021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
بعض ورثہ کی فوتگی کے بعد تقسیم ترکہ کا مکرر سؤال
77448میراث کے مسائلمیراث کے متفرق مسائل

سوال

میں مسمات سیما اعجاز زوجہ اعجاز احمد اعظمی یہ عرض کرنا چاہتی ہوں کہ میرے والدین کا انتقال ہوچکا ہے، جبکہ ہم کل تین بہنیں اور ایک بھائی تھے، جس میں سے میرے بھائی بنام طارق اعظمی کاتین چار سال پہلے  انتقال ہوگیا تھا، جبکہ انکی بیوی بھی مؤرخہ 2022-07-17 کو انتقال کرگئی ہیں، ،میرے مرحوم بھائی کی کوئی اولاد نہیں ہے،میرے بھائی نے اپنے پیچھے مندرجہ ذیل جائیداد چھوڑی ہے۔۱۔ ایک فلیٹ ۲۔ ایک پلاٹ ۳۔ دو بینک اکاؤنٹ جس میں رقم موجود ہے۔جناب عالی! میری بہن بنام مسمات رخسانہ پروین کا بھی انتقال ہوچکا ہے، جبکہ اس کے وارثوں میں اس کا شوہر اور اس کی ایک بیٹی بنام ناہید ہے، اس وقت ہم دو بہنیں( ایک میں، اور میری بہن ریحانہ  )حیات ہیں۔ معلوم یہ کرنا ہے کہ شرعی طور پر مذکورہ جائیداد اور بینک رقوم میں ہمارا اور میری بھانجی کا حصہ کیا ہوگا؟یہاں یہ بات آپ کو بتاتی چلوں کہ مذکورہ پلاٹ میرے بھائی طارق انصاری اور ان کے سالے نے مل کر 50،50 فیصد پر خریدا تھا۔

o

اس بارے میں آپ کی طرف سے پہلے بھی ایک سؤال کیا گیا ہے جس کا جواب فتوی نمبر 60/71081 کی صورت میں دیا گیا ہے،اس فتوی کے بعد نصرت زوجہ  مرحوم طارق اعظمی اور مرحوم کی بہن رخسانہ کا بھی انتقال ہوچکا ہے، جس کی وجہ سے اب سابق تقسیم میں درج ذیل فرق کو ملحو ظ رکھنا ضروری ہے:

(۱)مرحومہ رخسانہ کےحصہ میراث سے اس کے شوہر کو ایک چوتھائی(25فیصد) اور اس کی بیٹی  کو نصف(50فیصد)ملے گااور باقی( 25 فیصد) دو بہنوں کے درمیان برابر تقسیم ہوگا۔مشترکہ پلاٹ میں سے مرحوم کی ملکیت( 50 فیصد) کی بقدر مالیت اس کے ورثہ میں تقسیم ہوگی۔

(۲) آپ کے بھائی کی بیوی مسمات نصرت مرحومہ کا حصہ میراث ان کے شرعی ورثہ میں تقسیم ہوگا۔

حوالہ جات

۔۔۔۔۔

نواب الدین

دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی

۴محرم۱۴۴۳ھ

n

مجیب

نواب الدین صاحب

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔