021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
حضرت سیلمان علیہ السلام کی بیویوں کے بارے میں اختلاف روایات کی تطبیق
70942انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلاممتفرّق مسائل

سوال

بخاری شریف میں احادیث متعارض آئی ہیں جیسا کہ حضرت سلیمان علیہ اسلام کی بیگمات کی تعداد ایک روایت میں 90ایک میں70اورایک میں 60 آئی ہیں،جبکہ بخاری اصح ا لکتب بعد کتاب اللہ ہے،میں نے جو مطالعہ کیاہےانعام الباری کا جو مفتی تقی عثمانی صاحب کی ہے،اس کے مطابق احادیث کی حفاظت کااہتمام اللہ نے بالمعنی الاصطلاحی کیا ہے،نہ کہ بالمعنی اللغوی یعنی کہ الفاظ ہوبہووہ نہیں ہیں جو کہ اللہ کے نبی نے کہے،بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی باتوں کا مفہوم بیان کیاہے تاکہ شریعت کے مسائل کی تفسیر ہو سکے۔اس کا جواب برائے مہربانی تفصیل میں مثال کی روشنی میں کریں کیوں کہ عوام میں آگاہی نہ ہونے کیوجہ سے یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ احادیث کی حفاظت اللہ نے نہیں کی ۔

o

روایات میں اختلاف  ان میں تعارض اور ٹکراؤ کی دلیل نہیں، اور نہ ہی یہ صرف احادیث کے ساتھ کوئی خاص معاملہ ہے بلکہ دنیا میں ہرجگہ جہاں باتیں نقل کی جاتی ہیں وہاں اس طرح کا اختلاف پایا جاتا ہے ،لیکن کوئی ان تمام باتوں کی تکذیب نہیں کرتا ،بلکہ حالات کی اور قرائن کی تحقیق کرکے کسی ایک کو ترجیح یا ان تمام باتوں میں تطبیق دی جاتی ہے ،مثلا اگر کسی جگہ حادثہ ہوجائے اور اس حادثہ میں ابتدائی معلومات کے مطابق کوئی تعدا دسامنے آجائے تو بعد کی خبروں میں اضافی تعداد سامنے آنے سے کوئی بھی پہلی خبر کو جھوٹ نہیں کہتا، اسی قسم کی صورت حال مختلف   اسباب وذرائع  کی وجہ سےنقل احادیث میں بھی پیدا ہوئی ہے،نیزاحادیث کی حفاظت  دونوں طرح کی گئی ہے ،لفظی اور معنوی، چنانچہ محدثین کے نزدیک لفظی رعایت ضروری ہے، جبکہ فقہاے محدثین کے نزدیک لفظی رعایت ضروری نہیں،اس لیے کہ احادیث میں بنیادی  مقصدچونکہ قرآن کی تشریح ومفہوم تھا،لہذا لفظی حفاظت کا اہتمام نہیں کیا گیا،لیکن معنوی روایت حدیث کے لیے  بھی راوی میں بنیادی طور پر فہم اور سمجھ  کا اعلی معیار بنیادی شرط قرار دیا گیا، لہذا ہر کس وناکس کی روایت بالمعنی بھی قبول نہیں کی گئی۔

 اس مختصر تمہید کے بعدپہلی بات یہ ہے کہ حضرت سیلمان علیہ السلام کی بیویوں کی تعداد کے بارے میں اور بھی اعداد روایات میں وارد ہیں مثلا چالیس،تین سو اورہزار وغیرہ، لیکن سو سے زائدوالی روایات  اسرائیلیات سے معلوم ہوتی ہیں اور دوسری بات یہ ہے کہ زیر بحث مسئلہ میں بھی  مختلف روایات میں علامہ ابن حجر رحمہ اللہ تعالی نے تطبیق دی ہے کہ ساٹھ  اوراس سے اوپر کے اعداد ستراور نوے کے اعداد میں یہ فرق آزادازواج اور باندیوں کے اعتبار سے ہے، اور بعض اعداد کا ذکر عربی محاورے کے اعتبار سے مبالغہ اور کثرت تعداد بیان کرنے کے لیے ہےاور سو اور ننانوے کا فرق بھی اعتباری ہے۔لہذا اس بارے میں اختلاف روایت سے احادیث میں تعارض پر استدلال یا اس سے حدیث کی لفظی یا معنوی طور پر حفاظت نہ ہونے کا استدلال درست نہیں۔

حوالہ جات

فتح الباري لابن حجر (6/ 460)
فمحصل الروايات ستون وسبعون وتسعون وتسع وتسعون ومائة والجمع بينها أن الستين كن حرائر وما زاد عليهن كن سراري أو بالعكس وأما السبعون فللمبالغة وأما التسعون والمائة فكن دون المائة وفوق التسعين فمن قال تسعون ألغى الكسر ومن قال مائة جبره ومن ثم وقع التردد في رواية جعفر وأما قول بعض الشراح ليس في ذكر القليل نفي الكثير وهو من مفهوم العدد وليس بحجة عند الجمهور فليس بكاف في هذا المقام وذلك أن مفهوم العدد معتبر عند كثيرين والله أعلم

نواب الدین

دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی

۲۰جمادی الاولی ۱۴۴۲ھ

n

مجیب

نواب الدین صاحب

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / سعید احمد حسن صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔