| 84246 | خرید و فروخت کے احکام | خرید و فروخت کے جدید اور متفرق مسائل |
سوال
ایک کمپنی جس کا نام ہے اومنی سٹاک جو باہر ملک میں ہے ۔پاکستان میں لوگ آئن لائن اس میں شراکت کرتے ہیں، پیسہ انویسمنٹ کرتے ہیں ۔ اس میں اپنی استطاعت کے مطابق پیسہ لگا سکتے ہیں ۔ شروع میں اکاؤنٹ کھولنے کے لیے چار چھ ہزار لیتے ہیں ۔پھر استطاعت کے مطابق دس ،بیس، پچاس ہزار کے آئن لائن شئیر خرید کر کمپنی کو دے دیتے ہیں ۔ پھر کمپنی ان پیسوں کو آگے کہیں لگا دیتی ہے ہمیں وقتاً فوقتاً کچھ نا کچھ نفع دیتی رہتی ہے ۔۔مزید آپ کو شاید اس کمپنی کے متعلق معلومات ہوگی ۔ ہمیں کچھ لوگوں نے ترغیب دی یہ بہت فائدہ مند کاروبار ہے ہم تو کافی کما رہے ہیں آپ بھی یہ کام شروع کر دیں ۔ اور ساتھ کہا ایک مفتی صاحب نے اسے جائز کہا ۔ بہرحال جب ہمارا دل مطمئن ہوگا کہ واقع شرعاً یہ درست ہے تو تب ہم شروع کریں گے ۔ آپ ہماری رہنمائی فرمائیں یہ شرعاً درست ہے یا نہیں؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
مذکورہ کمپنی کی ویب سائٹ سے اس کمپنی کے بارے میں جو معلومات حاصل ہوئی ہیں ان سے پتا چلتا ہے کہ یہ کمپنی مختلف ممالک کی اسٹاک ایکسچینجز میں انویسٹمنٹ کرتی ہے اور اس کے ذریعہ سے اپنے ممبران کو منافع فراہم کرتی ہے، جو کہ ایک میوچول فنڈ کمپنی کے طور پر کام کرتی ہے۔
اسٹاک ایکسچینج میں شیئرز کی خریدوفروخت اگر مندرجہ ذیل شرائط کا لحاظ رکھ کر کی جائےتوجائزہے، ورنہ نہیں۔
:1جس کمپنی کے شیئرز کی خرید و فروخت کی جارہی ہو، خارج میں اس کمپنی کا وجود ہو، صرف کاغذی طور پر رجسٹرڈ نہ ہو۔
:2اس کمپنی کے کل اثاثے صرف نقد کی شکل میں نہ ہوں، بلکہ اس کمپنی کی ملکیت میں جامد اثاثے بھی موجود ہوں۔
3:کمپنی کا کل یا کم از کم اکثر سرمایہ حلال ہو۔
4 :کمپنی کا کاروبار جائز ہو، حرام اشیاء کے کاروبار پر مشتمل نہ ہو۔
:5شیئرز کی خرید و فروخت میں، خرید و فروخت کی تمام شرائط کی پابندی ہو۔ (مثلاً: شیئرز خریدنے کے بعد وہ مکمل طورپرخریدار کی ملکیت میں آجائیں، اس کے بعد انہیں آگے فروخت کیا جائے، خریدار کی ملکیت مکمل ہونے اور قبضے سے پہلے شیئرز آگے فروخت کرنا جائز نہیں ہوگا، اسی طرح فرضی خریدوفروخت نہ کی جائے۔)
مذکورہ بالا شرائط کی رعایت کرتے ہوئے اگر شیئرز کا کاروبار کیا جائے تو جائز ہوتا ہے، اور شرائط کا لحاظ نہ رکھنے کی صورت میں یہ کاروبار جائز نہیں ہوتا۔
لہذا " اومنی اسٹاکOMINI STOCK "کمپنی جوکہ انگلینڈ میں رجسٹر ہے، اگر مذکورہ بالا شرائط کا لحاظ رکھتے ہوئے سرمایہ کاری کرتی ہے تو اس میں اپنا پیسہ لگانا جائز ہوگا، ورنہ نہیں۔
بہرصورت ا یسی اون لائن کمپنیوں میں انوسٹمینٹ کرنے اور کاروبار سے اجتناب ہی بہتر ہے، خصوصًا جب کہ مذکورہ کمپنی مختلف کافر ممالک کے اسٹاک ایکسچینجز میں سرمایہ کاری کرتی ہے، جس میں اکثر کمپنیوں کے شیئرز حرام آمدنی یا سودی یا ناجائز کاروبار وغیرہ پر مشتمل ہوتے ہیں، اور ان ناجائز چیزوں سے احتیاط کرنا ایک کافر کمپنی کی طرف سے نہایت ہی مشکل معلوم ہوتا ہے، اس لیے اس میں سرمایہ کاری سے اجتناب کرنا ہی لازم ہے۔
حوالہ جات
رد المحتار، على الدر المختار،باب بيع الفاسد،ج:5،ص:50:
وبطل بيع مال غير متقوم كخمر وخنزير فإن المتقوم هو المال المباح الانتفاع به شرعا
سنن الترمذي ت شاكر (3/ 527) باب ما جاء في كراهية بيع ما ليس عندك:
ذكر عبد الله بن عمرو أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: «لا يحل [ص:528] سلف وبيع، ولا شرطان في بيع، ولا ربح ما لم يضمن، ولا بيع ما ليس عندك»: وهذا حديث حسن صحيح.
بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (6/ 120)باب الهبه، فصل في شرائط ركن الهبة:
يجوز بيع المشاع وكذا هبة المشاع فيما لا يقسم وشرطه هو القبض والشيوع لا يمنع القبض لأنه يحصل قابضا للنصف المشاع بتخلية الكل ولهذا جازت هبة المشاع فيما لا يقسم وإن كان القبض فيها شرطا لثبوت الملك كذا هذا.
بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (5/ 180)فصل في شرائط الصحة في البيوع:
(ومنها) القبض في بيع المشتري المنقول فلا يصح بيعه قبل القبض؛ لما روي أن النبي - صلى الله عليه وسلم - «نهى عن بيع ما لم يقبض» ، والنهي يوجب فساد المنهي؛ ولأنه بيع فيه غرر الانفساخ بهلاك المعقود عليه؛ لأنه إذا هلك المعقود عليه قبل القبض يبطل البيع الأول فينفسخ الثاني؛ لأنه بناه على الأول، وقد «نهى رسول الله - صلى الله عليه وسلم - عن بيع فيه غرر»
الهداية في شرح بداية المبتدي (3/ 238)باب الإجارة الفاسدة:
تسليم المشاع وحده لا يتصور، والتخلية اعتبرت تسليما لوقوعه تمكينا وهو الفعل الذي يحصل به التمكن ولا تمكن في المشاع، بخلاف البيع لحصول التمكن فيه، وأما التهايؤ فإنما يستحق حكما للعقد بواسطة الملك، وحكم العقد يعقبه والقدرة على التسليم شرط العقد وشرط الشيء يسبقه، ولا يعتبر المتراخي سابقا۔
شرح مشكلات القدوري،ج:1،ص:541:
ومن اشترى شيئًا مما ينقل، ويحوّل لم يجز له بيعه حتى يقبضه)، لما روي عن رسول اللّه صلى الله عليه وسلم "أنه نهى عن بيع ما لم يقبضه"
عبدالرحمٰن جریر
دارالافتاء جامعۃ الرشید،کراچی
08/محرم الحرام/1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمدعبدالرحمن جریر بن محمد شفیق | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


