| 91358 | اجارہ یعنی کرایہ داری اور ملازمت کے احکام و مسائل | ملازمت کے احکام |
سوال
میں ایک جگہ رات کی چوکیداری کی ڈیوٹی کرتا ہوں۔ ادارے کی طرف سے رات کے وقت سونا منع ہے۔ تاہم جس جگہ میں ڈیوٹی کرتا ہوں وہ انتہائی محفوظ ہے؛ وہاں چار دیواری، کانٹے دار تار اور دیگر حفاظتی انتظامات موجود ہیں۔ تقریباً چھ ماہ ہونے والے ہیں اور اس دوران کوئی نقصان یا ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا۔ ایسی صورت میں کیا میرے لیے دورانِ ڈیوٹی 10 سے 20 منٹ کے لیے سونا جائز ہے یا نہیں؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
واضح رہے کہ کسی بھی ادارے کے ملازمین کی حیثیت اجیرِ خاص کی ہوتی ہے، کیوں کہ وہ وقت کے پابند ہوتے ہیں اور اجیرِ خاص ملازمت کے اوقات میں حاضر رہنے سے اجرت (تنخواہ) کا مستحق ہوتا ہے۔شرعی اصول یہ ہے کہ اجیرِ خاص کے لیے ڈیوٹی کے اوقات میں اپنے مستاجر (ادارے) کی اجازت کے بغیر کوئی دوسرا کام کرنا جائز نہیں، یہاں تک کہ اس دوران ملازم کو نفلی نماز پڑھنے کی بھی اجازت نہیں ہوتی ،چنانچہ ڈیوٹی کے مقررہ وقت میں ملازم پر لازم ہے کہ وہ اپنے آپ کو مکمل طور پر اسی کام کے لیے فارغ رکھے جس کا معاہدہ ہوا ہے اور فرائضِ منصبی کے علاوہ کسی دوسرے ایسے کام میں وقت صرف نہ کرے،جو اس کی ڈیوٹی میں خلل کا باعث بنے۔
چونکہ آپ کے ادارے کی طرف سے واضح ضابطہ موجود ہے کہ "رات کے وقت دورانِ ڈیوٹی سونا منع ہے"، اس لیے آپ کے لیے ڈیوٹی کے دوران 10 سے 20 منٹ کے لیے بھی سونا شرعاً جائز نہیں۔ آپ کا یہ عذر کہ جگہ محفوظ ہے، چار دیواری اور کانٹے دار تاریں موجود ہیں ، شرعاً اس ممانعت کو ختم نہیں کرتا؛ کیونکہ ملازم معاہدے اور ادارے کے مقررہ ضوابط کا پابند ہوتا ہے، نہ کہ صرف ظاہری طور پر کسی نقصان کے نہ ہونے کا۔
لہٰذا آپ پر لازم ہے کہ ملازمت کے معاہدے اور ادارے کے قواعد و ضوابط کی پابندی کرتے ہوئے پوری ڈیوٹی بیداری اور ذمہ داری کے ساتھ انجام دیں۔ اگر جان بوجھ کر دورانِ ڈیوٹی سوئیں، تو یہ معاہدے کی خلاف ورزی اور امانت میں کوتاہی شمار ہوگی، اور اس صورت میں اس وقت کی تنخواہ لینا بھی جائز نہ ہوگا۔
حوالہ جات
«البحر الرائق شرح كنز الدقائق ومنحة الخالق وتكملة الطوري» (8/ 33):
«قال رحمه الله (والخاص يستحق الأجر بتسليم نفسه في المدة وإن لم يعمل كمن استؤجر شهرا للخدمة أو لرعي الغنم) يعني الأجير الخاص يستحق الأجر بتسليم نفسه في المدة عمل أو لم يعمل».
«الهداية في شرح بداية المبتدي» (3/ 243):
«قال: "والأجير الخاص الذي يستحق الأجرة بتسليم نفسه في المدة وإن لم يعمل كمن استؤجر شهرا للخدمة أو لرعي الغنم" وإنما سمي أجير وحد؛ لأنه لا يمكنه أن يعمل لغيره؛ لأن منافعه في المدة صارت مستحقة له والأجر مقابل بالمنافع، ولهذا يبقى الأجر مستحقا، وإن نقض العمل.»
«حاشية ابن عابدين = رد المحتار - ط الحلبي» (6/ 70):
«(قوله وليس للخاص أن يعمل لغيره) بل ولا أن يصلي النافلة. قال في التتارخانية: وفي فتاوى الفضلي وإذا استأجر رجلا يوما يعمل كذا فعليه أن يعمل ذلك العمل إلى تمام المدة ولا يشتغل بشيء آخر سوى المكتوبة وفي فتاوى سمرقند: وقد قال بعض مشايخنا له أن يؤدي السنة أيضا. واتفقوا أنه لا يؤدي نفلا وعليه الفتوى. ...(قوله ولو عمل نقص من أجرته إلخ) قال في التتارخانية: نجار استؤجر إلى الليل فعمل لآخر دواة بدرهم وهو يعلم فهو آثم، وإن لم يعلم فلا شيء عليه وينقص من أجر النجار بقدر ما عمل في الدواة»
محمد عمران
دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی
05/صفر /8144ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد عمران بن عبد المطہر خان | مفتیان | مفتی محمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب |


