| 90002 | نکاح کا بیان | محرمات کا بیان |
سوال
کیافرماتے ہیں علماء کرام درج ذیل مسئلہ کے بارےمیں کہ
میرے ایک دوست کے والد صاحب کا کہنا ہے کہ ان کا اور ان کے محرم رشتوں کے درمیان کوئی پردہ نہیں ہے، وہ ان کا پورا جسم بے پردہ دیکھ سکتے ہیں اور اسے شہوت سے چھو بھی سکتے ہیں، اور وہ یہ سب اپنی نواسیوں سے کرنے کی کوشش کر بھی چکے ہیں۔ اس بارے میں یہ تفصیل بتا دیں کہ:
۱۔ اگر وہ اپنی نواسیوں وغیرہ کو شہوت سے چھوتے رہے ہیں تو کیا پھر بھی انہیں گھر میں رکھنا چاہیے یا نہیں؟
۲۔ نواسیوں کا ان سے کتنا پردہ ہے؟
۳۔ وہ اپنی بیٹیوں کو اس حرکت کے جائز ہونے پر حدیثیں بھی سناتے ہیں اور کہتے ہیں کہ نماز اور وضو کی وجہ سے میرے سارے گناہ ختم ہو جاتے ہیں، اور ان کو دھمکیاں دیتے ہیں کہ اگر کسی کو بتایا تو وہ محلے میں شور مچا دیں گے کہ یہ لوگ مجھے گھر سے نکالنے کے لیے الزام لگا رہے ہیں (وہ بیٹی اور داماد کے گھر میں رہتے ہیں)۔
۴۔ ان کی بیٹیوں کا ایک سوال یہ بھی ہے کہ اب وہ باپ کے ساتھ کتنا تعلق رکھنے کی پابند ہیں؟
۵۔ وہ اپنی بھانجیوں اور شہر سے باہر والی نواسیوں سے فون پر گندی باتیں کر کے لذت حاصل کرتے ہیں، اس کے بارے میں کیا حکم ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
محرم رشتہ داروں کے سامنے عورت کے لیے صرف سر ، بال، گردن، کان، بازو، ہاتھ ، پاؤں ، پنڈلی، ، چہرہ اور گردن سے متصل سینہ کا اوپری حصہ کھولنے کی گنجائش ہے، اور یہ اجازت بھی اس وقت ہے جب کہ فتنہ کا اندیشہ نہ ہو ، لہٰذا چہر ہ اور ہاتھ پاؤں کے سوا باقی اعضاء (بازو، پنڈلی، گردن اور گردن سے متصل سینہ کا اوپری حصے) کو ڈھکا رکھنے میں ہی احتیاط ہے۔ اور جہاں فتنے کا اندیشہ ہو تو ان اعضاء کو چھپانا واجب ہوگا۔ باقی محرم عورتوں کی کمر اور پیٹھ کی طرف دیکھنا بھی جائز نہیں ہے، لہذاآپ کے دوست کے والدکی یہ بات بالکل غلط ہے کہ" ان کا اوران کے محرم رشتوں کے درمیان کوئی پردہ نہیں ہے وہ ان کا پوراجسم بے پردہ دیکھ سکتے ہیں اوراسے شہوت سے چھوبھی سکتے ہیں"
اب آپ کے سوالات کے جوابات درج ذیل ہیں:
١۔ اگر وہ شخص اپنی نواسیوں یا دیگر محرم بچیوں کو شہوت کے ساتھ چھوتا ہے اور اس سے باز نہیں آتا تو اسے اسی گھر میں رکھنا جائز نہیں، کیونکہ بچیوں کی عزت و عصمت کی حفاظت والدین پر فرض ہے، اور ایسے شخص کا گھر میں رہنا فتنہ اور حرام کا دروازہ کھولنا ہے، لہٰذا یا تو اسے الگ کر دیا جائے یا بچیوں کو اس سے مکمل محفوظ رکھا جائے، کیونکہ شریعت میں ضرر کو دور کرنا مقدم ہے۔
٢۔ اگرچہ نانا محرم ہے اور اصل حکم میں اس سے مکمل پردہ لازم نہیں، لیکن جب وہ شہوت سے دیکھنے اور چھونے والا ہو تو وہ “محرمِ امین” نہیں رہتا، اس لیے اب نواسیوں پر لازم ہے کہ وہ اس سے غیر محرم کی طرح مکمل پردہ کریں، اس کے سامنے بے پردگی، تنہائی اور بے تکلفی سے مکمل اجتناب کریں۔
٣۔ اس کا حدیثیں پیش کرکے یہ کہنا کہ وضو اور نماز سے سارے گناہ معاف ہو جاتے ہیں، سخت گمراہی ہے، کیونکہ نماز و وضو صرف صغیرہ گناہوں کا کفارہ بنتے ہیں، جبکہ ایسے افعال کبیرہ گناہ ہیں اور ان پر اصرار کرنا اور انہیں جائز سمجھنا ایمان کے لیے خطرناک ہے، نیز محرم کو شہوت سے چھونا حرام قطعی اور زنا کے مقدمات میں سے ہے۔
۴۔ بیٹیوں پر باپ کے ساتھ صلہ رحمی واجب ہے، لیکن یہ اس حد تک ہے جہاں کوئی معصیت یا ضرر نہ ہو، لہٰذا اگر باپ اپنی اولاد اور نواسیوں کے لیے خطرہ بن چکا ہو تو بیٹیوں کو اجازت ہے کہ وہ بقدرِ ضرورت تعلق رکھیں، دور سے خبرگیری یا مالی مدد کریں، مگر اس کے ساتھ رہنا یا بچیوں کو اس کے سامنے لانا جائز نہیں۔
٥۔ نواسیوں اور بھانجیوں سے فون پر شہوت انگیز اور گندی باتیں کرنا قطعی حرام اور شدید فحاشی ہے، یہ “زنا باللسان” کے حکم میں آتا ہے، اور محرم رشتوں کے ساتھ ہونے کی وجہ سے اس کی سنگینی اور بڑھ جاتی ہے، لہٰذا ایسی بچیوں پر لازم ہے کہ وہ اس سے رابطہ ختم کریں اور اپنے آپ کو اس کے شر سے محفوظ رکھیں۔
حوالہ جات
البناية شرح الهداية (12/ 153)
(قال: وينظر الرجل من ذوات محارمه إلى الوجه والرأس والصدر والساقين والعضدين) ش: أي قال القدوري - رَحِمَهُ اللَّهُ -: وقال الكرخي في "مختصره ": قال محمد بن الحسن: لا بأس بأن ينظر الرجل من أمه وأخته البالغة ومن كل ذات رحم محرم منه، ومن كل محرم من رضاع أو نكاح أو وطء، وكذلك ما حرم بوطء ابنه وأبيه أو نكاح ابنه وإن لم يكن بينهما رحم إلى شعرها، وإلى صدرها، وإلى ثديها، وعضدها، وساقها، وقدمها.ولا ينبغي أن ينظر إلى بطنها، ولا إلى ظهرها، ولا إلى ما بين سرتها حتى يجاوز الركبة، وإن كان ينظر إلى شيء من ذلك بشهوة فليس له أن ينظر إلى ذلك، وكذلك إن كان أكبر رأيه أنه إن نظر اشتهى. فينبغي له أن يغض بصره، وإن أمن على نفسه فلا بأس.ولا بأس أن يسافر بها ويكون محرما لها، أو تسافر معه لا محرم غيره، فإن خاف على نفسه لا يسافر معها ولا يخلو بها، ولا ينبغي لها إن خافت ذلك منه أن تخلو معه في بيت، ولا تسافر معه فإذا أمنا ذلك، أو كان غلبة أكبر رأيهما فلا بأس بالخلوة معها والسفر بها. وكل شيء من هذا الذي وصفت لك مما لا بأس بالنظر إليه من أمته أو من ذات محرم، فلا بأس من مسه منها، ولا بأس أن يمس شعر رأسها ويقبله ويدهنه، ويمس ساقها ورجلها، أو يغمز ذلك منها، ويمس صدرها وثديها وعضدها ووجهها وذراعها وكفها.ويكره أن يمس ما كرهنا النظر إليه إذا كان مجردا وإن كانت غير مجردة واحتاج إلى حملها والنزول بها، فلا بأس أن يحملها وينزلها، ويأخذ بطنها وظهرها، وإن كان يخاف أن يشتهي أن يمس شيئا من ذلك أو كان غلبة أكبر رأيه يتحسب ذلك ويجهده، انتهى.م: (ولا ينظر إلى ظهرها وبطنها وفخذها) ش: وكذا لا يجوز مسها. وقال الشافعي - رَحِمَهُ اللَّهُ - في "القديم" يجوز مسها. وبقولنا قال القاضي حسين من أصحابه حيث قال: ولا يجوز أن يمس ذات الرحم وإن لم يكن عورة في حقه.
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (6/ 367):
" (ومن محرمه) هي من لايحل له نكاحها أبداً بنسب أو سبب ولو بزنا (إلى الرأس والوجه والصدر والساق والعضد إن أمن شهوته) وشهوتها أيضاً ذكره في الهداية، فمن قصره على الأول فقد قصر ابن كمال (وإلا لا، لا إلى الظهر والبطن) خلافاً للشافعي (والفخذ) وأصله قوله تعالى:{ولايبدين زينتهن إلا لبعولتهن} [النور: 31] الآية، وتلك المذكورات مواضع الزينة بخلاف الظهر ونحوه (وحكم أمة غيره) ولو مدبرة أو أم ولد (كذلك) فينظر إليها كمحرمه.
الموافقات (5/ 300)
درء المفاسد أولى من جلب المصالح، وهو معنى يعتمد عليه أهل العلم.
وفی ردالمحتار:
من استحل حراماً قد علم فی دین النبی ﷺ تحریمہ کنکاح المحارم فکافر (ردالمحتار‘ باب زکاۃ الغنم‘ مطلب استحلال المعصیۃ کفر ۲/۲۹۲ ط سعید )
عن عائشۃؓ، أن أسماء بنت أبي بکر، دخلت علی رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم وعلیہا ثیاب رقاق، فأعرض عنہا رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم وقال: یا أسماء! إن المرأۃ إذا بلغت المحیض لم یصلح لہا أن یریٰ منہا إلا ہذا وہذا، وأشار إلی وجہہ وکفیہ۔ (سنن أبي داؤد، کتاب اللباس، النسخۃ الہندیۃ ۲/۵۶۷، دار السلام رقم:۴۱۰۴)
سیدحکیم شاہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الرشید
17/10/1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سید حکیم شاہ | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


