021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
فجر کی سنتیں گھر پر پڑھنے سے خاتمہ بالخیر کی بشارت والی حدیث کی تحقیق
71391تصوف و سلوک سے متعلق مسائل کا بیانمعجزات اور کرامات کا بیان

سوال

مفتیان کرام اس سؤال وجواب کے بارے میں کیا فرماتے ہیں کہ سؤال :حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تهانوی رحمة الله عليه سے کسی نے پوچھا کہ ایمان پر خاتمہ کا کامیاب نسخہ بتلائیے تو انہوں نے فرمایا: "مراقی الفلاح" جو فقہ کی مشہور و معروف کتاب ہے اس میں ایک حدیث ہے: قال ﷺ: من صلى ركعتي الفجر (اي سنته) في بيته يوسع له في رزقه و يقل المنازع بينه وبين اهله و يختم له بالايمان

الجواب:واضح رہے کہ "مراقی الفلاح" فقہ کی کتاب ہے، لہذا کسی بھی فقہ کی کتاب میں کسی روایت کا موجود ہونا بطور حوالہ کافی نہیں ہوتا، بلکہ حدیث کی کسی مستند کتاب میں اس روایت کا موجود ہونا ضروری ہے.

روایت کا درجہ و حکم:یہ روایت احادیث کی کسی مستند کتاب میں موجود نہیں ،البتہ علامہ سخاوی رحمه اللہ نے اس روایت کو اپنی کتاب "الأجوبة المرضية" میں نقل کیا ہے."من صلى سنة الفجر في بيته يوسع له في رزقه وتقل المنازعة بينه وبين أهله ويختم له بالإيمان"

المصدر: الأجوبة المرضية: الصفحة أو الرقم: 3/916المحدث: السخاوي.

- خلاصة حکم المحدث: لا أصل له.

خلاصہ حکم یہ کہ یہ روایت سرے سے موجود ہی نہیں ، لہذا اس روایت کو بیان کرنا یا پھیلانا بھی درست نہیں ۔ واللہ اعلم

 

o

پہلی بات یہ کہ حضرت تھانوی رحمہ اللہ تعالی کی طرف مذکورہ بات کی نسبت کسی مضبوط دلیل اور حوالےسے ثابت نہیں۔

 دوسری بات یہ کہ اگریہ نسبت ثابت ہوبھی جائےتو بھی تھانوی رحمہ اللہ تعالی کی دیگر تحریرات کی روشنی میں اس کا مطلب یہی متعین ہوگا کہ دیگر امور یعنی اعمال وفرائض کے ساتھ ساتھ یہ خاصیت وفضلیت  مؤثر ہوگی۔

   تیسری بات یہ کہ خاص یہ الفاظ حدیث اگرچہ ثابت نہیں ،لیکن  عقل وذوق سلیم  نصوص عامہ کی روشنی میں اس حدیث کے مفہوم کی تصدیق کرتا ہے، اس لیے کہ صبح سویرے اٹھنے اورسنت فجر کے گھر میں پڑھنے کی تاکید واہمیت دیگر صحیح احادیث سے ثابت ہے،لہذا دیگرصحیح احادیث سے فی نفسہ اس کے مضمون کی تایید ہوتی ہے ، اس لیے کہ صبح سویرے اٹھنے سے رزق میں برکت اورایک درجہ میں سنت فجر کا گھر میں پڑھنا  گھرمیں برکت کا باعث ہونا دیگر نصوص کی روشنی میں ایک مسلم حقیقت ہے اور رزق میں برکت  اورخانگی  معاملات میں آسودگی سے ذہن،فکر ونظر اور دل میں سکون پیدا ہونا بھی یقینی ہے، اور کسی عمل صالح سےان دونوں کی آسودگی اللہ پر توکل اور یقین میں اضافہ  واکمال کا باعث بنتی ہیں،اور اللہ پر کامل یقین اور مکمل بھروسےکا خاتمہ بالخیر سےتعلق واضح ہے۔اسی طرح فجر کی سنتوں کو گھر میں ادا کر کے نمازباجماعت کے لیے گھر سے باوضو جانا تمام نمازوں کے مسجد میں باجماعت ادا کرنے کے اہتمام کا باعث ہے اور مسجد میں باقاعدگی سے حاضری پر خود احادیث صریحہ صحیحہ میں جنت اور ایمان کی بشارت منقول ہے،نیز خود نماز کا منکرات اور فواحش سے روکنے کی تصریح قرآن مجید بھی واردہے اور ترک منکرات پر رزق میں وسعت اور گھر میں آسودگی والفت اور خاتمہ بالخیر کی نوید نصوص میں جابجا مصرح ہے۔لہذا مذکورہ الفاظ کو بطور حدیث بیان کرنا اگرچہ درست نہیں ،لیکن اس کے مضمون کا صحیح ہونااور اس کو بطور ایک نسخہ اصلاح کے بیان کرنا محتاج بیان ودلیل نہیں، اور فقہاء امت نے بھی اسی فلسفہ اور حیثیت کے تناظر میں اس کو نقل فرمایا ہے،لہذا اس طرح بیان کرنے کی گنجائش ہے۔اورجن حضرات نے اس کے بے اصل ہونے کی  بات کی ہے،ان کامقصد بھی اس کے الفاظ بطور حدیث مرفوع کےبے اصل ہے۔

حوالہ جات

۔۔۔۔۔۔

نواب الدین

دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی

۲۱جمادی الثانیۃ ۱۴۴۲ھ

n

مجیب

نواب الدین صاحب

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔