| 92267 | نکاح کا بیان | حرمت مصاہرت کے احکام |
سوال
مفتی صاحب! ایک مسئلے کی وضاحت درکار ہے۔ ہمارے ایک بہت ہی قریبی ساتھی نے مسئلہ پوچھا ہے کہ ان کی اہلیہ سو رہی تھیں کہ ان کے سسر آکر ان کی دونوں ٹانگوں پر ٹخنوں سے کچھ اوپر اور گھٹنوں سے کافی نیچے، دونوں ہاتھ شلوار کے اوپر سے رکھے ہوئے تھے۔ درمیان میں گرمیوں کا باریک کاٹن کا کپڑا (شلوار) حائل تھا، اس کے علاوہ اور کوئی کپڑا موجود نہیں تھا۔
بہو کو لگا کہ ان کاتین سال کا بیٹا انہیں جگا رہا ہے۔ جیسے ہی بہو کی آنکھ کھلی اور انہوں نے پوچھا کہ کون ہے؟ تو سسر انہیں چھوڑ کر باہر چلے گئے۔ اس وقت ان کی ساس گھر سے باہر گئی ہوئی تھیں۔اب سسر قرآنِ مجید پر ہاتھ رکھ کر کہہ رہے ہیں کہ ان سے غلطی سے ہوا ہے، وہ سمجھے کہ ان کی بیوی ہیں۔ سسر کی عمر ستر سال سے زائد ہے۔
اس صورت میں شرعی حکم کیا ہوگا؟ کیا حرمتِ مصاہرت قائم ہونے کی وجہ سے بہو کا اپنے شوہر سے نکاح ختم ہوجائے گا یا نہیں؟اس سے پہلے جسم پر کہیں ہاتھ لگایا یا نہیں، نیند میں ہونے کی وجہ سے بہو کو بھی اس بات کا علم نہیں، اور نیت کا تو اللہ تعالیٰ ہی کو علم ہے۔ سسر نے قرآنِ پاک پر ہاتھ رکھ کر کہا ہے کہ غلطی سے صرف ہاتھ لگایا ہے۔
اس واقعے سے پہلے تقریباً ساڑھے آٹھ سال تک جوائنٹ فیملی میں رہتے ہوئے کبھی اس طرح کا ، یا اس سے کم بھی، اس نوعیت کا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا۔دونوں میاں بیوی نے فی الفور بستر الگ کر دیے ہیں، حکمِ خداوندی معلوم ہونے تک۔
اس مسئلہ کی رہنمائی فرما دیں ،جزاکم اللہ خیرا۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
واضح رہے کہ عورت کو شہوت کے ساتھ چھونے سے حرمت مصاہرت کے ثبوت کے لیے درج ذیل شرائط ہیں:
1۔چھونا بغیر کسی حائل کے ہو، یعنی درمیان میں کوئی کپڑا وغیرہ نہ ہو، یا درمیان میں حائل کپڑا اس قدر باریک ہو کہ اس سے جسم کی حرارت پہنچتی ہو۔
2۔چھوتے وقت جانبین میں یا کسی ایک میں شہوت پیدا ہو، مرد کے لیے شہوت کا معیار یہ ہے کہ اس کے آلہ تناسل میں انتشار پیدا ہوجائے، اور اگر آلہ تناسل پہلے سے منتشر ہو تو اس میں اضافہ ہوجائے، اور بیمار اور بوڑھے مرد جن کو انتشار نہیں ہوتا اور عورتوں کے لیے شہوت کا معیار یہ ہے کہ دل میں ہیجان کی کیفیت پیدا ہو،اور دل کا ہیجان پہلے سے ہوتو اس میں اضافہ ہوجائے۔
3۔شہوت چھونے کے دوران ہو،اگرچھونے کے بعدیعنی ہاتھ ہٹالیا اور پھرشہوت آئی تو حرمت مصاہرت ثابت نہیں ہوگی۔
4۔جسے چھوا ہو شہوت اسی پر آئی ہو،لہذا اگر شہوت کسی اور پر آئی اور اس دوران ہاتھ یا بدن کا کوئی حصہ کسی اور عورت سے مس ہوگیا تو اس سے حرمت مصاہرت ثابت نہیں ہوگی۔
5۔چھونے کے بعداسی انتشارکی حالت میں انزال نہ ہوا ہو،اگر انزال ہوجائے تو بھی حرمت مصاہرت ثابت نہ ہوگی۔
ان تمام شرائط کی موجودگی میں چھونے سے حرمت مصاہرت ثابت ہوجاتی ہے ،خواہ قصداً چھوا ہویابلاارادہ بھول کر یاغلطی سے یا کسی کے زبردستی کرنے پر چھوا ہو،ہر حال میں حرمت ثابت ہوجاتی ہے۔
لہذااگرکسی شخص نےاپنی بہو کواس طور پر چھواہے کہ اس میں حرمت مصاہرت کو ثابت کرنے والی تمام شرائط پائی جاتی ہیں تو اس سے حرمتِ مصاہرت ثابت ہوگئی، اور بہو اپنے شوہر پر حرام ہوگئی اور تجدید نکاح کی کوئی صورت نہیں۔اب اس کاا پنےشوہر کے ساتھ میاں بیوی کی حیثیت سے اکھٹے رہنا جائز نہیں، اس کے بعد شوہر پرزبانی متارکت یا طلاق دینا بھی ضروری ہے،اس کے بعد عورت عدت گزار کر دوسری جگہ نکاح کرنے میں آزاد ہوگی ۔اور اگر مذکورہ شرائط نہ پائی جائیں یا شوہر بیوی کے دعوی کی تصدیق نہ کرے تو پھر حرمت مصاہرت ثابت نہ ہوگی۔
صورت مسئولہ میں اگر شوہر اور اہلیہ کو سسر کے اس بات میں سچا ہونے پر اطمینان ہو کہ اسے شہوت نہیں ہوئی ،تو ان کے قول کا اعتبار کیا جاسکتا ہے ۔
حوالہ جات
" الدر المختار " (3/ 32):
"(و) حرم أيضا بالصهرية (أصل مزنيته) أراد بالزنا في الوطء الحرام (و) أصل (ممسوسته بشهوة) ولو لشعر على الرأس بحائل لا يمنع الحرارة (وأصل ماسته وناظرة إلى ذكره والمنظور إلى فرجها) المدور (الداخل) ولو نظره من زجاج أو ماء هي فيه (وفروعهن) مطلقا.
والعبرة للشهوة عند المس والنظر لا بعدهما وحدها فيهما تحرك آلته أو زيادته به يفتى وفي امرأة ونحو شيخ كبير تحرك قبله أو زيادته وفي الجوهرة: لا يشترط في النظر لفرج تحريك آلته به يفتى هذا إذا لم ينزل فلو أنزل مع مس أو نظر فلا حرمة به يفتي ،ابن کمال وغیرہ".
قال ابن عابدین رحمہ اللہ": (قوله: والعبرة إلخ) قال في الفتح: وقوله: بشهوة في موضع الحال، فيفيد اشتراط الشهوة حال المس، فلو مس بغير شهوة، ثم اشتهى عن ذلك المس لا تحرم عليه. اهـ".
"الهداية في شرح بداية المبتدي" (1/ 188):
"ولو مس فأنزل فقد قيل إنه يوجب الحرمة والصحيح أنه لا يوجبها لأنه بالإنزال تبين أنه غير مفض إلى الوطء وعلى هذا إتيان المرأة في الدبر".
"رد المحتار"(3/ 33):
"ويشترط وقوع الشهوة عليها لا على غيرها لما في الفيض لو نظر إلى فرج بنته بلا شهوة فتمنى جارية مثلها فوقعت له الشهوة على البنت تثبت الحرمة، وإن وقعت على من تمناها فلا".
فتاوی الھندیۃ🙁 ج،1 ص ، 276 ، ط۔ رشیدیہ )
رجل قبل امرأة أبيه بشهوة أو قبل الأب امرأة ابنه بشهوة و هي مكرهة و أنكر الزوج أن يكون بشهوة فالقول قول الزوج ، و إن صدقه الزوج و قعت الفرقة و يجب المهر على الزوج و يرجع بذلك على الذي فعل إن تعمد الفاعل الفساد و إن لم يتعمد لا يرجع الخ ۔ (کتاب النکاح ، القسم الثانی ، المحرمات بالصھریۃ و مایقبل بذٰلک۔
محمد عمران
دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی
31/ربیع الثانی /8144ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد عمران بن عبد المطہر خان | مفتیان | مفتی محمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب |


