03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
مسجد کی دکان کرایہ پر دینے کا حکم
91327وقف کے مسائلمسجد کے احکام و مسائل

سوال

مسجد کی ایک دکان بھی ہے جو نائب خطیب کو دی ہوئی ہے، جس میں انہوں نے کریانہ کی دکان بنائی ہے۔ ان سے دکان کا کرایہ نہیں لیا جاتا اور نہ ہی نائب خطیب کو تنخواہ دی جاتی ہے۔ کیا ایسا کرنا شرعاً ٹھیک ہے؟

تنقیح: سائل  نے بتایا کہ نائب خطیب کو دکان دیتے وقت صرف یہ بات طے ہوئی تھی کہ وہ 2027 تک دکان استعمال کر سکتا ہے۔ اس وقت نہ تو دکان کا کرایہ طے ہوا تھا اور نہ ہی اس کی تنخواہ کے حوالے سے کوئی بات  ۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ مسجد کی وقف دکان کو اجرتِ مثل (یعنی اس جیسی دکان کا اس علاقے میں جو کرایہ چل رہا ہو) کے بدلے کرائے پر دینا جائز ہےاور متولی یا کمیٹی کا وقفی دکان کو اجرتِ مثل سے کم، یا بغیر کسی کرائے کے دینا جائز نہیں۔

لہٰذا مسجد کی دکان کو نائب خطیب یا کسی کو بھی کرائے کے بغیر دینا جائز نہیں۔

 اس کا شرعی متبادل یہ ہے کہ مسجد کی انتظامیہ (کمیٹی یا متولی) اس دکان کا مارکیٹ کے مطابق مناسب کرایہ (اجرتِ مثل) مقرر کرے۔ اس کے ساتھ ساتھ نائب خطیب کی خدمات کے عوض ان کی ایک ماہانہ تنخواہ بھی باقاعدہ طور پر مقرر کی جائے۔ اگر وہ تنخواہ اور دکان کا کرایہ برابر ہو، تو ان دونوں کا آپس میں تبادلہ (مقاصہ / Adjust) کر لیں۔ اس طرح نائب خطیب دکان کا کرایہ دار شمار ہوگا اور وہ کرایہ اس کی تنخواہ میں سے کٹ جایا کرے گا۔

حوالہ جات

الفتاوى العالمكيرية ،الفتاوى الهندية (2/ 419):

ولا تجوز إجارة الوقف إلا بأجر المثل كذا في محيط السرخسي۔

البحر الرائق شرح كنز الدقائق ومنحة الخالق وتكملة الطوري (5/ 261):

وفي جامع الفصولين ولو أذن قيم مؤذنا ليخدم مسجدا وقطع له الأجر وجعل ذلك أجرة المنزل وهو أجر المثل جاز۔

الفتاوى العالمكيرية ، الفتاوى الهندية (2/ 462):

متولي المسجد إذا اشترى بالغلة التي اجتمعت عنده من الوقف منزلا ودفع المنزل إلى المؤذن ليسكن فيه إن علم المؤذن ذلك كره أن يسكن في ذلك المنزل؛ لأن هذا المنزل من مستغلات الوقف ويكره للإمام والمؤذن أن يسكن في ذلك المنزل، كذا في فتاوى قاضي خان وإذا أراد أن يصرف شيئا من ذلك إلى إمام المسجد أو إلى مؤذن المسجد فليس له ذلك، إلا إن كان الواقف شرط ذلك في الوقف، كذا في الذخيرة.

الفتاوى العالمكيرية، الفتاوى الهندية (2/ 461):

وللمتولي أن يستأجر من يخدم المسجد يكنسه ونحو ذلك بأجر مثله أو زيادة يتغابن فيها فإن كان أكثر فالإجارة له وعليه الدفع من مال نفسه ويضمن لو دفع من مال الوقف وإن علم الأجير أن ما أخذه من مال الوقف لا يحل له، كذا في فتح القدير.

مجمع الأنهر في شرح ملتقى الأبحر (2/ 370):

واعلم أن إجارة الوقف لا تجوز إلا بأجر المثل لو أكثر، ولو آجر الناظر بدون أجر المثل لا تصح الإجارة، ويلزم المستأجر تمام أجر المثل.

وفي البحر متولي أرض الوقف آجرها بغير أجر المثل يلزم مستأجرها تمام أجر المثل عند بعض علمائنا، وعليه الفتوى۔

محمد ابراہیم قریشی بن عبدالرزاق

دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی

5/صفرالمصفر /1448ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد ابرہیم قریشی بن عبد الرزاق

مفتیان

مفتی محمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب