ہونے والی ایک بیٹی) میں"لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنثَيَيْنِ" کے اصول کے مطابق تقسیم ہوگا، یعنی ایک بیٹے کا حصہ دو بیٹیوں کے برابر ہوگا۔ اس حساب سے کل حصے 15 بنتے ہیں، جن میں 4 بیٹوں کے 8 حصے اور 7 بیٹیوں کے 7 حصے شمار ہوں گے، لہٰذا ہر بیٹے کو تقریباً 11.66 فیصد، یعنی تقریباً 1 کنال 17.33 مرلے (تقریباً 1.86 کنال) حصہ ملے گا، جبکہ ہر بیٹی کو تقریباً 5.83 فیصد، یعنی تقریباً 18.66 مرلے (تقریباً 0.93 کنال) حصہ ملے گا، اور دوسری بیوی سے پیدا ہونے والی بیٹی بھی دیگر تمام بیٹیوں کے برابر ہی حصہ کی حق دار ہوگی، کیونکہ شرعی اعتبار سے تمام اولاد کے وراثتی حقوق برابر ہوتے ہیں۔
حوالہ جات
قال في كنز الدقائق :
يبدأ من تركة الميّت بتجهيزه ثمّ ديونه ثمّ وصيّته ثمّ تقسم بين ورثته،وهم:ذو فرضٍ أي ذو سهمٍ مقدّرٍ...
(ص:696, المكتبة الشاملة)
قال اللہ تعالی :
يُوصِيكُمُ اللَّهُ فِي أَوْلَادِكُمْ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ فَإِنْ كُنَّ نِسَاءً فَوْقَ اثْنَتَيْنِ فَلَهُنَّ ثُلُثَا مَا تَرَكَ... وَلَهُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْتُمْ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَكُمْ وَلَدٌ فَإِنْ كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ مِمَّا تَرَكْتُمْ مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ تُوصُونَ بِهَا أَوْ دَيْن [النساء/11]
سیدحکیم شاہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الرشید
22/11/1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سید حکیم شاہ | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


