021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
مضافات شہر میں جمعہ کا حکم
71396نماز کا بیانجمعہ و عیدین کے مسائل

سوال

گجرات میں ہائی وے پر شہر سے چار کلو میٹر اور گاؤں سے ایک کلو میٹر کے فاصلے پر ایک ہوٹل ہے، ان ہوٹل والوں پر جمعہ لازم ہے یا نہیں؟ اور اگر ہے تو کیا وہ گاؤں کی مسجد میں ادا کریں گے یا کہ شہر میں ؟جبکہ گاؤں کی مسجد جو کہ اہل بدعت کی ہے اس کی اذان کی آواز اس ہوٹل میں آتی ہے۔

o

فناء مصر یعنی شہر کے مضافات میں جمعہ جائز ہے ،لہذا اگر آپ کے ہوٹل کے علاوہ اس علاقے کی  دیگرسہولیات سےبھی شہر گجرات  کی اکثریت مستفید ہوتی ہو اورہوٹل کا علاقہ عرف میں اسی شہر کے مضافات کا حصہ بھی شمار ہوتا ہو تو ایسی صورت میں آپ جمعہ کی نماز ادا کریں گے، البتہ اس کے لیے شہر جانا ضروری نہیں ، بلکہ ہوٹل میں بھی ادا کی جاسکتی ہے ،لیکن شہر کی مسجد جانا زیادہ بہتر ہے،ورنہ(اگر اس علاقے کی سہولیات سے شہر کی اکثریت نہ تو مستفید ہوتی ہو اور نہ ہی عرف میں اس علاقے کو شہر کے مضافات میں شمار کیا جاتا ہو) تو ایسی صورت میں آپ پر جمعہ نہیں۔(احسن الفتاوی:ج۴،ص۱۳۳)

حوالہ جات

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (2/ 138)
(أو فناؤه) بكسر الفاء (وهو ما) حوله (اتصل به) أو لا كما حرره ابن الكمال وغيره (لأجل مصالحه) كدفن الموتى وركض الخيل والمختار للفتوى تقديره بفرسخ ذكره الولوالجي.
والتعريف أحسن من التحديد لأنه لا يوجد ذلك في كل مصر وإنما هو بحسب كبر المصر وصغره. بيانه أن التقدير بغلوة أو ميل لا يصح في مثل مصر لأن القرافة والترب التي تلي باب النصر يزيد كل منهما على فرسخ من كل جانب، نعم هو ممكن لمثل بولاق فالقول بالتحديد بمسافة يخالف التعريف المتفق على ما صدق عليه بأنه المعد لمصالح المصر فقد نص الأئمة على أن الفناء ما أعد لدفن الموتى وحوائج المصر كركض الخيل والدواب وجمع العساكر والخروج للرمي وغير ذلك وأي موضع يحد بمسافة يسع عساكر مصر ويصلح ميدانا للخيل والفرسان ورمي النبل والبندق البارود واختبار المدافع وهذا يزيد على فراسخ فظهر أن التحديد بحسب الأمصار اهـ ملخصا من [تحفة أعيان الغني بصحة الجمعة والعيدين في الفنا] للعلامة الشرنبلالي وقد جزم فيها بصحة الجمعة في مسجد سبيل على أن الذي بناه بعض أمراء زمانه وهو في فناء مصر بينه وبينها نحو ثلاثة أرباع فرسخ وشيء.
مطلب في صحة الجمعة بمسجد المرجة والصالحية في دمشق
أقول: وبه ظهر صحتها في تكية السلطان سليم بمرجة دمشق، وكذا في مسجده بصالحية دمشق فإنها من فناء دمشق بما فيها من التربة بسفح الجبل وإن انفصلت عن دمشق بمزارع لكنها قريبة لأنها على ثلث فرسخ من البلدة، وإن اعتبرت قرية مستقلة فهي مصر على تعريف المصنف على أن مسجدها مبني بأمر السلطان، وكذا مسجدها القديم المشهور بمسجد الحنابلة الذي بناه الملك الأشرف وأمره كاف في صحتها على ما مر تأمل۔

نواب الدین

دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی

۲۱جمادی الثانیۃ ۱۴۴۲ھ

n

مجیب

نواب الدین صاحب

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔