| 91298 | جائز و ناجائزامور کا بیان | خریدو فروخت اور کمائی کے متفرق مسائل |
سوال
میں DAT لوڈ بورڈ کا افیلیٹ ہوں۔ یہ ایک سافٹ ویئر ہے جہاں ٹرک ڈرائیورز اپنے لیے لوڈ تلاش کرتے ہیں۔ اس پلیٹ فارم پر ہر قسم کے لوڈ موجود ہوتے ہیں، حلال بھی اور دیگر بھی، اور لوڈ کا انتخاب ڈرائیور کی اپنی مرضی پر ہوتا ہے۔
میرا کام صرف DAT لوڈ بورڈ کی سبسکرپشن کو پروموٹ کرنا ہے۔ جو شخص میری افیلیٹ لنک کے ذریعے سبسکرپشن لیتا ہے، مجھے اس پر کمیشن ملتا ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ DAT اپنی طرف سے فیکٹرنگ کمپنیوں کے اشتہارات بھی دکھاتا ہے۔ فیکٹرنگ کا نظام سود (ربا) پر مبنی ہوتا ہے جو اسلام میں حرام ہے۔ میرا فیکٹرنگ کمپنیوں سے کوئی تعلق نہیں، نہ میں انہیں پروموٹ کرتا ہوں اور نہ ہی ان سے کوئی کمیشن لیتا ہوں۔ میں ہر ای میل اور ایس ایم ایس کے آخر میں واضح طور پر لکھتا ہوں کہ ہم صرف DAT سے وابستہ ہیں اور سودی خدمات سے بچنے کی تلقین کرتے ہیں۔
سوال یہ ہے کہ کیا صرف لوڈ بورڈ کو پروموٹ کرنا اور اس پر کمیشن لینا جائز ہے؟ اگر کلائنٹ کو بعد میں DAT کی طرف سے فیکٹرنگ کے اشتہارات دکھائے جائیں تو کیا میں اس کے گناہ میں شریک شمار ہوں گا؟ کیا میری یہ کمائی
حلال کہی جا سکتی ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
واضح رہے کہ آپ کا یہ معاملہ شرعاً "اجارہ" (اجرت پر خدمات کی فراہمی) کے حکم میں داخل ہے۔ آپ کی فراہم کردہ معلومات کے مطابق، آپ لوگوں کو ایک جائز سروس کی طرف راغب کر رہے ہیں، کیونکہ آپ کی ذمہ داری صرف DAT لوڈ بورڈ (Load Board) کی سبسکرپشن کو پروموٹ کرنا اور اس پر طے شدہ کمیشن حاصل کرنا ہے۔
اگر بعد میں DAT کمپنی کی طرف سے کسٹمر کو( فیکٹرنگ (Factoring/سودی فنانسنگ کے اشتہارات دکھائے جائیں، تو آپ اس کے گناہ میں شریک شمار نہیں ہوں گے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ آپ نہ تو ان سودی خدمات کی تشہیر کرتے ہیں، نہ ان سے کوئی کمیشن وصول کرتے ہیں اور نہ ہی کسٹمرز کو ان کی طرف راغب کرتے ہیں ۔
لہٰذا، جب تک آپ بذاتِ خود کسی حرام سروس، سودی معاہدے یا ناجائز کاروبار کی تشہیر سے مکمل اجتناب کرتے رہیں گے، آپ کی یہ کمائی شرعاً حلال اور طیب ہو گی۔
حوالہ جات
«الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهندية» (5/ 343):
«آكل الربا وكاسب الحرام أهدى إليه أو أضافه وغالب ماله حرام لا يقبل، ولا يأكل ما لم يخبره أن ذلك المال أصله حلال ورثه أو استقرضه، وإن كان غالب ماله حلالا لا بأس بقبول هديته والأكل منها، كذا في الملتقط.»
«فقه البِيوع علي المذاهب الاربع» (321/1):
القسم الثالث ما وضع لأغراض عامة:
ما وضع لأغراض عامة، ويمكن استعماله في حالتها الموجودة في مباح أو غيره.
مذهب الحنفية أنهم يُجيزون بيع هذا القسم، وإن كان معظم منافعه محرماً، ولذلك أجازوا بيع الدهن المتنجس. قال الحصكفي في الدر المختار:" ونجيز بيع الدهن المتنجس والانتفاع به في غير الأكل بخلاف الودك. (1) وإنما حرموا بيع ودك الميتة لأنه جزء من الميتة، فدخل في القسم الأول، ولحديث جابر بن عبد الله رضى الله عنهما:
" إن الله حرم بيع الخمر والميتة والخنزير والأصنام . قيل: يارسول الله! أرأيت شحوم الميتة، فإنّه يُطلى بها السفن، ويُدهن بها الجلود، ويستصبحبها الناس؟ قال: لا، هو حرام.
ولكن جواز البيع في هذه الأشياء بمعنى صحة العقد. أما الإثم، فيتأتى فيه ما ذكرناه في شروط العاقد من أنه إذا كان يقصد به معصية، بائعاً أو مشترياً، فالبيع يُكره تحريماً، وذلك إما بنية في القلب، أو بالتصريح في العقد أن البيع يقصد به محظور. أما إذا خلا العقد من الأمرين، ولا يعلم البائع بيقين أن المشتري يستعمله في محظور، فلا إثم في بيعه.
«تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق وحاشية الشلبي» (5/ 134):
«(ولا يستحق الأجر حتى يعمل كالقصار والصباغ) يعني 45: الأجير المشترك لا يستحق الأجرة إلا إذا عمل لأن الإجارة عقد معاوضة فتقتضي المساواة بينهما فما لم يسلم المعقود عليه للمستأجر لا يسلم له العوض، والمعقود عليه هو العمل أو أثره على ما بينا فلا بد من العمل.»
«البناية شرح الهداية» (10/ 221):
«الإجارة عقد يرد على المنافع بعوض؛ لأن الإجارة في اللغة بيع المنافع والقياس يأبى جوازه؛ لأن المعقود عليه المنفعة وهي معدومة، وإضافة التمليك إلى ما سيوجد لا يصح»
محمد عمران
دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی
01/صفر /8144ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد عمران بن عبد المطہر خان | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


