| 91212 | طلاق کے احکام | تین طلاق اور اس کے احکام |
سوال
اگر کوئی بندہ اپنی بیوی کو کہے میں نے تجھے تین مرتبہ طلاق دی ہے، پھر کہے میں نے چار مرتبہ طلاق دی ہے کہتی ہو تو لکھ دیتا ہوں۔ تو ایسی صورتحال میں کوئی گنجائش باقی رہتی ہے؟ حلالے کے متعلق بھی بتا دیں چار مہینے 10 دن گزارنے کے بعد ایسی عورت کے ساتھ حلالہ ہو سکتا ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
جب شوہر نے بیوی کو یہ کہہ دیا کہ ‘’میں نے تجھے تین مرتبہ طلاق دی ہے’’، تو اس سے تین طلاق واقع ہو کر حرمتِ مغلظہ ثابت ہو چکی ہے۔ اب اس حالت میں سابقہ شوہر کے لیے اس عورت سے رجوع کرنا یا دوبارہ نکاح کرنا جائز نہیں۔ البتہ، اگر یہ عورت اپنی عدت (تین ماہواریاں) گزرنے کے بعد کسی دوسرے شخص سے نکاح کر لے، اور وہ دوسرا شوہر اس کے ساتھ ازدواجی تعلق بھی قائم کر لے، پھر اتفاقاً اس کا انتقال ہو جائے یا وہ اسے طلاق دے دے، تو اس کی عدت (وفات کی صورت مین چار ماہ دس دن اور طلاق کی صورت میں تین ماہواریاں)گزارنے کے بعد یہ عورت اپنے سابقہ شوہر سے باہمی رضامندی، گواہوں کی موجودگی اور نئے مہر کے ساتھ دوبارہ نکاح کر سکتی ہے۔لیکن لوگوں میں مشہور حلالے کی شکل جس میں پہلے سے طے کرکے نکاح اور طلاق کا معاملہ ہوتاہے ایسا کرنے والے ہر حدیث میں لعنت وارد ہوئی ہے،اگر چہ اس سے بیوی پہلے شوہر کے لیے حلال ہوجاتی ہے۔
حوالہ جات
مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح (5/ 2149)
عن عبد اللَّه بنِ مسعود قال: لعن رسولُ الله المحلّلَ والمُحلَّلَ له. رواهُ الدَّارمِيّ.
وفي الهندية(1/473):
وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة، و ثنتين في الأمة لم تحلّ له حتى تنكح زوجاً غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثمّ يطلقها أو يموت عنها.
الفتاوى الهندية(1/349):
"(وأما البدعي) فنوعان بدعي لمعنى يعود إلى العدد وبدعي لمعنى يعود إلى الوقت (فالذي) يعود إلى العدد أن يطلقها ثلاثًا في طهر واحد أو بكلمات متفرقة أو يجمع بين التطليقتين في طهر واحد بكلمة واحدة أو بكلمتين متفرقتين فإذا فعل ذلك وقع الطلاق وكان عاصيًا."
أحكام القرآن للجصاص(1/529):
فالكتاب والسنة وإجماع السلف توجب إيقاعَ الثلاث معًا وإِن كانت معصية.
احسان اللہ گل محمد
دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی
27/1/8144ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | احسان ولد گل محمد | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


