021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
غسل کے دوران وضومیں کلی اورناک میں پانی ڈالنےسے فرض اداء ہوجاتاہے۔
..پاکی کے مسائلغسل واجب کرنے والی چیزوں، فرائض اور ،سنتوں کا بیان

سوال

جسیاکہ کلیاں کرنااورناک میں پانی چڑھاناوضوءمین توسنت ہیں اورغسل میں فرض ہیں تومسنون طریقے سے غسل جنابت کرتے وقت شروع میں جووضوکیاجاتاہے اوراس میں جوکلیاں کی جاتی ہیں ،اورناک میں پانی چڑھایاجاتاہے کیاان کلیوں کے کرنے اورناک میں پانی چڑھائے جانے سے وضوکی سنتیں اورغسل کے فرض ایک ساتھ اکھٹے پورے ہوجاتے ہیں یاپھروضوکے بعد سرپرپانی ڈالنے سے پہلے بطورغسل کے فرض پوراکرنے کے دوبارہ کلیاں کرنااورناک میں پانی چڑھانالازمی ہے ؟

o

وضوکے دوران کلی اورناک میں پانی ڈالنے سے غسل کےفرائض اداہوجاتے ہیں ،الگ سے کرنے کی ضرورت نہیں ہے

حوالہ جات

"الهداية" 1 / 19: وفرض الغسل : المضمضة والاستنشاق وغسل سائر البدن۔ قال : وسنته أن يبدأ المغتسل فيغسل يديه وفرجه ويزيل نجاسة إن كانت على بدنه ثم يتوضأ وضوءه للصلاة إلا رجليه ثم يفيض الماء على رأسه وسائر جسده ثلاثا ثم يتنحى عن ذلك المكان فيغسل رجليه هكذا حكت ميمونة رضي الله عنها اغتسالرسول الله صلى الله عليه و سلم۔ " رد المحتار" 1 / 449: ( قوله : ثم يفيضن ) أتى بثم للإشارة إلى الترتيب ، وإنما لم يقل ثم يتمضمض ويستنشق ثم يفيض للإشارة إلى أن فعلهما في الوضوء كاف عن فعلهما في الغسل ؛ فالسنة نابت مناب الفرض۔
..

n

مجیب

محمّد بن حضرت استاذ صاحب

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔