| 92506 | سود اور جوے کے مسائل | مختلف بینکوں اور جدید مالیاتی اداروں کے سود سے متعلق مسائل کا بیان |
سوال
کیا مورگیج(Mortgage) حلال ہے ؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
عام طور پر مورگیج کا مفہوم یہ ہے کہ کوئی شخص بینک کےساتھ مل کرگھرمورگیج (Mortgage) پرلیتا ہےجس میں بینک اس شخص کوگھرخریدنےکےلئےرقم مہیاکردیتاہےاورپھرقسطوں میں اپناادھارسودسمیت وصول کرتا ہے اور اس گھرکےکاغذات بطوررہن کےاپنےپاس رکھ لیتاہے،چونکہ یہ طریقہ کارسودپرمبنی ہے لہذا اس طرح سےبینک کے ساتھ گھرلیناتوناجائزہے،البتہ اس کی جائز صورت یہ ہے کہ اگربینک اس بات پرتیارہوجائےکہ بینک خودمطلوبہ گھر خریدے پھر اس میں اپنانفع شامل کر کے قسطوں پرفروخت کردےتوایساکرناجائزہےاوراس کوشرکتِ متناقصہ کی صورت میں بھی لیا جا سکتا ہے، جس میں خریداراوربینک دونوں رقم ملاکرگھرخریدتےہیں پھربینک اپنےحصہ کے چھوٹے چھوٹے یونٹس بنا کر خریدار کوہرماہ بیچتارہتاہے۔بینک کےمملوکہ حصص کوخریدارجب تک خریدنہ لےوہ اس کاکرایہ ادا کرتا ہے۔ (ماخوذ از تبویب: 79019)
اس روایتی مورگیج میں بینک خود گھر خرید کر کسٹمر کو اقساط پر نہیں بیچ رہا بلکہ گھر خریدنے کے لیے رقم بطور قرض مہیا کرتا ہے اور اقساط میں اضافہ شامل کر کے وصول کرتا ہے ، لہذایہ سود ہی کے زمرے میں داخل ہے اور ناجائز ہے۔
حوالہ جات
القران الکریم[البقرة : 278-280 ] :
﴿ يَا أَيُّهَا الَّذِيْنَ آمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَذَرُوْا مَا بَقِيَ مِنَ الرِّبَا إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِيْنَ فَإِنْ لَّمْ تَفْعَلُوْا فَأْذَنُوْا بِحَرْبٍ مِّنَ اللّٰهِ وَرَسُوْلِه وَإِنْ تُبْتُمْ فَلَكُمْ رُءُوْسُ أَمْوَالِكُمْ لَاتَظْلِمُوْنَ وَلَا تُظْلَمُوْنَ وَإِنْ كَانَ ذُوْ عُسْرَةٍ فَنَظِرَة إِلٰى مَيْسَرَةٍ وَأَنْ تَصَدَّقُوْا خَيْر لَّكُمْ إِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ﴾
اعلاء السنن (14/513):
"قال ابن المنذر: أجمعوا علی أن المسلف إذا شرط علی المستسلف زیادةً أو هديةً، فأسلف علی ذلك إن أخذ الزیادة علی ذلك ربا".
محمد عمران
دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی
25/ربیع الثانی /8144ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد عمران بن عبد المطہر خان | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


