| 84467 | خرید و فروخت کے احکام | دین )معاوضہ جو کسی عقدکے نتیجے میں لازم ہوا(کی خرید و فروخت |
سوال
ڈراپ شپنگ کا شرعی حکم کیا ہے ؟ دوسری صورت یہ کہ ایک آدمی ایمازون میں ڈراپ شپنگ کے طریقے سے صرف کمیشن لیتا ہے لیکن کاروبار اور خرید اور فروخت نہیں کرتا۔ نیز یہ اپنے اکاؤنٹ میں لکھتا ہے کہ میں ڈراپ شپنگ میں منافع (بطور کمیشن) لیتا ہوں ، یعنی یہ ایک وکیل بن کر کوئی چیز منگواتا ہے اور بعد میں وہی چیز اپنے اکاؤنٹ کے ذریعے اگلے گاہک کو دیتا ہے اور بطور وکالت نفع ( کمیشن لیتا ہے ، لیکن منافع کی مقدار ظاہر نہیں کرتا۔ اور یہ شخص اپنا سرمایہ انویسٹ نہیں کرتا۔ کیا یہ صورت جائز ہے یا نہیں؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
ڈراپ شپنگ( drop shipping) کاکاروبار بیع قبل القبض (قبضے سے پہلے فروخت کرنا) کی صورت ہے، جو کہ شرعا جائز نہیں، احادیث مبارکہ میں اس سے ممانعت وارد ہوئی ہے، البتہ اس کے جواز کی دو صورتیں ہو سکتی ہیں:
(الف) ایک صورت یہ ہو سکتی ہے کہ ڈراپ شپنگ کا کاروبار کرنے والا (سائل) معاملہ کی ابتداء میں اپنے گاہک کو یہ نہ کہے کہ یہ چیز میں آپ کو بیچ رہا ہوں بلکہ یہ کہے کہ یہ چیز بیچنے کا معاہدہ کرتا ہو، اس طرح یہ بیع نہیں بلکہ وعدہ بیع ہو جاتا ہے ، اور اس وقت رقم لینا ہامش جدیہ (پیشگی ادائیگی) کے طور پر درست ہو گا، پھر وہ ہول سیلر / دکاندار سے مطلوب آئٹم خرید کربذات خود یا وکیل کے ذریعہ حسی یا معنوی قبضہ میں اس طور پر لے کہ وہ سائل کے ضمان (risk) میں آجائے ، تب وہ خریدار کو فروخت کر کے ڈلیور کر دے۔
(ب) دوسری جائز متبادل صورت وکالت / دلال (brokerage) کی ہے جس میں سائل گاہک سے باقاعدہ عقد وکالت کرے ، اور اپنی محنت کی فیصدی یا متعین اجرت طے کرے ،اس کے بعداس سے آرڈر لے اور مطلوبہ چیز ہول سیلر یاد کاندار سے خرید کر گاہک تک پہنچائے یا وہ ہول سیلر / دکاندار خود پہنچادے ، تو اس صورت میں اصل بائع وہ ہول سیلر / دکاندار ہو گا اور سائل کی حیثیت ایک وکیل یا (middle man) کی ہوگی،جو شریعت میں ایک قابل عوض محنت ہے جس پر مقررہ متعین یا فیصدی اجرت لینا شرعاً جائز ہے۔
سوال میں مذکور دوسری صورت سے متعلق حکم یہ ہے کہ ڈراپ شپنگ کے تحت بطور وکیل کام کرنے والے کے لیے ضروری ہے کہ رسک (بشرطیکہ ایجنٹ کی غفلت کی وجہ سے نہ ہو )موکل اور پرنسپل برداشت کرے ، نیز یہ کہ وہ گاہک کے ساتھ باقاعدہ عقد وکالت کر کے اپنی محنت کی اجرت/ کمیشن متعین کرلے ، چنانچہ بطور وکیل کام کرتے ہوئے گاہک کے ساتھ کمیشن یا (منافع جیسے سوال میں پوچھا گیا)کی مقدار واضح طور پر طے کرنا ضروری ہے ، اگر کمیشن کی مقدار واضح طور پر بیان نہیں کی گئی تو یہ معاملہ فاسد ہو جائے گا ۔لہذا اس سے اجتناب ضروری ہے ۔
حوالہ جات
بدائع الصنائع، كتاب البيوع، فصل واماالذي يرجع الي المعقود عليه، ج:7ص:35):
وَمِنْهَا وهو شَرْطُ انْعِقَادِ الْبَيْعِ لِلْبَائِعِ أَنْ يَكُونَ مَمْلُوكًا لِلْبَائِعِ عِنْدَالْبَيْعِ فَإِنْ لم يَكُنْ لَا يَنْعَقِدْ وَإِنْ مَلَكَهُ بَعْدَ ذلك بِوَجْهٍ من الْوُجُوهِ إلَّا السَّلَمَ خَاصَّةً وَهَذَا بَيْعُ ما ليس عِنْدَهُ وَنَهَى رسول اللَّهِ صلى اللَّهُ عليه وسلم عن بَيْعِ ما ليس عِنْدَ الْإِنْسَانِ وَرَخَّصَ في السَّلَمِ۔۔۔(ومنها) القبض في بيع المشتري المنقول فلا يصح بيعه قبل القبض؛ لما روي أن النبي - صلى الله عليه وسلم - «نهى عن بيع ما لم يقبض۔۔۔(ومنها) القبض في بيع المشتري المنقول فلا يصح بيعه قبل القبض؛ لما روي أن النبي - صلى الله عليه وسلم - «نهى عن بيع ما لم يقبض
كما في الهداية (34/3):
قال ولا يجوز بيع السمك قبل ان يصطاد ) لانه باع مالا يملكه ، ولا في حظيرة اذا كان لا يوخذ الابصيد) لانه غير مقدور التسليم، ومعناه اذا اخذه ثم القاه فيها لوكان يوخذ من غير حيلة جاز الا اذا اجتمعت فيها بانفسها ولم يسد عليها المدخل لعدم الملك : قال : ولا بيع الطير فى الهواء) لانه غير مملوك قبل الأخذ وكذا لوارسله من يده لانه غير مقدور التسليم اهـ
المحيط البرهاني في الفقه النعماني (6/ 531)دارالکتب العلمیہ:
يجب أن يعلم أن شراء مالم يره المشتري جائز عندنا، وصورة المسألة: أن يقول الرجل لغيره: بعت منك الثوب الذي في كمي هذا، والصفة كذا، أو الدرة التي في كفي وصفته كذا، أو لم يذكر الصفة، أو يقول: بعت منك هذه الجارية المتبقية۔
اعلاء السنن (16/207) :
وفي التلويح اما قول ابن عباس وابن سيرين واكثر العلماء لا يجيزون هذا لانها وان كانت اجرة سمسرة لكنها مجهولة وشرط جوازها عند الجمهور ان تكون الاجرة معلومة
وفى الشامية (9/107):
قال في التتارخانية وفي الدلال والسمسار يجب اجر المثل وما تواضعوا عليه ان في كل عشرة دنانير كذا فذاك حرام عليهم وفي الحاوي سئل محمد بن سلمة عن اجرة السمسار فقال ارجو انه لا باس به وان كان في الاصل فاسدا ،لكثرة التعامل.
عبدالرحمٰن جریر
دارالافتاء جامعۃ الرشید،کراچی
28/محرم الحرام/1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمدعبدالرحمن جریر بن محمد شفیق | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


