021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
ایک بیوہ،ایک بیٹی اور دو بیٹوں میں تقسیم وراثت
77712میراث کے مسائلمیراث کے متفرق مسائل

سوال

کیا فرماتے ہیں علماء کرام اور مفتیان عظام ان مسائل کے بارے میں:

مسئلہ نمبر1:ایک دکان جس میں سونے کی صورت میں ملکیت تھی،مرحوم کی وفات کے بعد(والد مرحوم کی تاریخ انتقال 5-4-1993 )اسی کاروبارسے ایک اور دکان کرلی اور پھر دونوں بھائیوں نے آپس میں دکانوں کا سونا بانٹ لیا،جبکہ ورثہ میں ایک بیوہ،ایک بیٹی اور دو بیٹے ہیں۔

 مسئلہ نمبر 2:مرحوم نے اپنے کاروبارکا لائسنس کسی کو ٹھیکے پردیا تھا،وہ500ریال عمانی ماہانہ دیاکرتا تھا04-05-93 سے 22-09-2001تک اور پھرمرحوم کی وفات کےبعد اسی کاروبار کووسیع کیا اور پھر 1997سے2000تک 500 ریال اوربڑھائے تقریبا" تین سالوں تک اور پھر22-09- 2001 کو کاروبار بند کرکے لائسنس واپس کردیا،جبکہ ورثہ میں۔1 بیوہ،1 بیٹی،2 بیٹے ہیں۔

 مسئلہ نمبر 3: 2 مکان عمان میں تھے جن کا کرایہ650+50=700 ریال ماہانہ ملتے تھے،اس میں بہن کوبھی دیتے تھے۔

مسئلہ نمبر 4: کراچی میں ایک مکان تھا صدر میں جس کی تمام آمدنی کرایہ اور رسید پلٹائی بھی ملا کرتا تھا،اس میں بہن کو کچھ نہیں دیتے تھے،جبکہ ورثہ میں۔1 بیوہ،1 بیٹی،2 بیٹے ہیں۔

مسئلہ نمبر 5:کراچی میں ایک فلیٹ بھی مرحوم نےخرید رکھا تھاجومرحوم کی وفات کےبعد کرائے پر بھی دیاگیاتھا؟اس میں بھی بہن کو نہیں دیا گیا تھا، جبکہ ورثہ میں۔1 بیوہ،1 بیٹی،2 بیٹے ہیں۔

o

۱ ،۳،۴،۵:مرحوم نے وفات کے وقت اپنی ملکیت میں کسی بھی صورت میں جو کچھ بھی توڑی بہت منقولہ وغیر منقولہ املاک(نقدرقم،سونا،چاندی،جائیداد وغیرہ) چھوڑی ہیں وہ سب اس کا ترکہ  اورتمام ورثاء کا حق ہے جو اس کے تمام شرعی ورثاء کے درمیان شرعی حصص کے مطابق تقسیم ہوگا،میراث کی تقسیم کا طریقہ یہ ہے کہ پہلے ترکہ میں سے میت کی تجہیز وتکفین کا خرچ الگ کیا جائے گا، بشرطیکہ کسی وارث وغیرہ نے اپنی طرف سے یہ خرچ نہ کیا ہو،اس کے بعد میت کے ذمہ واجب شرعی حقوق قرض وغیرہ اگر ہو تو اس کی ادائیگی کی جائے گی، اس کے بعداگر اس نے کسی قسم کی کوئی  جائز وصیت کی ہو تو ایک تہائی ترکہ میں سے اس کی ادائیگی لازم ہوگی، ان سب کے بعد سب سے پہلے  میت کی زوجہ کا آٹھواں حصہ(12٫5فیصد) الگ کیا جائے گا اور اس کے بعد باقی مال پانچ برابر حصوں میں تقسیم کیا جائے گا، جن میں سے ہر ایک بیٹے کو دو حصے(35فیصد) اور  بیٹی کو ایک حصہ (17٫5فیصد) دیا جائے گا۔

واضح رہے کہ (۱)اب تک جن ورثاءنےتقسیم  سے قبل جائیداد اور اس کے منافع میں سے جس قدر مالیت وصول کرلی ہے تقسیم ترکہ کے دوران ملنے والے حصوں سے ان کو منہا کیا جائے گا، لہذا بھائیوں یا بہن وغیرہ کسی بھی وارث نےتقسیم سےقبل اگر کوئی چیز لے کر استعمال وخرچ کی ہے تو اس کی مالیت اس کے حصہ سے منہا ہوگی۔

 (۲)اسی طرح جس دوکان میں مرحوم نے جس قدر سونے کی صورت میں ملکیت چھوڑی تھی وہ دونوں تو یقینا سب ورثاء کا حق ہے ،لہذاان کی مالیت  تو ترکہ میں تقسیم ہی ہوگی ،اس کے ساتھ جو منافع نئی دوکان اور اس دوکان کے منافع کی صورت میں دونوں بھائیوں نے دیگر ورثاءکی اجازت کے بغیر حاصل کئےہیں وہ بھی دیانۃ  ترکہ میں تقسیم کرنا ضروری ہیں۔(احسن الفتاوی:ج۹،ص۲۸۵)

(۳) رسید پلٹائی سے مراد اگر پگڑی کی دوکان پر رسید بدلوائی  کی رقم لینا ہے،تو یہ جائز نہیں، اصل کرایہ کے علاوہ پگڑی یا رسید پلٹائی کی رقم ارباح فاسدہ کے حکم میں ہیں،لہذاان کا بلا نیت ثواب صدقہ کرنا لازم ہے۔

۲۔کاروبار کا لائسنس کرایہ یا ٹھیکہ پر دینا چونکہ جائز نہیں،لہذا اس سے حاصل شدہ نفع حرام مال ہے،جس کا اصل مالک کو لوٹانا ضروری ہے،مالک معلوم نہ ہوتو اس کی طرف سے صدقہ کرنا واجب ہے،لہذاان منافع میں  بھی وارثت جاری نہ ہوگی۔

حوالہ جات

العقود الدرية في تنقيح الفتاوى الحامدية (1/ 93)
ومما يناسب هذا المقام ما كتبته في حاشيتي رد المحتار على الدر المختار في آخر كتاب المزارعة نقلا عن التتارخانية وغيرها مات رجل وترك أولادا صغارا وكبارا وامرأة والكبار منها أو من امرأة غيرها فحرث الكبار وزرعوا في أرض مشتركة أو في أرض الغير كما هو المعتاد والأولاد كلهم في عيال المرأة تتعاهدهم وهم يزرعون ويجمعون الغلات في بيت واحد وينفقون من ذلك جملة قال صارت هذه واقعة الفتوى واتفقت الأجوبة أنهم إن زرعوا من بذر مشترك بينهم بإذن الباقين لو كبارا أو أذن الوصي لو صغارا فالغلة مشتركة وإن من بذر أنفسهم أو بذر مشترك بلا إذن فالغلة للزراعين اهـ فاغتنم هذه الفائدة.
وھذاونقل المؤلف عن الفتاوى الرحيمية سئل عن مال مشترك بين أيتام وأمهم استربحه الوصي للأيتام هل تستحق الأم ربح نصيبها أو لا أجاب لا تستحق الأم شيئا مما استربحه الوصي بوجه شرعي لغيرها كأحد الشريكين إذا استربح من مال مشترك لنفسه فقط ويكون ربح نصيبها كسبا خبيثا ومثله سبيله التصدق على الفقراء اهـ
(أقول) أيضا ويظهر من هذا ومما قبله حكم ما لو كان المباشر للعمل والسعي بعض الورثة بلا وصاية أو وكالة من الباقين.
البناية شرح الهداية (8/ 460)
(فيكون سبيله التصدق في رواية) ش: عن أبي حنيفة - رحمه الله - م: (ويرده عليه) ش: أي على الأصيل.م: (في رواية) ش: أخرى عن أبي حنيفة، فإن رده على الأصيل فإن كان الأصيل فقيرا طاب له، وإن كان غنيا ففيه روايتان في كتاب الغصب. قال فخر الإسلام في "شرح الجامع الصغير ": والأشبه أي يطب له، لأنه إنما يرده عليه على أنه حقه م: (لأن الخبث لحقه) ش: أي لحق الأصيل لا لحق الشرع.م: (وهذا أصح) ش: أي الرد، لأن يرد الربح على المكفول عنه أصح من القول بالتصدق م: (لكنه استحباب) ش: أي لكن الرد عليه مستحب، لأن الملك لكفيل م: (لا جبر، لأن الحق له)ش: أي لا يجبر على دفعه إلا أنه لما تمكن الخبث يستحب الدفع إليه، بخلاف الربح في الغصب حيث يجبر الغاصب على الدفع لأنه لا حق للغاصب في الربح.
الفتاوى الهندية (3/ 211)
من اشترى جارية بيعا فاسدا وتقابضا وباعها وربح فيها يتصدق بالربح، وإن اشترى البائع بالثمن شيئا وربح فيه طاب له الربح لأن الجارية مما يتعين بالتعيين فيتعلق العقد بها فيؤثر الخبث في الربح والدراهم والدنانير لا تتعينان في العقود فلم يتعلق العقد الثاني بعينها فلم يؤثر الخبث فيه وهذا إنما يستقيم على الرواية الصحيحة وهي أنها لا تتعين كذا في العناية هذا في الخبث الذي لفساد الملك، وإن كان الخبث لعدم الملك كالغصوب والأمانات إذا خان فيها المؤتمن فإنه يشمل ما يتعين وما لا يتعين عند أبي حنيفة ومحمد رحمهما الله تعالى كذا في التبيين.

نواب الدین

دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی

۱۰صفر۱۴۴۴ھ

n

مجیب

نواب الدین

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔