| 91876 | طلاق کے احکام | خلع اور اس کے احکام |
سوال
میں انوشہ بنت محمد انور، ساکنہ رینبو سینٹر، صدر، کراچی، مؤدبانہ گزارش کرتی ہوں کہ مورخہ 11-05-2026 کو فیملی کورٹ کیس نمبر 87/2026 میں عدالتِ فیملی جج کراچی (ساؤتھ) کے ذریعےمیں نے اپنے نکاح کو بذریعہ خلع ختم کر دیا ہے۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں واضح طور پر قرار دیا ہے کہ شادی بذریعہ خلع ختم ہو چکی ہے۔
مدعا علیہ رانا رحمت علی ولد عبد الوحید سے میرا ایک بیٹا ہے، جو اب تین سال کا ہو گیا ہے۔ پیدائش سے لے کر اب تک بچے کا جتنا بھی نان و نفقہ اور خرچہ بنتا ہے، اسی طرح میری ذمہ داری اور نان و نفقہ بھی انہوں نے ادا نہیں کیا۔ ان کی طرف سے بار بار وعدے کیے گئے کہ وہ اپنے تمام فرائض ادا کریں گے، لیکن وعدے پورے نہیں کیے ، اور مجھے ضروریاتِ زندگی سے محروم رکھا گیا۔ حتیٰ کہ میرے اور بچے کے لیے کپڑے بھی نہیں بناتے تھے۔ بچے کے دودھ کے لیے میں بار بار کہتی تھی تو گالیاں دیتے اور مار پیٹ کرتے تھے۔ ان کی ہمیشہ یہی کوشش ہوتی تھی کہ میں زیادہ تر اپنے ماں باپ کے گھر رہوں اور میرے اور بچے کے اخراجات میرے والدین اٹھائیں۔
میرے بچے کے کان کا علاج (Treatment) اور میرے بچے کا آپریشن بھی میرے گھر والوں نے کروایا۔ میرے شوہر میرا فون بھی نہیں اٹھاتے تھے اور کئی مرتبہ تین چار دن تک گھر سے غائب رہتے تھے۔ پوچھنے پر لڑائی جھگڑا کرتے تھے اور مجھ سے بہت سی چیزیں چھپا کر رکھتے تھے۔
انہوں نے کئی اہم Documents، مثلاً بچے کا Birth Certificate، نکاح نامہ اور NIC وغیرہ بھی مجھ سے چھپا کر رکھے ہوئے تھے۔ر حمت کے تین بھائی ہیں اور تینوں کے پاس چھوٹے چھوٹے کمرے ہیں، جبکہ ان کے ماں باپ ٹی لاؤنج (T. Lounge) میں سوتے ہیں۔ میری ہر ایکٹیویٹی (Activity) پر ان کے والدین کی نظر ہوتی ہے، اور وہ باہر جا کر کوئی کام بھی نہیں کرتے، جس کی وجہ سے تھوڑا سا سکون کا سانس لیا جا سکے۔
مزید یہ کہ عدالت کی طرف سے میرے بچے کے لیے ماہانہ 15,000 روپے نان و نفقہ مقرر کیا گیا ہے، لیکن رحمت نے ابھی تک یہ رقم بھی ادا نہیں کی۔
یہ تمام حالات اور مسائل میں نے تفصیل سے بیان کیے ہیں، جن سے اندازہ ہوتا ہے کہ مذکورہ شخص ذہنی طور پر بھی بہت مسائل کا شکار ہے۔ لہٰذا میں چاہتی ہوں کہ عدالت کی طرف سے خلع ہو جانے کے بعد آپ یہ بتائیں کہ :
1۔ میری بیان کردہ صورتِ حال میں خلع / تنسیخِ نکاح کا شرعی حکم کیا ہے؟
2۔ عدالت کی جانب سے جاری کردہ خلع / تنسیخِ نکاح کی ڈگری شرعاً مؤثر اور معتبر ہے یا نہیں؟
3۔ کیا میرا سابق شوہر اب بھی شرعی طور پر میرا شوہر شمار ہوتا ہے یا ہمارا نکاح ختم ہو چکا ہے؟
براہِ کرم میرا مسئلہ شرعی طور پر حل فرمائیں اور جو فتویٰ دیں، اس کے مطابق اگر ہمیں بلایا جائے تو ہم حاضر ہو جائیں گے، اور اگر مدعا علیہ کو بلانا ضروری ہو تو اسے بھی بلایا جائے۔ میں آپ کو اپنا ثالث بناتی ہوں، کیونکہ میں اس وقت اپنے بھائی کے گھر رہتی ہوں اور اپنے بھائی پر مزید بوجھ نہیں ڈال سکتی۔ لہٰذا براہِ کرم شرعی طور پر میرے مسئلے کا حل فرمائیں اور مجھے جواب عنایت کریں۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
واضح رہے کہ طلاق دینے کا اختیار شریعت نے مرد کو دیا ہے عورت کو نہیں ،البتہ چند نا گزیر صورتوں میں شوہر کے ظلم و ستم سے نجات پانے کے لیے عورت کو بھی نکاح ختم کرانے کا حق حاصل ہے، جسے اصطلاحِ شریعت میں خلع کہا جاتا ہے۔ خلع کے شرعاً معتبر ہونے کے لیے میاں بیوی دونوں کی باہمی رضامندی شرط ہے۔ اگر فریقین میں سے کوئی ایک خلع پر راضی نہ ہو تو ایسا خلع شرعاً معتبر نہیں ہوتا، اور زوجین کی باہمی رضامندی کے بغیر عدالت کی طرف سے جاری کردہ خلع کی یکطرفہ ڈگری شرعاً معتبر نہیں ہوتی۔
اس کے برعکس چند اسباب ایسے ہیں جن کی بنا پر عورت تنسیخِ نکاح کا دعویٰ دائر کر سکتی ہے؛ مثلاً شوہر کا نامرد ہونا، مجنون ہونا، نان و نفقہ ادا نہ کرنا، اس طرح لاپتا ہو جانا کہ اس کی زندگی یا موت کا علم نہ ہو سکے، یا بیوی پر بلاجواز اس قدر ظلم و ستم اور مسلسل مار پیٹ کرنا کہ جس کی وجہ سے اس کے ساتھ نباہ ناممکن ہو جائے۔ چنانچہ اگر شوہر نہ تو طلاق یا خلع پر آمادہ ہو اور نہ ہی حقوق ادا کرے، بلکہ ظلم و زیادتی، مار پیٹ اور نان و نفقہ کی عدم ادائیگی پر مصر رہے، تو ایسی مجبوری کی حالت میں مذہبِ مالکی پر عمل کرتے ہوئے عدالت تنسیخِ نکاح کا فیصلہ کر سکتی ہے۔
تاہم عورت کے لیے شرعاً ضروری ہے کہ وہ شہادتوں اور ثبوتوں سے عدالت میں شوہر کے ظلم یا نان و نفقہ نہ دینے کو شرعی طریقے سے ثابت کرے۔ اس ثبوت کی تین صورتیں ہیں:
1۔پہلی صورت یہ ہے کہ مدعیہ کے پاس معتبر شرعی گواہ (دو مرد یا ایک مرد اور دو عورتیں) موجود ہوں، جو خود صورتِ حال سے واقف ہوں یا کم از کم دو افراد نے انہیں مطلع کیا ہو، اور وہ گواہی دیں۔
2۔دوسری صورت یہ ہے کہ اگر اس طرح گواہ میسر نہ ہوں تو یہ بھی کافی ہوسکتا ہے کہ ایک دیانتدار گواہ بذات خود یا اس کا بیان سٹامپ پیپر پر لکھ کر دعویٰ کے ساتھ پیش کیا جائے ، اور ساتھ مدعیہ کی طرف سے بیان حلفی بھی پیش کیا جائے تو ایک گواہ اور بیان حلفی سے بھی اپنے دعوے کا اثبات کیا جاسکتا ہے ۔
3۔ تیسری صورت یہ ہے کہ گواہ موجود نہ ہوں تو مدعا علیہ (شوہر) کو طلب کر کے اس پر حلف پیش کیا جائے اور وہ قسم کھانے سے انکار (نکول) کر دے۔
پس جب شرعی گواہوں کی شہادت کے ذریعے یا شوہر کے نکول (قسم سے انکار) کی صورت میں یہ بات پایۂ ثبوت کو پہنچ جائے کہ شوہر نان و نفقہ نہیں دیتا یا ظلم کرتا ہے، تو پھر عدالت نکاح فسخ کرنے کی مجاز ہوتی ہے، اور ایسی صورت میں شوہر کی رضامندی کے بغیر بھی عدالت کا کیا گیا فیصلہ شرعاً نافذ العمل ہوتا ہے۔
نیز یہ بھی واضح رہے کہ اگر عدالت نے درخواست پر لفظ "خلع" کے تحت فیصلہ دیا ہو، لیکن واقعۃً فسخِ نکاح کے اسباب میں سے کوئی سبب پایا جائے اور وہ عدالت میں مذکورہ شرعی طریقۂ ثبوت (شہادتِ شرعیہ یا نکول) سے ثابت بھی ہو چکا ہو، تو اگرچہ وہ فیصلہ خلع کے طور پر معتبر نہیں ہوگا، لیکن فسخِ نکاح کے تمام ارکان و شرائط پائے جانے کی وجہ سے وہی فیصلہ فسخِ نکاح کے اعتبار سے شرعاً نافذ اور معتبر شمار کیا جائے گا۔
اس تمہید کے بعد مذکورہ عدالتی خلع کا حکم یہ ہے کہ:
مذکورہ عدالتی فیصلے (Family Suit No. 87 of 2026) کے جائزے سے معلوم ہوتا ہے کہ عدالت نے یہ فیصلہ مدعا علیہ (شوہر) کی عدم موجودگی میں یکطرفہ طور پر صادر کیا ہے۔ فیصلے کے متن میں صراحت ہے کہ مدعیہ نے اپنے الزامات، شوہر کے ظلم اور نان و نفقہ کی عدم ادائیگی پر نہ تو کوئی شرعی گواہ پیش کیا اور نہ ہی کوئی دستاویزی ثبوت فراہم کیا۔ دوسری طرف شوہر کے عدالت میں حاضر نہ ہونے کے سبب اس سے حلف کا مطالبہ بھی نہیں کیا جا سکا، جس سے اس کا قسم سے انکار (نکول) ثابت ہوتا۔
2،1۔لہٰذا شرعی گواہوں کے نہ ہونے اور شوہر کے نکول کے مفقود ہونے کے باعث عدالت کا یہ یکطرفہ فیصلہ شرعاً نہ تو خلع کے اعتبار سے درست ہے اور نہ ہی تنسیخِ نکاح کے طور پر معتبر ہے۔
3۔سائلہ بدستور اپنے شوہر کے نکاح میں ہے اور دونوں کا ازدواجی تعلق برقرار ہے۔
اگر شوہر کے ساتھ نباہ کی کوئی صورت ممکن نہ رہے تو سائلہ شوہر سے طلاق یا باہمی رضامندی سے خلع کا معاملہ طے کرے۔
حوالہ جات
الفقه الإسلامي وأدلته للزحيلي (9/ 7060)
المقصود بالشقاق والضرر: الشقاق هو النزاع الشديد بسبب الطعن في الكرامة. والضرر: هو إيذاء الزوج لزوجته بالقول أو بالفعل، كالشتم المقذع والتقبيح المخل بالكرامة، والضرب المبرِّح، والحمل على فعل ما حرم الله، والإعراض والهجر من غير سبب يبيحه، ونحوه.
رأي الفقهاء في التفريق للشقاق:
لم يجز الحنفية والشافعية والحنابلة التفريق للشقاق أو للضرر مهما كان شديداً؛ لأن دفع الضرر عن الزوجة
يمكن بغير الطلاق، عن طريق رفع الأمر إلى القاضي، والحكم على الرجل بالتأديب حتى يرجع عن الإضرار بها.
وأجاز المالكية التفريق للشقاق أو للضرر، منعاً للنزاع، وحتى لا تصبح الحياة الزوجية جحيماً وبلاء، ولقوله عليه الصلاة والسلام: «لا ضرر ولا ضرار». وبناء عليه ترفع المرأة أمرها للقاضي، فإن أثبتت الضرر أو صحة دعواها، طلقها منه، وإن عجزت عن إثبات الضرر رفضت دعواها.
(الحیلۃ الناجزۃ،الروایۃ الثالثۃ والعشرون،ص:150)
"وأما المتعنت الممتنع عن الإنفاق ففي مجموع الأمير مانصه: إن منعها نفقة الحال فلها نفقة القيام فإن لم يثبت عسره أنفق أو طلق وإلا طلق عليه. قال محشيه قوله: وإلا طلق أي طلق عليه الحاكم من غير تلوم إلي أن قال: وإن تطوع بالنفقة قريب أوأجنبي فقال ابن القاسم لها أن تفارق لأن الفراق قد وجب لها. وقال ابن عبدالرحمن لا مقال لها لأن سبب الفراق هو عدم النفقة قد انتهي وهو الذي تقضيه المدونة ".
مواهب الجليل في شرح مختصر خليل (4/ 17) الناشر: دار الفكر،بیروت:
(ولها التطليق بالضرر) ش: قال ابن فرحون في شرح ابن الحاجب: من الضرر قطع كلامه عنها وتحويل وجهه في الفراش عنها وإيثار امرأة عليها وضربها ضربا مؤلما وليس من الضرر منعها من الحمام والنزاهة وتأديبها على ترك الصلاة ولا فعل التسري، انتهى.
بداية المجتهد ونهاية المقتصد (4/ 252)
وأما ثبوت الحق على المدعى عليه بنكوله فإن الفقهاء أيضا اختلفوا في ذلك، فقال مالك، والشافعي وفقهاء أهل الحجاز وطائفة من العراقيين: إذا نكل المدعى عليه لم يجب للمدعي شيء بنفس النكول، إلا أن يحلف المدعي أو يكون له شاهد واحد..... ومن حجة مالك أن الحقوق عنده إنما تثبت بشيئين: إما بيمين وشاهد، وإما بنكول وشاهد، وإما بنكول ويمين.
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (5/ 414)
(قوله: ولو قضى على غائب إلخ) أي قضى من يرى جوازه كشافعي لإجماع الحنفية على أنه لا يقضى على غائب كما ذكره الصدر الشهيد في شرح أدب القضاء، كذا حققه في البحر. والحاصل: أنه لا خلاف عندنا في عدم جواز القضاء على الغائب. وإنما الخلاف في أنه لو قضى به من يرى جوازه هل ينفذ بدون تنفيذ أو لا بد من إمضاء قاض آخر.
منح الجليل شرح على مختصر سيد خليل (8/ 371)
ولما أفاد أن القاضي يحكم على الغائب وكانت الغيبة ثلاثة أقسام قريبة وبعيدة ومتوسطة ذكرها على هذا الترتيب فقال و الغائب القريب الغيبة كثلاثة أيام مع أمن الطريق كالحاضر في سماع الدعوى عليه والبينة ۔ ابن الماجشون العمل عندنا أن تسمع الدعوى والبينة حضر الخصم أو لم يحضرفإن كان له مدفع وإلا قضى عليه في كل شيء بعد الإرسال إليه وإعلامه بمن قام عليه دعواه وما ثبت عليه وتسمية الشهود.
محمد عمران
دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی
04/ ربیع الاول/8144ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد عمران بن عبد المطہر خان | مفتیان | محمد حسین خلیل خیل صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


