| 91761 | سود اور جوے کے مسائل | سود اورجوا کے متفرق احکام |
سوال
آج کل ہمارے علاقے میں ایک نئی طرز کی قرعہ اندازی (لکی ڈرا) عام ہو رہی ہے، جس میں بہت سے لوگ حصہ لے رہے ہیں۔ اس کا طریقۂ کار یہ ہے کہ ایک شخص 300 روپے ادا کرتا ہے، جس کے بدلے اسے صرف (صابن/واشنگ پاؤڈر وغیرہ) کا ایک پیکٹ دیا جاتا ہے، حالانکہ اسی پیکٹ کی عام بازار میں قیمت تقریباً 50 روپے ہوتی ہے۔ اس کے ساتھ اسے ایک لکی ڈرا ٹکٹ بھی دیا جاتا ہے۔ اگر کوئی شخص دو یا اس سے زیادہ ٹکٹ حاصل کرے تو اسے کچھ ڈسکاؤنٹ بھی دیا جاتا ہے۔ مزید یہ کہ بہت سے لوگ آن لائن صرف ٹکٹ خریدتے ہیں اور جو سامان (مبیع) اس کے ساتھ دیا جاتا ہے، وہ وصول ہی نہیں کرتے۔ اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ ان کا اصل مقصد سامان خریدنا نہیں بلکہ لکی ڈرا میں حصہ لینا اور انعام حاصل کرنا ہےاہلِ علم سے مؤدبانہ گزارش ہے کہ وہ اس مسئلے کی شرعی حیثیت قرآن و سنت اور فقہِ اسلامی کی روشنی میں واضح فرمائیں ۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
واضح رہے کہ قمار (جوا) اس معاملے کو کہتے ہیں جس میں کوئی شخص مال اس امید پر لگائے کہ اسے اس کے بدلے میں زیادہ مال حاصل ہو جائے، جبکہ یہ حصول نفع و نقصان کے خطرے اور غیر یقینی نتیجے پر موقوف ہو۔ یہی وجہ ہے کہ شریعتِ مطہرہ نے ہر اس معاملے کو ناجائز قرار دیا ہے جس میں مال کا استحقاق محض اتفاق، قرعہ اندازی یا قسمت آزمائی پر موقوف ہو۔
لہٰذا صورتِ مسئولہ میں اگر حقیقت یہ ہے کہ صابن، واشنگ پاؤڈر یا دیگر سامان محض لکی ڈرا کا ذریعہ بنانے کے لیے ان کی حقیقی قیمت سے کہیں زیادہ قیمت پر فروخت کیا جا رہا ہے، یا بعض افراد صرف ٹکٹ خریدتے ہیں اور سامان وصول ہی نہیں کرتے، تو اس سے واضح ہوتا ہے کہ اصل مقصود سامان کی خرید و فروخت نہیں بلکہ انعام حاصل کرنے کی امید میں لکی ڈرا میں شرکت کرنا ہے۔
ایسی صورت میں ادا کی جانے والی رقم درحقیقت انعام کے حصول کی غرض سے لگائی جاتی ہے، جبکہ انعام ملنا یا نہ ملنا، اور ملنے کی صورت میں اس کی مقدار، سب غیر یقینی ہوتے ہیں اور قرعہ نہ نکلنے کی صورت میں رقم مفت میں ضائع ہوجاتی ہے ۔اس لیے یہ معاملہ تملیک علی الخطر کی صورت اختیار کر لیتا ہے، جو شرعاً قمار (جوا) ہے، لہٰذا اس میں شرکت کرنا، اس کا انعقاد کرنا اور اس کے ذریعے مال کمانا جائز نہیں۔
اس کی مثال یہ ہے کہ کوئی شخص لوگوں سے دو سو یا تین سو روپے جمع کرے اور اعلان کرے کہ بعد میں قرعہ اندازی ہوگی، جس کا نام نکلے گا اسے ایک لاکھ روپے انعام دیا جائے گا۔ یہ صریح جوا ہے، کیونکہ تمام شرکاء اپنا مال ایک غیر یقینی انعام کی امید پر لگا رہے ہیں، اور مال کا استحقاق محض قرعہ اندازی پر موقوف ہے۔لہٰذا ایسی صورت شرعاً ناجائز اور حرام ہے۔
حوالہ جات
{يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالْأَنْصَابُ وَالْأَزْلَامُ رِجْسٌ مِنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ فَاجْتَنِبُوهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ (المائدة:90)
"بحوث فی قضايافقهية معاصرة "2 /239:
وبما أن حقيقة الجائزة أنهاهبةبدون مقابل ، فانها ليست من عقود المعاوضة، وانمامن قبيل التبرعات، فمن شروط جوازها أن تکون تبرعاً من المجيز بدون أن يلتزم المجاز بدفع عوض مالی مقابل الجائزة۔۔۔ الجوائز علی شراء المنتجات۔۔۔۔۔وإن حکم هذه الجوائز أنها تجوز بشروط: الشرط الاول: أن يقع شراء البضاعة بثمن مثله، ولايزاد فی ثمن البضاعة من أجل احتمال الحصول علی الجوائز وهذا لأنه إن زاد البائع علی ثمن المثل فالمقدار الزائد إنمايدفع من قبل المشتری مقابل الجائزة المحتملة فصارت الجائزة بمقابل مالی فلم يبق تبرعا وإن هذا المقابل المالی إنماوقع المخاطرة فصارت العملية قمارا،أما إذا بيعت البضاعة بثمن مثلها، فإن المشتری قد حصل علی عوض کامل للثمن الذی بذله، ولم يخاطر بشئ فالجائزة التی يحصل عليها جائزة بدون مقابل، فيدخل فی التبرعات المشروعة۔
"البحر الرائق "7/ 91:
وأما القمار فقدمنا أنه الميسر وفي القاموس قامره مقامرة وقمارا فقمره كنصره وتقمره راهنه فغلبه وهو التقامر ا هـو ذكر النووي أنه مأخوذ من القمر لأن ماله تارة يزداد إذا غلب وينتقص إذا غلب كالقمر يزيد وينقص۔
محمد عمران
دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی
20/صفر /8144ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد عمران بن عبد المطہر خان | مفتیان | محمد حسین خلیل خیل صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


