021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
ایک حدیث( انا مالک الملوک وملک القلوب) کی تحقیق
70947حدیث سے متعلق مسائل کا بیانمتفرّق مسائل

سوال

کیادرج ذیل روایت کی سند درست ہے؟ اور کیا اس حدیث مبارکہ کوبیان کیا جا سکتا ہے؟;وعن أبي الدرداء قال:قال رسول الله صلى الله عليه و سلم: إن الله تعالى يقول: أنا الله لا إله إلا أنا مالك الملوك وملك الملوك، قلوب الملوك في يدي، وإن العبادإذا أطاعوني حولت قلوب ملوكهم عليهم بالرحمة والرأفة، وإن العباد إذا عصوني حولت قلوبهم بالسخطة والنقمة، فساموهم سوء العذاب فلاتشغلوا أنفسكم بالدعاء على الملوك، ولكن اشغلواأنفسكم بالذكر والتضرع كي أكفيكم ملوككم;.رواه أبو نعيم في;الحلية;. (مشكاة المصابيح)

ترجمہ : حضرت ابودرداء کہتے ہیں کہ رسولِ کریم ﷺ نے فرمایا: ’’اللہ تعالیٰ (حدیثِ قدسی ) میں ارشاد فرماتا ہے کہ میں اللہ ہوں، میرےسوا کوئی معبود نہیں، میں بادشاہوں کا مالک اور بادشاہوں کا بادشاہ ہوں، بادشاہوں کے دل میرے ہاتھ (یعنی میرے قبضہ قدرت ) میں ہیں؛ لہٰذا جب میرےبندے میری اطاعت و فرماں برداری کرتے ہیں تو میں ان کے حق میں (ظالم ) بادشاہوں کے دلوں کورحمت وشفقت کی طرف پھیر دیتا ہوں اور جب میرے بندے میری نافرمانی کرتے ہیں تو میں ان کے حق میں (عادل ونرم خو) بادشاہوں کے دلوں کو غضب ناکی اور سخت گیری کی طرف پھیر دیتا ہوں جس کا نتیجہ یہ ہوتا کہ وہ(بادشاہ ) ان کو سخت عقوبتوں میں مبتلا کرتےہیں، اس لیے (ایسی صورت میں ) تم اپنے آپ کو ان بادشاہوں کے لیے بدعا کرنے میں مشغول نہ کرو، بلکہ (میری بارگاہ میں تضرع وزاری کر کے اپنے آپ کو (میرے ) ذکر میں مشغول کرو، تاکہ میں تمہارے ان بادشاہوں کے شر سے تمہیں بچاؤں ۔‘‘ اس روایت کو ابونعیم نے اپنی کتاب ’’حلیۃ الاولیاء‘‘ میں نقل کیا ہے‘‘۔

o

یہ روایت اگر چہ سندا ضعیف ہے جیساکہ علامہ البانی رحمہ اللہ تعالی نے سلسلہ احادیث ضعیفہ میں لکھا ہے،لیکن اس کے متن کے مضمون میں کوئی بات خلاف نصوص نہیں، بلکہ اس کا پورا مضمون دیگر صریح وصحیح نصوص سے ثابت ہے ،لہذا اس روایت کے مضمون کو بطور حدیث بیان کیا جاسکتا ہے،البتہ الفاظ حدیث کے بارے میں احتیاط یہ ہے کہ انہیں بطور حدیث بیان نہ کیا جائے۔

حوالہ جات

۔۔۔۔۔۔۔

نواب الدین

دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی

۲۰جمادی الاولی ۱۴۴۲ھ

n

مجیب

نواب الدین صاحب

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / سعید احمد حسن صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔