021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
برے لوگوں کے لئے بد دعا کاحکم
77802ذکر،دعاء اور تعویذات کے مسائلرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر درود وسلام بھیجنے کے مسائل ) درود سلام کے (

سوال

ایک شخص کہتا ہے کہ لوگوں کے ساتھ دعا کے ذریعے جہاد کر یں ۔ وہ شخص برے لوگوں کے لیے بد دعا کی ترغیب دیتا ہے ۔پوچھنا یہ تھا کہ اس طرح کی بد دعا کرنا کیسا ہے ؟ جائز ہے یا ناجائز؟ مزید یہ کہ لوگوں کو اس طرح کی بد دعا کی ترغیب دینا اور اس کا پر چار کر ناشر عاکیسا ہے ؟ بد دعا کے الفاظ مندرجہ ذیل ہیں:

برے لوگوں سے دعا کے ساتھ جہاد کرنا

تمام تعریفیں اللہ تعالی کی ہیں۔ اللہ تعالی کل کائنات کا مالک ہے ، خالق ہے ، رازق ہے ۔ اللہ تعالی کے حکم کے بغیر ایک پتا بھی حرکت نہیں کر تا۔ تو پھر کیوں نہ ہم ظالموں کے ساتھ جہاد ان دعاوں کے ساتھ کر یں ،مظلوم کی دعاضر ورقبول ہوتی ہے ۔

اے اللہ ، جو لوگ عدل کی کرسی پر بیٹھ کر عدل نہیں کرتے انہیں ہدایت دے ، ہدایت دے ، ہدایت دے ، اگریہ لوگ کسی صورت بھی ہدایت کی طرف نہیں آتے تو انہیں اللہ کی مخلوق کے لئے عبرت کا نشان بنا جنہیں دیکھ کے عبرت حاصل ہو۔ اے اللہ جو لوگ جھوٹ کے سوداگر ہیں ، سچ کو جھوٹ بناتے ہیں اور جھوٹ کو سچ ، اور اپنے اہل و عیال کے لیےحرام رزق حاصل کرتے ہیں ، انہیں ہدایت دے ، اگر یہ لوگ کسی صورت بھی ہدایت کی طرف نہیں آتے تو انہیں اللہ کی مخلوق کے لئے عبرت کا نشان بنا جنہیں دیکھ کے عبرت حاصل ہو۔

اے اللہ جو لوگ رشوت خوری کرتے ہیں انہیں ہدایت دے ، اگر یہ لوگ کسی صورت بھی ہدایت کی طرف نہیں آتے تو انہیں اللہ کی مخلوق کے لئے عبرت کا نشان بنا جنہیں دیکھ کے عبرت حاصل ہو۔

اے اللہ جولوگ سرکاری اداروں میں کر پشن کر تے ہیں انہیں ہدایت دے ، اگر یہ لوگ کسی صورت بھی ہدایت کی طرف نہیں آتے تو انہیں اللہ کی مخلوق کے لئے عبرت کا نشان بنا جنہیں دیکھ کے عبرت حاصل ہو۔

جو لوگ اللہ تعالی کا دیا ہوا قانون نظر انداز کر کے اپنے مفاد کا قانون بناتے ہیں اور ایسے ظالم قوانین سے غریبوں کے ہاتھ سے لقمہ چھین کر خود کھاتے ہیں ، انہیں ہدایت دے ، اگر یہ لوگ کسی صورت بھی ہدایت کی طرف نہیں آتے توانہیں اللہ کی مخلوق کے لئے عبرت کا نشان بنا جنہیں دیکھ کے عبرت حاصل ہو

o

قرآن  کریم  اوراحا دیث  مبارکہ  میں دعا مانگنے کی بہت  ترغیب آئی  ہے ، اوررسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا   مانگنے کو عبادت کا  مغز  فرما یا  ہے،نیز  رسول اللہ صلی  اللہ  علیہ وسلم  صحابہ  تابعین  ،ائمہ  دین رحمہ اللہ ،اورعلماء کاسلفا و خلفا ہمیشہ  سے  یہی  معمول  چلا آرہا  ہے  کہ وہ  اپنی ذات  کے علاوہ  امت  کے حق  میں  بھی بکثرت دعا  مانگتے ہیں  ۔  کیونکہ دوسروں  کے حق میں  دعا کرنے میں انسان  کا  اپنا  بھی  فائدہ  ہے کہ فرشتے   اس کے حق  میں قبولیت کی دعا کرتے ہیں ۔   

کافروں  اور ظالموں کے حق میں عمومی بد دعا کرنا  اور لعنت بھیجنا   ،جیسے لعنة  اللہ  علی  الظالمین ،لعنة اللہ  علی  الکاذبین  وغیرہ  تو جائز ہے ۔لیکن کسی  ظالم ،فاسق  وفاجر   کے حق  میں خاص  اس  کا نام  لیکر اس پر  لعنت  بھیجنا  شرعا  جائز نہیں ۔  الا یہ کہ  اس  کی  کفر پر موت  یقینی  ہو ،جیسے فرعون  ،ہامان ،ابوجہل ،ابو لہب  وغیرہ ۔

ا لبتہ کسی کا صرف  دوسروں  کے حق میں بد دعا  کرنے کو  اپنا  مشغلہ  بنا  لینا کہ  خود بھی  بد دعا  کرتارہے اور  دوسروں  کو  بدعا  کرنے کی ترغیب دے اور اس کے لئے  باقا عدہ مستقل مہم چلائے ،یہ عمل  درست  نہیں ،اس کی  بجائے  دعا  خیر کی  عادت  بنانا  چاہئے،اور اسی کی  دوسروں  کو  بھی ترغیب  دی جائے ۔

مظلوم کو  بھی چاہئے  کہ  ظالم کے لئے  بد دعا  کی بجائے  ظلم سے  حفا ظت  کی دعا  کرے۔ کہ اللہ  تعالی اس ظالم کے شر سے  حفاظت فرمائے ۔ 

حوالہ جات

{وَقَالَ رَبُّكُمُ ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ إِنَّ الَّذِينَ يَسْتَكْبِرُونَ عَنْ عِبَادَتِي سَيَدْخُلُونَ جَهَنَّمَ دَاخِرِينَ (60)} [غافر: 60]    
{وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرَى عَلَى اللَّهِ كَذِبًا أُولَئِكَ يُعْرَضُونَ عَلَى رَبِّهِمْ وَيَقُولُ الْأَشْهَادُ هَؤُلَاءِ الَّذِينَ كَذَبُوا عَلَى رَبِّهِمْ أَلَا لَعْنَةُ اللَّهِ عَلَى الظَّالِمِينَ (18) } [هود: 18، 19]
سنن الترمذي (5/ 124)
أنس بن مالك عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " الدعا مخ العبادة "
سنن الترمذي لمحمد الترمذي (4/ 352)
عن عبد الله بن عمرو عن النبي صلى الله عليه و سلم قال ما دعوة أسرع إجابة من دعوة غائب لغائب
سنن البيهقي الكبرى (3/ 353)
حدثتني أم الدرداء قالت حدثني سيدي أنه سمع رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول من دعا لأخيه بظهر الغيب قال الملك الموكل به آمين ولك بمثل رواه مسلم في الصحيح عن إسحاق بن إبراهيم
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (1/ 524)
في البحر عن فتاوى الحجة: لو قال اللهم العن الظالمين لا يقطع صلاته، ولو قال اللهم العن فلانا يعني ظالمه يقطع الصلاة. اهـ. أي لأنه دعاء بمحرم وإن استحال من العباد فصار كلاما، أو لأنه غير مستحيل بدليل - {أن عليهم لعنة الله والملائكة والناس أجمعين} [آل عمران: 87]- وأما اللعنة على الظالمين فهي في القرآن فافهم۔

احسان اللہ شائق عفا اللہ عنہ    

 دارالافتاء جامعة الرشید     کراچی

۲۰  صفر ١۴۴۴ھ

n

مجیب

احسان اللہ شائق صاحب

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔