03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
تین جوڑوں سے زائد کپڑے رکھنے کا حکم
92813جائز و ناجائزامور کا بیانلباس اور زیب و زینت کے مسائل

سوال

کیا تین جوڑوں سے زائد کپڑے رکھے جا سکتے ہیں؟ اور کیا ان پر زکوٰۃ واجب ہوتی ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

         پہننے کے کپڑوں کی کوئی خاص تعداد شریعت میں مقرر نہیں ہے، لہٰذا اسراف سے بچتے ہوئے انسان جتنے جوڑے اپنی ضرورت کے مطابق سلوائے اور انہیں استعمال کرے، شرعاً اس کی اجازت ہے۔جو جوڑے استعمال نہ ہو رہے ہو ں وہ کسی کو دے دینا چاہیےتاکہ اللہ تعالی کی نعمت پڑے پڑے ضائع نہ ہو۔

         استعمال کے کپڑوں پر زکوٰۃ واجب نہیں ہوتی، اگرچہ وہ ضرورت سے زائد ہوں، کیونکہ زکوٰۃ کے وجوب کے لیے مالِ تجارت ہونا شرط ہے، اور استعمال کے کپڑے مالِ تجارت نہیں ہیں۔ البتہ صدقۂ فطر اور قربانی کے نصاب کے اعتبار سے ضرورت سے زائد کپڑے بھی شمار کیے جائیں گے، لہٰذا اگر بقیہ اموال کے ساتھ ضرورت سے زائد سامان ملا کر نصاب مکمل ہوجائے تو صدقۂ فطر اور قربانی واجب ہوں گے۔

حوالہ جات

حاشیۃ ابن عابدین، کتاب الفرائض، زکریا ۱۰/۴۹۴، کراچي

أن الإسراف صرف الشئ فیما ینبغي زائدا علی ما ینبغي، والتبذیر صرفہ فیما لا ینبغي۔

الفتاوی الہندیۃ : ۱ ؍ ۱۷۴

( ومنہا: کون النصاب نامیاً ) حقیقۃ بالتوالدوالتناسل والتجارۃ أوتقدیراً بأن یتمکن من الاستنماء بکون المال فی یدہ أوفی یدنائبہ ۔

الفتاویٰ الہندیہ: كتاب الزكاة، ج"1، ص:172، ط: دار الفكر بيروت

(ومنها فراغ المال) عن حاجته الأصلية فليس في دور السكنى ‌وثياب ‌البدن وأثاث المنازل ودواب الركوب وعبيد الخدمة وسلاح الاستعمال زكاة۔

(الفتاوی الھندیۃ:۱؍۱۹۱، کتاب الزکاۃ، الباب الثامن في صدقة الفطر،ط: دار الفکر)

وهي[صدقۃ الفطر] واجبة على الحر المسلم المالك لمقدار النصاب فاضلا عن حوائجه الأصلية كذا في الاختيار شرح المختار، ولا يعتبر فيه وصف النماء ويتعلق بهذا النصاب وجوب الأضحية، ووجوب نفقة الأقارب ۔

عبداللہ المسعود

دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی

۲۴/ربیع الاخر /۱۴۴۸ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

عبدالله المسعود بن رفيق الاسلام

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب