| 91361 | میراث کے مسائل | میراث کے متفرق مسائل |
سوال
ایک شخص نے اپنی بیوی کو طلاق دی تھی۔ ان کے ایک بیٹا اور چار بیٹیاں ہیں۔ بعد میں جرگہ کے ذریعے صلح ہوئی، جس میں طے پایا کہ بیوی کے حقِ مہر میں موجود تقریباً 6 مرلہ مکان بیٹے کو دیا جائے گا اور مکان الگ کر دیا جائے گا۔ کچھ عرصہ بعد وہ مطلقہ خاتون فوت ہوگئیں۔ اب بیٹا مطالبہ کرتا ہے کہ والدہ کے حقِ مہر والا پورا 6 مرلہ مکان اسی کے حوالے کیا جائے۔ سوال یہ ہے:
1۔ کیا مرحومہ کے حقِ مہر کا پورا مکان صرف بیٹے کا حق ہے یا اس میں تمام ورثاء (بیٹا اور چاروں بیٹیاں) شرعاً شریک ہیں؟
2۔ اگر بیٹا مکان الگ کرنے کا مطالبہ کرے تو کیا اسے پورا مکان دیا جائے گا یا صرف میراث میں اس کا شرعی حصہ دیا جائے گا؟
3۔اگر بعض بہنیں اپنا حصہ والد کو اور بعض بھائی کو دینا چاہیں تو اس کا شرعی حکم کیا ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
1۔ مرحومہ کا حقِ مہر (6 مرلہ مکان) ان کی ذاتی ملکیت تھا۔ چونکہ صلح کے فیصلے کے بعد خاتون کا انتقال ہو گیا اور مکان کا باقاعدہ مکمل قبضہ (تسلیم و منتقلی) بیٹے کو ان کی زندگی میں نہیں ملا، اس لیے یہ مکان مرحومہ کی وفات کے وقت ان کی ہی ملکیت رہا اور ان کا ترکہ (میراث) شمار ہوگا۔
شریعتِ مطہرہ کی رو سے، میت کے ترکہ میں تجہیز و تکفین، ادائے دیون اور تنفیذِ وصیت کے بعد جو کچھ مال بچے، وہ تمام شرعی ورثاء میں تقسیم کیا جاتا ہے۔
اس لیے یہ پورا مکان صرف بیٹے کا حق نہیں ہے، بلکہ اس میں مرحومہ کے تمام شرعی ورثاء (ایک بیٹا اور چاروں بیٹیاں) اپنے شرعی حصوں کے مطابق شریک ہوں گے۔
2۔ اگر بیٹا مکان الگ کرنے کا مطالبہ کرے تو اسے پورا مکان نہیں دیا جائے گا، بلکہ صرف اس کا شرعی حصہ ہی دیا جائے گا۔مرحومہ کے ورثاء میں چونکہ ایک بیٹا اور چار بیٹیاں ہیں، اس لیے ترکہ کی تقسیم للذكر مثل حظ الأنثيين (یعنی بیٹے کا حصہ دو بیٹیوں کے برابر) کے قانون کے تحت ہوگی۔
اس کا شرعی حساب یوں ہوگا: بیٹے کو 2 حصے اور چاروں بیٹیوں کو 1، 1 حصہ ملے گا۔ کل شرعی حصے 6 بنیں گے (بیٹا = 2 حصے، چار بیٹیاں = 4 حصے)۔ لہذا، بیٹے کو مکان کا (2/6)یعنی تیسرا حصہ (1/3) ملے گا، اور ہر بیٹی کو (1/6) حصہ ملے گا۔
3۔ اگر بعض بہنیں اپنا شرعی حصہ اپنے والد کو یا اپنے بھائی کو دینا چاہتی ہیں، تو ترکہ کی تقسیم کے بعد جب بہنیں اپنے اپنے شرعی حصے کی باقاعدہ مالک بن جائیں اور ان کا قبضہ تام ہو جائے، تو وہ اپنی خوشی سے اپنا حصہ اپنے والد یا بھائی کو ہبہ (تحفہ) کر سکتی ہیں۔
مذکورہ تفصیل کے مطابق گھر کی تقسیم کا طریقہ یہ ہے کہ اگر گھر برابر 6حصوں میں تقسیم ہوسکتا ہو تو بیٹےاور ہر ایک بیٹی کو متعین حصہ قبضہ اور مالکانہ تصرف کے ساتھ سپرد کر دیا جائے، البتہ اگر گھر کو برابر 6حصوں میں تقسیم کرنا ممکن نہ ہو تو اس گھر کو فروخت کرکےتمام ورثا ء کو ان کے حصےکے بقدر نقد رقم ادا کردی جائے۔
حوالہ جات
«الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهندية» (4/ 378):
«لا يثبت الملك للموهوب له إلا بالقبض هو المختار، هكذا في الفصول العمادية.»
«البحر الرائق شرح كنز الدقائق ومنحة الخالق وتكملة الطوري» (8/ 556):
«وأما الحقوق المتعلقة بالتركة فأربعة الكفن والدفن والوصية والدين والميراث فأول ما يبدأ منها بكفن الميت ودفنه؛ ۔۔۔ ثم تنفذ وصيته من الثلث؛ ،،،، ثم يقسم الباقي بين ورثته على فرائض الله تعالى وسنة رسول الله صلى الله عليه وسلم.»
«مجمع الأنهر في شرح ملتقى الأبحر» (2/ 747):
«بالموت فلا يلزم الورثة أداؤها إلا إذا أوصى بها أو تبرعوا بها من عندهم (ثم تنفذ وصاياه من ثلث ما بقي بعد الدين) أي ثم يبدأ بوصيته أي بتنفيذها من ثلث ما بقي بعد التجهيز والدين وفي أكثر من الثلث لا يجوز إلا بإجازة الورثة على ما مر، ثم هذا ليس بتقديم على الورثة في المعنى بل تشريك لهم حتى إذا سلم له شيء سلم للورثة ضعفه أو أكثر (ثم يقسم الباقي بين ورثته) أي الذين ثبت إرثهم بالكتاب والسنة وإجماع الأمة.»
«الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهندية» (6/ 448):
«وأما النساء فالأولى البنت ولها النصف إذا انفردت وللبنتين فصاعدا الثلثان، كذا في الاختيار شرح المختار وإذا اختلط البنون والبنات عصب البنون البنات فيكون للابن مثل حظ الأنثيين، كذا في التبيين.»
«حاشية ابن عابدين = رد المحتار - ط الحلبي» (5/ 687):
«(هي) لغة: التفضل على الغير ولو غير مال. وشرعا: (تمليك العين مجانا) أي بلا عوض لا أن عدم العوض شرط فيه»
محمد عمران
دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی
27/محرم الحرام /8144ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد عمران بن عبد المطہر خان | مفتیان | مفتی محمد صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


