021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
کم عمر لڑکی سے نکا ح کا حکم
77993نکاح کا بیانجہیز،مہر اور گھریلو سامان کا بیان

سوال

گزارش ہے کہ مجھے  ریٹن فتوی چاہیے.  جس میں آپ لڑکے اور لڑکی کے نام اور باقی ڈیٹیل کے ساتھ انہیں نکاح کرنے  کا فتوی دیں.  میری عمر 24 سال سے 25 سال ہے لڑکی کی عمر 13 سال ہیں اور دونوں خاندان اپنی باہمی رضامندی سے اپنے بچوں کا نکاح کرنا چاہتے ہیں.  لڑکے کے خاندان میں  کچھ لوگوں  کی رضامندی شامل ہو گئی اس وقت جب ان کو کسی آفیشل دارالافتاء سے فتوی لکھا ہوا باقاعدہ وہ دکھایا جائے تب وہ سب راضی ہو جائیں گے،کہ  نکاح بالکل جائز ہے. آپ سے ریکویسٹ ہے ایک آفیشل ریٹن فتوی لکھ دیا جائے، جس میں لڑکے اور لڑکی کی ڈیٹیل کے ساتھ یہ بتایا جائے کہ ان کا نکاح جائز ہے۔ جبکہ دونوں خاندان لڑکی کے ولی اور باقی سب بھی راضی ہوں لیکن ان کی تسلی کے لیے یہ ضروری ہے اور یہ اس میں بہت اہم کردار ادا کرے گا اور دونوں خاندانوں کے جوڑ کا سبب بنے گا

.  نوٹ؛لڑکے کا نام محمد حمزہ ہے والد کا نام محمد یاسین شہزاد عمر 24 سے 25 سال   ہے.  لڑکی کا نام عائشہ .شکور بنت

عبد الشکور ہے .عمر 13 سال ہے



 

o

24 سالہ محمدحمزہ  ولدمحمد  یاسین  شہزاد   کا نکاح   13سالہ  عائشہ بنت عبد  الشکور  کے ساتھ جائز ہے ،بالخصوص  جبکہ  لڑکی  کے اولیا ء  مصلھت  کے مطابق  سمجھتے  ہوئے  اس پر راضی ہوں ۔

 البتہ   13سال  کی لڑکی عموما  کم عمری کی وجہ سے گھر سنبھالنے کے قابل نہیں  ہوتی ،نیز دوسرے  خاندان  کے رسم ورواج   بود  وباش،اور مزاج کوسمجھنا  دشوار ہوتا ہے، جس کی  وجہ سے بسا اوقات   لڑائی جھگڑے  اور بعض اوقات   طلاق تک نو بت پہنچ جاتی ہے ، اس لئے بہتر یہ ہوتا  ہے  کہ  لڑکی  کی عمر  17، 18 ہوجانے  کے بعد   شادی کی جائے ، اوراس  سے پہلے گھر   سنبھالنے  ،کھانا  بنانے  شوہر اور اس کے  والدین  کا دل  خوش کرنے  کا سلیقہ اور تدابیر بتاکر  تربیت  کی جائے ۔

البتہ اگر رخصتی اس عمر  کے بعد کی جائے ،اور  نکاح کسی مصلحت سے  پہلے کیاجائے  تو اس میں شرعا  کوئی حرج  نہیں ،

قانونا اگر چہ   ١۸ سال  سے پہلے نکاح  منع ہے ،لیکن  شرعا  یہ قانون  معتبر  نہیں ۔

حوالہ جات

1۔أحكام القرآن للجصاص (2/ 346)
قوله تعالى واللائي يئسن من المحيض من نسائكم إن ارتبتم فعدتهن ثلاثة أشهر واللائي لم يحضن فحكم بصحة طلاق الصغيرة التي لم تحض والطلاق لا يقع إلا في نكاح صحيح فتضمنت الآية جواز تزويج الصغيرة ويدل عليه أن النبي ص - تزوج عائشة وهي بنت ست سنين زوجها إياه أبو بكر الصديق رضي الله عنه
2۔أحكام القرآن للجصاص (2/ 346)
في هذه الآية دلالة أيضا على أن للأب تزويج ابنته الصغيرة من حيث دلت على جواز تزويج سائر الأولياء إذ كان هو أقرب الأولياء ولا نعلم في جواز ذلك خلافا بين السلف والخلف من فقهاء الأمصار

احسان اللہ شائق عفا اللہ عنہ    

 دارالافتاء جامعة الرشید     کراچی 

۸ربیع  الاول ١۴۴۴ھ

n

مجیب

احسان اللہ شائق

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے